• صارفین کی تعداد :
  • 2990
  • 1/29/2011
  • تاريخ :

ماں کے پیٹ کے تین تاریک پردے

بسم الله الرحمن الرحیم

اللہ تعالیٰ سورة الزمر میں ارشاد فرماتا ہے:

(خَلَقَکُمْ مِنْ نِّفْسٍ وِّاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ ھَا زَوْجَھَا وَاَنْزَلَ لَکُمْ مِّن الْاَنْعَامِ ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاج ٍ ط یَخْلُقُکُمْ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّھٰتِکُمْ خَلْقًا مِّنْ م بَعْدِ خَلْقٍ فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ ط ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ لَہُ الْمُلْک ط لَآ اِلٰہَ اِلِّا ھُوَ ج فَاَنّٰی تُصْرَفُوْنَ)

'' اس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا پھر اس سے اس کی بیوی بنائی اور تمہارے لیے مویشیوں سے آٹھ نر ومادہ پیدا کیے، وہ تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں ،تین تاریک پردوں میں ،ایک کے بعد دوسری شکل دیتے ہوئے پیدا کرتا ہے۔ یہ ہے اللہ (ان صفات کا )تمہارا پروردگار، بادشاہی اسی کی ہے ،اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ پھر تم کہاں سے پھیر دیے جاتے ہو ؟''

قرآ ن مجید کے جدید دور کے مفسرین درج بالا آیتِ کریمہ میں بتائے گئے ماں کے پیٹ کے تین تاریک پردوں کو جدید سائنس کے بیان کردہ درج ذیل تین حصّوں سے منسوب کرتے ہیں،جن کے اندر بچہ کی تولیدی وقفہ کے دوران حفاظت کی جاتی ہے۔

1)۔ پہلی مادری شکمی دیوار (The Maternal Interior Abdominal Wall)

یہ پہلا مرحلہ ہے جب بیضہ والا خلیہ رحم کی دو نالیوں میں نشوونما پاتا ہے۔ زندگی کی ابتدا کا تجربہ اس حیاتیاتی خلیے (Zygote) کو اس پہلے مرحلے میں ہوتا ہے۔ دراصل ایک بیضہ والا خلیہ (Ovum) صرف اللہ کی مرضی سے بارور (Fertilized) ہوتا ہے۔ یہ باریک ترین خلیہ (Cell) ہی ہے۔ جس میں ہر چیز تیار ہوتی ہے اور انسانی زندگی کی آئندہ تفصیلات بھی یہیں متعین ہو جاتی ہیں۔عورت کے بیضہ کی باروری کے لیے مرد کے صرف ایک (Single Sperm) کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن مرد کے جسم سے ان کا اخراج کروڑوں کی تعداد میں ہوتا ہے جب کہ ان میں کارآمد ایک ہی ہوتا ہے باقی خودبخود ختم ہو جاتے ہیں۔چنانچہ اس کو قرآن کی اصطلاح میں پہلا اندھیرا (حجاب )کہہ سکتے ہیں۔

2)۔ رحمی دیوار  (The Uterine Wall)

زرخیز شدہ بیضہ کا خلیہ رحم کی لعاب دار جھلی جسے (Intrauterine Epitherlium Endometrium) بھی کہتے ہیں'میں پہنچتا ہے۔ یہ ایک جنگل کے مشابہ ہے۔ یہ اس میں ایک طرح سے جڑ پکڑ لیتا ہے اورخود وہیں مناسب جگہ قائم کر لیتا ہے۔

حیاتیاتی خلیہ (Zygote)اسی جگہ پر تقسیم کا عمل شروع کرتا ہے، اس لیے جنین (Embryo) کے پہلے مرحلہ میں تمام اعضا کی تشکیل کی ابتدا بھی یہیں سے شروع ہوتی ہے۔ خلیوں کی ابتدائی تقسیم اسی کے دوسرے مرحلے کی تشکیل کرتی ہے۔ اس مرحلے میں انسانی جسم کی شکل خلیوں کے جھمگھٹوں کی طرح ہوتی ہے۔مادہ منویہ انسان کے خلیوں میں پیدا ہوتا ہے اور پھر عارضی طور پر نالیوں کے ایک نظام میں جمع ہو جاتا ہے۔ پھر بارورشدہ بیضہ عورت کے تولیدی نظام میں بیضہ نالیوں (Fallopian Tubes)کے راستہ سے گزر کر رحم مادر (Uterus)میں چلا جاتا ہے اور وہاں ایک خاص مقام پر ٹھہر جاتا ہے۔ اس جگہ کو دوسرا  اندھیرا(حجاب)کہتے ہیں۔

3)۔ غلاف جنین جھلی    (The Amniochorionic Membrane )

یہاں ایک پوٹلی (Amniotic Sac) ابتدائی شکل کے اردگرد ایک مخصوص مائع کی شکل میں پیدا ہو جاتی ہے۔ پھر انسانی اعضا اور دوسرا حیاتیاتی نظام اسی کے اندر افزائش پاتا ہے۔ پھر جب یہ جنین نظر آنے کے قابل ہوجاتے ہیں تو یہ محض گوشت کا ایک لوتھڑا سا نظر آتا ہے جس کے مرکز میں انسان کو ابتدائی حالت میں شناخت کرنا مشکل ہو تا ہے اور وہاں تدریجاً بڑھتا ہے اور وہیں ہڈیوں کی ساخت(Bone Structure) اعصابی نظام (Nervos system) ، پٹھے (Muscles) ، اور آنتیں(Viscerae) تخلیق ہوتی ہیں۔ اس جگہ کو تیسرااندھیرا(حجاب ) کہہ سکتے ہیں۔

 

تحریر :  طارق اقبال سوہدروی ۔ جدہ ۔ سعودی عرب


متعلقہ تحریریں:

قرآن پرعمل اور اس سے متمسك ھونا

فرقہ وارانہ دشمنى كى خاطر اسلام كى جڑوں كو  كھوكھلا نہ كيا جائے

فريقين كى دو كتابيں ( حصّہ دوّم )

قرآن میں غور و فكر

فريقين كى دو كتابيں