• صارفین کی تعداد :
  • 3067
  • 2/28/2011
  • تاريخ :

اسلام خواتين کے کمال، راہ ِحصول اور طريقہ کار کو معين کرتا ہے

مسلمان خاتون

الف: معنوي کمال اورروحاني رُشد کا ميدان

اسلام نے خواتين کي فعاليت کيلئے تين ميدانوں کو معين کيا ہے۔ پہلا ميدان خود خواتين کے معنوي کمال اور روحاني رُشد کا ميدان ہے۔ اس ميدان ميں (فعاليت، ترقي اور عروج کے لحاظ سے) مرد و عورت ميں کوئي فرق نہيں ہے۔ يعني مرد معنوي و روحاني لحاظ سے بلند ترين مقامات تک رسائي حاصل کر سکتا ہے اور ايک عورت بھي اعليٰ ترين درجات پر کمند ڈال سکتي ہے۔ ايک مرد حضرت علي ابن ابي طالب کي پيروي کرتے ہوئے اونچے مقام کو پا سکتا ہے تو ايک عورت بھي حضرت فاطمہ زہرا علیھا السلام کي تآسّي و تقليد ميں اعليٰ درجات کو حاصل کرسکتي ہے۔

اہل ايمان کيلئے دو مثالي خواتين کا تذکرہ ، زن فرعون اور حضرت مريم

قرآن مجيد جب با ايمان انسانوں کيلئے کوئي مثالي نمونہ پيش کرنا چاہتا ہے تو مردو ں سے مثال نہيں لاتا بلکہ خواتين ميں سے ايک خاتون کو بطور مثالي نمونہ پيش کرتا ہے۔  يہ وہ مقام ہے کہ جہاں خداوند متعال مومن اور نيک انسانوں ميں سے دو خواتين کو بطور مثال اور آئيڈيل کي حيثيت سے پيش کرتا ہے۔ يعني جب خداوند عالم انسانيت اور معنوي کمال کيلئے مثالي نمونہ پيش کرنا چاہتا ہے تو پيغمبروں، عظيم مردوں اور علمي و ديني شخصيات کا ذکر کرنے کے بجائے دو خواتين کو نمونے کے طور پر پيش کرتا ہے۔ اُن ميں سے ايک، زن فرعون ہے۔  وہ عورت جو اپنے شوہر کي طاغوتي اور سرکش قدرت سے لڑنے کيلئے ڈٹي رہي اور وہ عورت جو اپنے پورے استقلال کے ساتھ اپنے متجاوز، قدرت مند، فرعون نامي اور فرعون صفت شوہر کے سامنے ثابت قدمي سے رہي۔ عورت کي عظمت يہاں ہے کہ اس کا شوہر ضلالت و گمراہي کے راستے کو اُس پر مسلط نہ کرسکے، خواہ وہ شوہر، فرعون جيسا يا اس جيسي طاقت و قدرت کا مالک ہي کيوں نہ ہو! لاکھوں مرد، فرعون کي قدرت وطاقت کے سامنے تسليم اور اس کے ارادے کے اسير و غلام ہيں ليکن خود اِس مرد کي بيوي، خود اِس کے گھر ميں اِس کے ارادوں اور قدرت کي اسير نہيں ہے بلکہ آزاد ہے اور وہ خدا پر ايمان لاتي ہے، فرعون (کے جاہ وحشم، مال و ثروت اور تخت و تاج اور اُس ) کے راستے کو خير آباد کہتي ہے اور اِس کے مقابلے ميں راہ خدا اور راہ حق کا انتخاب کرتي ہے۔ يہي وجہ ہے کے اُسے عظيم و شائستہ اور قابل ِ مثال انسان کي حيثيت سے ، نہ صرف خواتين سے بلکہ تمام بني نوع انسان سے منتخب کيا جاتا ہے۔

 

دوسري مثالي عورت، دختر حضرت عمران، مادر حضرت عيسي (ع)، حضرت مريم ہيں۔ مريم وہ جوان لڑکي ہے کہ جو اپنے شہر کے تمام مردوں کي تمہت اور بدترين اور کثيف ترين سوء  ظن کے مقابلے ميں مضبوط کوہ کي مانند جمي رہي اور خدا نے اپني قدرت کاملہ کے ذريعے کلمۃُ اللہ اور روح کو اُس کے پاکيزہ دامن ميں قرار ديا۔ وہ خدا کے نبي کي تربيت اپنے ذمہ ليتي ہے اور اپنے فرزند کو اُس زمانے کي تاريک دنيا کي نورانيت کا باعث بناتي ہے۔ يہ دو خواتين ہيں کہ جنہوں نے دنيا ميں نور افشاني کي ہے۔ يہ سب اس بات کي عکاسي کرتے ہيں کہ کہ اس امر ميں اسرار و رموز پوشيدہ ہيں کہ ان تمام انسانوں کي کثير تعداد ميں سے کہ جہاں اولين و آخرين کي خلائق جمع ہيں، جب خداوند عالم، عالم بشريت سے دو انسانوں کو مثال اور نمونے کے طور پر انتخاب کرتا اور اُنہيں متعارف کرانا چاہتا ہے تو صرف دو خواتين کو  منتخب کرتا ہے، نہ کہ دو مردوں يا ايک مرد ايک عورت کو  بلکہ صرف اور صرف دو خواتين کو۔

