• صارفین کی تعداد :
  • 2356
  • 1/29/2011
  • تاريخ :

جنگ کیسے شروع ہوئی؟

بسم الله الرحمن الرحیم

جنگ کیسے شروع ہوئی؟

دونوں لشکروں کے درمیان ابوعامر کی وجہ سے پہلا معرکہ ہوا وہ احد کے دن آگے بڑھتا ہوا لشکر کے مقابل گیا اور آواز دی کہ اے اوس میں ابوعامر ہوں لوگوں نے کہا کہ: اے فاسق تیری آنکھیں اندھی ہو جائیں ۔ ابو عامر اس غیر متوقع جواب کے سننے سے اہل مکہ کے درمیان ذلیل ہوگیا۔ اس نے کہا کہ: میرے ذریعہ میرے قبیلہ کو گزند پہنچی ہے۔ اس کے بعد اس نے مسلمانوں سے جنگ کا آغاز کر دیا لشکر اسلام نے اس پر اور اس کے ساتھیوں پر سنگ باری کی اس کے بیٹے حنظلہ جو لشکر اسلام میں تھے۔ انہوں نے رسول خدا سے اجازت ماگی تاکہ اپنے باپ کو قتل کر دیں لیکن رسول خدا نے اجازت نہیں دی۔

ابوعامر کے بیٹھ رہنے کے بعد ”طلحہ بن ابی طلحہ“ مشرکوں کا پرچمدار، جسے سپاہ مینڈھا کہا جاتا تھا، غرور کرتے ہوئے آگے بڑھا اور اس نے چلا کر کہا کہ تم کہتے ہو کہ ”تمہارے مقتولین دوزخ میں اور ہمارے مقتولین بہشت میں جائیں گے۔ اس صورت میں کیا کوئی ہے جس میں بہشت میں بھیج دوں۔ یا وہ مجھ کو دوزخ میں پہنچا دے؟“ علی علیہ السلام اس کے مقابلے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔

جنگ شروع ہوئی اور تھوڑی ہی دیر میں سپاہ مشرک کا پرچم دار شمشیر علی علیہ السلام کی بدولت کیفر کردار کو پہنچا۔ رسول خدا خوش ہوگئے اور مجاہدین اسلام نے صدائے تکبیر بلند کی۔

طلحہ کے بھائی نے پرچم اٹھالیا اور آگے بڑھا درآں حالیکہ دوسرے چند افراد پرچم اٹھانے اور سرنگوں ہو جانے کی صورت میں وجود شرک کا دفاع کرنے کے لیے تیار بیٹھے تھے۔

(مغازی ج۱ ص ۲۲۳)

دشمن کے حرکت میں آنے کا سبب موسیقی

اسلام کے مجاہد اپنے مقدس دین کے دفاع کے لیے لڑ ہے تھے اور اپنے دل و دماغ میں شہادت کی آرزو کو پروان چڑھا رہے تھے لیکن مشرکین کے سپاہیوں کا مقصد پست مادی آرزوؤں کا حصول اور انتقام کے سوا کچھ نہ تھا۔ مشرکین کے نامور افراد اپنے سپاہیوں کے ان ہی جذبات کی جنگ کے وت تقویت کر رہے تے اور یہ ذمہ داری ان آورہ عورتں کی تھی جو آلات موسیقی بجاتیں اور مخصوص آواز میں ترانے گاتی تھیں تاکہ غریزہ جنسی کی آڑ لے کر ان کو بھڑکائیں اور دوسری طرف ان کے کنبہ کی انتقامی آگ کو شعلہ ور کر دیں اور وہ لوگ نفسیاتی طور پر متاثر ہو کر جنگ کو جاری رکھیں۔

جو شعر یہ بدقماش عورتیں پڑھ رہی تھیں اس کا مطلب کچھ اس طرح تھا:

ہم طارق کی بیٹیاں (ستارہ سحری) ہیں ہم بہترین فرش پر قدم رکھتے ہیں اگر دشمن کی طرف بڑھو گے تو ہم تمہارے گلے لگ جائیں گے، اگر دشمن کو پیٹھ دکھاؤ گے اور فرار کرو گے تو ہم تم سے جدا ہو جائیں گے۔

 

عنوان : تاریخ اسلام

پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان

بشکریہ پایگاہ اطلاع رسانی دفتر آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی


متعلقہ تحریریں :

مدینہ میں تیاریاں

دشمن کے لشکر کے ٹھہرنے کی جگہ

عباس کی رپورٹ

سیاسی پناہ گزین

جنگ احد کے مقامات