• صارفین کی تعداد :
  • 2331
  • 3/5/2011
  • تاريخ :

پیغمبر اسلام (ص) کی شخصیت کے بارے میں دانشمند حضرات کیا کہتے ہیں؟ (حصّہ دوّم)

حضرت محمد (ص)

گوئٹہ

یہ جرمنی کا مشہور و معروف دانشمند، شاعر اور مصنف ہے جس نے جرمنی اور عالمی ادب پر گہرا اثر چھوڑا ہے، وہ اپنی کتاب دیوان شرقی وغربی میں لکھتا ہے:

قران کریم نامی کتاب کے مندرجات ہمیں مجذوب کر دیتے ہیں اور حیرت میں ڈالتے ہیں اور اس بات پر مجبور کر دیتے ہیں کہ ہم اس کی تعظیم کریں۔

جارج برنارڈ شاو

یہ شیکسپیر کے بعد انگلینڈ کا سب سے بڑا مصنف ہے جس کے افکار نے مذھب، علم، اقتصاد، خانوادہ اور ہنر و آرٹ میں مخاطبین پر نہایت گہری چھاپ چھوڑی ہے، جس کے افکار کی متلاطم موجوں نے مغربی معاشرے کی عوام مین روشن فکری کا جذبہ پیدا کر دیا۔ وہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیه و آله)کی عظیم شخصیت کے بارے میں اس طرح لکھتا ہے:

میں ہمیشہ محمد (صلی الله علیه و آله) کے دین کے بارے میں، اس کے زندہ ہونے کی خاصیت کی وجہ سے حیرت میں پڑ جاتا ہوں اور اس کا احترام کرنے پر خود کو مجبور پاتا ہوں، میری نظر میں تنہا اسلام ہی وہ دین ہے جس میں ایسی خاصیت ہے کہ وہ کسی بھی تغیر و تبدیلی کو خود میں جذب کر سکتا ہے اور خود کو زمانہ کے مختلف تقاضوں میں ڈھالنے کی استعداد رکھتا ہے۔ میں نے محمد (صلی الله علیه و آله) کے دین کے بارے میں یہ پیشین گوئی کی ہے کہ وہ آئندہ میں یوروپ والوں کے لیے قابل قبول ہو جائے گا جیسا کہ آج اس امر کی ابتداء ہو چکی ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اگر اسلام کے پیغمبر جیسا کوئی مطلق حاکم اس ساری کائنات پر حاکم ہو جائے تو اس جہان کے مسائل اور مشکلات کو حل کرنے میں اس طرح سے موفق اور کامیاب ہو جائے گا کہ انسان صلح و سعادت تک پہچ جائے گا جسے اس کی شدید ضرورت ہے۔

اڈوارڈ گیبن

یہ اٹھارویں صدی کا انگلینڈ کا سب سے بڑا مورخ اور جس نے روم کی شہنشاہیت کے سقوط کی مشہور تاریخ لکھی ہے۔ وہ قرآن مجید کے بارے میں اس طرح لکھتا ہے:

بحر ایٹلس سے لے کر ھندوستان میں موجود دریاء گنگا کے کناروں تک قرآن مجید نہ صرف یہ کہ ایک فقہی قانون کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے بلکہ وہ ملکوں کے قانون اساسی بشمول قضاء و عدالت، شہریت کے نظام، سزا کے احکام سے لے کر امور مالی تک انسان کے ان تمام قوانین کا احاطہ کرتا ہے اور یہ تمام کے تمام امور ایک ثابت احکام کے سبب انجام پاتے ہیں یہ سب ادارہ خدا کی جلوہ گری ہے۔ دوسرے الفاظ میں قرآن مجید مسلمانوں کے لیے ایک عام دستور العمل اور قانون اساسی کی حیثیت رکھتا ہے جس میں دین، معاشرہ، شہریت، فوج، عدالت،جرم، سزا کے تمام قوانین اور اسی طرح سے انسان کی روزانہ کی فردی و سماجی زندگی سے لے کر دینی وظائف تک جس میں تذکیہ نفس سے لے کر، حفظان صحت کے اصول کی مراعات، فردی حقوق سے عمومی حقوق تک اور اخلاقیات سے جنایات تک، اس دینا کے عذاب و مکافات سے اس جہان کے عذاب و مکافات تک سب کو شامل کرتا ہے۔

پروفیسر ویل ڈورانت

یہ امریکا کا مشہور مصنف ومورخ ہے جس کے آثار کا موجودہ عصر میں لاکھوں لوگ مطالعہ کرتے ہیں۔ وہ پیغمبر اسلام (صلی الله علیه و آله) کی شخصیت کے بارے میں اس طرح سے اظہار نظر کرتا ہے:

اگر اس مرد بزرگ کے عام لوگوں پر ہونے والے اثر کا حساب کریں تو یقینا ہمیں کہنا پڑتا ہے کہ حضرت محمد (صلی الله علیه و آله) تاریخ انسانی کے بزرگ ترین بزرگ ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ اس قوم کی علمی و اخلاقی سطح کو، جو شدت گرما اور خشکی صحرا کے سبب توحش کی تاریکی میں ڈوبے ہوئے تھے، بلند کریں اور انہیں اس سلسلے میں جو توفیق حاصل ہوئی کہ وہ گزشتہ تمام عالم کے مصلح بزرگوں سے زیادہ تھی، مشکل سے ہی کسی کو ان کی صف میں کھڑا کیا جا سکتا ہے جس نے اپنی تمام آرزووں کو دین کے لیے وقف کر دی ہو،اس لیے کہ وہ اس دین پر عقیدہ رکھتے تھے۔ محمد (صلی الله علیه و آله) نے بت پرستوں اور صحرا میں پراکندہ قبیلوں کو ایک امت میں بدل دیا اور دین یہود و دین مسیح اور عرب کے قدیم دین سے برتر و بالا تر ایک سادہ آئین اور روشن اور مضبوط دین کی بنیاد رکھی، جس کی معنویت کی اساس، قومی شجاعت سے پیدا پوئی تھی، جس نے ایک ہی نسل کے اندر سو جنگوں میں فتح اور کامیابی حاصل کی اور ایک صدی کی مدت میں ایک عظیم اور باشکوہ حکومت قائم کر لی اور موجودہ زمانے میں اس کے پاس ایک پایدار قدرت ہے جس نے آدھی دنیا کو مسخر کیا ہوا ہے۔)

تقریب ڈاٹ آئی آر


متعلقہ تحریریں :

ازدوا ج پيغمبر (ص) ا كرم اور مفہوم اہلبيت (ع) ( حصّہ چهارم )

ازدوا ج پيغمبر (ص) ا كرم اور مفہوم اہلبيت (ع) ( حصّہ سوّم )

ازدوا ج پيغمبر (ص) ا كرم اور مفہوم اہلبيت (ع) ( حصّہ دوّم )

ازدوا ج پيغمبر (ص) ا كرم اور مفہوم اہلبيت (ع)

بعثت سے غدیر تک (حصہ سوّم )