• صارفین کی تعداد :
  • 1086
  • 3/5/2011
  • تاريخ :

عاشق ہر جائی (2)

پهول

 

عشق کی آشفتگی نے کر دیا صحرا جسے

مشت خاک ایسی نہاں زیر قبا رکھتا ہوں میں

ہیں ہزاروں اس کے پہلو، رنگ ہر پہلو کا اور

سینے میں ہیرا کوئی ترشا ہوا رکھتا ہوں میں

دل نہیں شاعر کا، ہے کیفیتوں کی رستخیز

کیا خبر تجھ کو درون سینہ کیا رکھتا ہوں میں

آرزو ہر کیفیت میں اک نئے جلوے کی ہے

مضطرب ہوں، دل سکوں نا آشنا رکھتا ہوں میں

گو حسین تازہ ہے ہر لحظہ مقصود نظر

حسن سے مضبوط پیمان وفا رکھتا ہوں میں

بے نیازی سے ہے پیدا میری فطرت کا نیاز

سوز و ساز جستجو مثل صبا رکھتا ہوں میں

موجب تسکیں تماشائے شرار جستہ اے

ہو نہیں سکتا کہ دل برق آشنا رکھتا ہوں میں

ہر تقاضا عشق کی فطرت کا ہو جس سے خموش

آہ! وہ کامل تجلی مدعا رکھتا ہوں میں

جستجو کل کی لیے پھرتی ہے اجزا میں مجھے

حسن بے پایاں ہے، درد لادوا رکھتا ہوں میں

زندگی الفت کی درد انجامیوں سے ہے مری

عشق کو آزاد دستور  وفا رکھتا ہوں میں

سچ اگر پوچھے تو افلاس تخیل ہے وفا

دل میں ہر دم اک نیا محشر بپا رکھتا ہوں میں

فیض ساقی شبنم آسا، ظرف دل دریا طلب

تشنۂ دائم ہوں آتش زیر پا رکھتا ہوں میں

مجھ کو پیدا کر کے اپنا نکتہ چیں پیدا کیا

نقش ہوں، اپنے مصور سے گلا رکھتا ہوں میں

محفل ہستی میں جب ایسا تنک جلوہ تھا حسن

پھر تخیل کس لیے لا انتہا رکھتا ہوں میں

در بیابان طلب پیوستہ می کوشیم ما

موج بحریم و شکست خویش بر دوشیم ما

شاعر کا  نام : علامہ محمد اقبال ( iqbal )

کتاب کا نام : بانگ درا  ( bang e dara )

پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان


متعلقہ  تحریریں:

بانگِ درا کی غزل نمبر (12)

بانگِ درا کی غزل نمبر (11)

بانگِ درا کی غزل نمبر (10)

بانگِ درا کی غزل نمبر (9)

بانگِ درا کی غزل نمبر (8)