• صارفین کی تعداد :
  • 3418
  • 3/7/2011
  • تاريخ :

دو کبوتر (حصّہ سوّم)

دو کبوتر

نامہ بر بولا: "ہمیں دیر ہوجائے گی لیکن خیر اگر بہت ہی تهک گیا ہے تو کوئی ہرج نہیں۔" وه ایک درخت پر بیٹه گئے اور ہر طرف نگاه ڈورانے لگے۔ ہرزه دور ایک طرف اشاره کرکے کہنے لگا: " وه جگہ دیکه رہا ہے؟ وہاں سبزه بهی ہے، دانہ بهی ہے۔ چل چلیں اور کهائیں۔"

نامہ بر بولا: " میں دیکه رہا ہوں، سبزه بهی ہے مگر جال بهی ہے۔" ہرزه بولا: " تو بڑا ڈرپوک ہے۔ تو بس یہ سن رکها ہے کہ شکاری سبزہ کہ درمیان دانہ بکهیر دیتے ہیں اور جال پهیلا دیتہ ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر جگہ جال ہو۔

نامہ بر بولا: "نہیں میں ڈرپوک نہیں ہوتا لیکن عقل رکهتا ہوں کہ تپتے جلتے صحرا میں جہاں ہمیشہ گرم ہوا چلتی ہے، سبزه نہیں اگتا اور دانہ پیدا نہیں ہوتا۔ یہ سب شکاری کی کارستانی ہے تا کہ لالچی پرندوں کو جال میں پهانس لے۔

جاری ہے

پیشکش :شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان

 


متعلقہ تحریریں :

رازداری

تیسری نصیحت

مالک اشتر

زہرخوشتر

قوم عاد