• صارفین کی تعداد :
  • 3927
  • 1/30/2011
  • تاريخ :

حقیقت عصمت (حصّہ پنجم)

بسم الله الرحمن الرحیم

اور چونکہ ضلال عصمت کے مخالف ھے اور گمان کرنے والوں نے یہ گمان کرلیا کہ جس میں ضلالت وگمراھی پائی جائے گی وہ ذات معصوم نھیں هوسکتی۔

حقیقت یہ ھے کہ ضلال کے معنی ذھاب اور انصراف کے ھیں جیسا کہ ھم جانتے ھیں کہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پھلے یہ نھیں جانتے تھے کہ کس طرح خدا کی عبادت کی جائے اور اپنے واجبات کی ادائیگی کرکے کس طرح تقرب الٰھی حاصل کیا جائے تو اس وقت تک خاص معنی میں عبادت نھیں کرتے تھے یھاں تک کہ خداوندعالم نے آپ کی ہدایت کی اور رسالت اسلام سے سرفراز کیا اور مذکورہ آیت انھیں آیات میں سے ھے جن میں خداوندعالم نے اپنے نبی پر نازل کردہ نعمتوں کو شمار کیا اور اپنی خاص عنایات آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے شامل حال رکھیں۔

ارشاد هوتا ھے:

<اَلَمْ یَجِدْکَ یَتِیْماً فَآویٰ وَوَجَدَکَ ضَالاًّ فَہَدیٰ وَوَجَدَکَ عَائِلاً فَاَغْنٰی>

”کیا اس نے تم کو یتیم پاکر (ابوطالب) کی پناہ نھیں دی (ضرور دی) او رتم کواحکام سے ناواقف پایا تو تمھیں منزل مقصود تک پهونچادیا اورتم کو تنگدست پا کر غنی کردیا“

چنانچہ یہ آیات واضح طور پر ھمارے مطلوب ومقصور پر دلالت کرتی ھیں کیونکہ خداوندعالم نے جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو یتیم پایا تو آپ کو پناہ دی اور پرورش کی اور جب آپ کو تنگدست پایا تو آپ کو غنی کر دیا اس کے بعد جب خاص معنی میں عبادت کا طریقہ نھیں آتا تھاتو خداوندعالم نے عبادت خاص کی طرف ہدایت کی۔

<وَوَضَعْنَا عَنْکَ وِزْرَکَ >

”اور تم سے وہ بوجھ اتاردیا“

جبکہ عرف عام میں”وزر“ کے معنی گناہ کے ھیں۔

حقیقت یہ ھے کہ لغت میں ”وزر“ کے معنی ثقل (بوجھ) کے ھیں اور گناهوں کو اسی وجہ سے ”وزر“ کھا جاتا ھے کیونکہ گناهوں کا انجام دینے والا سنگین هوجاتا ھے، چنانچہ اس بناپر ھر وہ چیز جو انسان کو بوجھل کردے تو اس کو ”وزر“ کھا جاتا ھے حقیقی ثقل سے شباہت کی وجہ ھے جیسا کہ یہ ذنب سے بھی مشابہ ھے اور ذنب کو بھی ”وزر“کھا جاتا ھے۔

لیکن وہ چیز جو رسول اسلام  کو سنگین اور بوجھل کرتی تھی،وہ آپ کی قوم کا شرک وکفر اور آپ کی رسالت کا انکار نیز آپ کی دعوت کو قبول نہ کرنا تھا لیکن جس دین کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم لے کر نازل هوئے آپ اس کی مسلسل دعوت دیتے رھے جبکہ آپ دشمنوں کے مقابلہ میں کمزور اور ضعیف تھے او رنہ ھی آپ کے ساتھ بہت زیادہ افراد تھے جو اذیت اور شرارت کے وقت ان کا مقابلہ کرتے۔

اور یھی معنی ھیں ”وزر“ کے یعنی ایسی سنگینی جس کے غم والم کی وجہ سے آپ کی کمر ٹوٹی هوئی تھی،اور شاید اسی معنی میں آیات کاا دامہ بہترین شاہد هو کہ ارشاد هوتا ھے:

<وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْراً اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْراً>

کیونکہ رفع ذکر اور مشکلات کے بعد آسانیوں کا تذکرہ اس صورت میں صحیح ھے جب وزرسے مراد رسول اسلام کی وہ سنگینی مراد لی جائے جو آپ کی قوم میں ہدایت اور اسلام سے بے   توجھی کی وجہ سے آپ کے دل میں موجود تھی۔

بشکریہ صادقین ڈاٹ کام


متعلقہ تحریریں :

حقیقت عصمت

خیر و فضیلت کی طرف میلان

محسوس فطریات

انسانی امتیازات

مقدس میلانات