 

پس اس پہلے ميدان يعني انسان روحاني ترقي اور معنوي کمال کے ميدان ميں ، مرد و عورت ميں کوئي فرق نہيں ہے۔ عورت، مرد کے مثل اور مرد، عورت کي مانند، دونوں قرب خدا اور روحانيت کے اعليٰ مدارج و مراتب تک رسائي حاصل کر سکتے ہيں۔ لہٰذا خداوند عالم قرآن ميں ارشاد فرماتا ہے کہ  خداوند عالم نے (اسلام، ايمان، اطاعت، صداقت، صبر، خشوع و فروتني، صدقہ دينے، روزے داري، شرمگاہ کي حفاظت اور ذکر الٰہي جيسے اہم ترين معنوي امور ميں) مرد و عورت کو ايک دوسرے کے شانہ بشانہ لاکھڑا کيا ہے ۔ (خدا نے ان مردو خواتين کيلئے مغفرت اور اجر عظيم مہيا کر رکھا ہے)۔ يہ وہ پہلا ميدان ہے کہ جہاں مرد وعورت ميں کوئي تفاوت نہيں ہے۔

ب: اجتماعي فعاليت کا ميدان

دوسرا ميدان کہ جہاں خواتين اپنے وجود کو ثابت کرسکتي ہيں وہ اجتماعي فعاليت کاميدان ہے۔ خواہ وہ فعاليت اقتصادي ہو يا سياسي، يا خاص معنوں ميں اجتماعي فعاليت ہو يا تحصيل علم اور تحقيق و ريسرچ ، تعليم و تدريس اور راہ خدا سميت زندگي کے تمام شعبوں ميں جدوجہد اور محنت کرنا ہو، ان تمام شعبہ ہائے زندگي ميں مختلف قسم کي فعاليت اورمحنت و جدوجہد کرنے ميں مر دو عورت ميں اسلام کي نگاہ ميں کوئي فرق نہيں ہے۔

اگر کوئي يہ کہے کہ مرد کو تحصيل علم کا حق ہے ، عورت کو نہيں، مرد تدريس کرسکتاہے، عورت نہيں؛ مرد اقتصادي و معاشي ميدان ميں آگے بڑھ سکتا ہے ، عورت کو اقتصاد ومعيشت سے کيا سروکار اور مرد سياسي فعاليت انجام دے سکتا ہے ، عورت کا سياست سے کيا کام؟تو نہ صرف يہ کہ اِس کہنے والے نے اسلام کي منطق کو بيان نہيں کيا بلکہ برخلاف اسلام، سخن اُس کے لبوںپر آئي ہے۔ اسلام کي نگاہ ميں انساني معاشرے اور زندگي کے تمام شعبوں سے مربوط فعاليت ميں مرد وعورت دونوںکو شرکت کي اجازت ہے اور دونوں اس امر ميں مشترک ہيں۔ہاں البتہ بعض ايسے کام ہيں جو خواتين کے کرنے کے نہيں ہيں چونکہ اُس کي جسماني ساخت اور اُس کي طبيعت و مزاج اورفطرت سے مطابقت نہيں رکھتے۔ بعض کام ايسے ہيں جنہيں انجام دينا مرد کے بس کي بات نہيں ہے چونکہ اُس کي جسماني، اخلاقي اور روحي صفات و عادات سے ميل نہيں کھاتے۔ اس موضوع کا اِس سے کوئي تعلق نہيں ہے کہ عورت اجتماعي فعاليت کے ميدان ميں سرگرم عمل ہوسکتي ہے يانہيں۔ کاموں کي تقسيم در حقيقت امکانات ،شوق اور اُس کام کے تقاضوں اور اہداف کو مدنظر رکھتے ہوئے کي گئي ہے۔ اگر عورت شوق رکھتي ہو تو وہ معاشرتي زندگي سے مربوط مختلف قسم کي اجتماعي فعاليت کو انجام دے سکتي ہے۔

 

کتاب کا نام 

عورت ، گوہر ہستي 

تحریر 

 حضرت آيت اللہ العظميٰ امام سيد علي حسيني خامنہ اي دامت برکاتہ 

ترجمہ    سيد صادق رضا تقوي 
 پیشکش  شعبۂ تحریر  و پیشکش تبیان  

 


متعلقہ تحریریں :

حجاب کیوں ضروری ہے؟

حجاب کیوں ضروری ہے؟ ( حصّہ دوّم )

حجاب کیوں ضروری ہے؟ ( تیسرا حصّہ )

اہل مغرب کي ايک ظاہري خوبصورتي مگر درحقيقت؟!

خواتين کے بارے ميں اسلام کي واضح، جامع اور کامل نظر