• صارفین کی تعداد :
  • 3436
  • 1/25/2011
  • تاريخ :

انقلاب اسلامي کے خلاف استکبار ي منصوبہ

انقلاب ایران

ملت ایران کو علم ہونا چاہئے کہ انہوں نے کتناعظيم کام انجام دیا ہے اور طبيعي سي بات ہے کہ ان حالات ميں دشمن اپني تمام قوت کو اسلامي نظام کے خلاف جمع کرے اور اسے ختم کرنے کیلئے کسي راہ کو اختیار کرے ۔ بس وہ کون سي راہ ہوني چاہئے ؟ فوجي حملہ کہ خود انھيں اس با ت کا علم ہے کہ جنگ مسلط کرنا مسئلے کا حل نہيں ، آیا فوجي بغاوت  کہ جس کا چند بار تجربہ کیا اور ناکام رہے ،پس پھر وہ کون سا راستہ اختیار کرسکتے ہيں؟ان کے پاس ایک ہي راستہ بچا ہے اور وہ يہ ہے کہ عوام ميں اپني جڑيں مضبوط کریں ، اسلام کے مخالف جذبات اور افکار و عقائد کو پروان چڑھائیں اور ساتھ ہي انقلاب اسلامي پر تہمت ، توہین اور دوسر ے الزامات کي راہو ں کو وسعت دیں اور يوں آہستہ آہستہ ملت کو اس سر چشمہ عزت و وقار سے کہ جس نے سالہا سال انھیں جدوجہد اور ثابت قدمي کا درس دیا، دور کردیں ۔آج انکا اصل منصوبہ یہي ہے اور اسي پر عمل پیرا ہيں اورخود انکے زعم ميں اس کا نام (فروپاشي) شيرازے کا بکھرنا ہے اوربڑي ڈھٹائي سے کہتے ہيں کہ ہماري خواہش ہے کہ اسلامي نظام تباہ و برباد ہوجائے ۔

اس اندروني ٹوٹ پھوٹ سے ان کي مراد کیا ہے ؟ وہ یہ چاہتے ہيں کہ ملت ایران ، اسلامي انقلاب کے اہداف و مقاصد ميں شک و شبہ کا شکار ہوجائے ،انھیں عملي جامہ پہنانے ميں پس وپیش سے کام لے اور اسلامي نظام سے دوري اختیار کرتے ہوئے اسکي حمایت چھوڑ دے ۔۔۔۔ یہ ہے آج دشمن کي سیاست !ميں کئي بار آپ کي خدمت ميں عرض کرچکا ہوں کہ دشمن کو پہچاننے سے زیادہ اہم دشمني کي بنیاد (وجہ) اور اس کے انداز دشمني کي شناخت ہے ۔ اگر انسان جانتا ہو کہ اسکا دشمن کس انداز کو اپنائے گا ( کن راہو ں سے وارد ہو گا) تو وہ بہترین انداز ميں اس کے وار کو ناکام بنا سکتا ہے۔ہم سب آج اپنے دشمن کو پہچانتے ہيں، آج ملت ایران کا دشمن اوراس کي آزادي و استقلال کا دشمن، امریکہ اور اس کي استکباري حکومت ہے ۔اس ميں کسي شک کي گنجائش نہيں کیونکہ وہ خود بھي کئي بار اعتراف کر چکے ہيں اور یہ جوخود کبھي کبھي اظہار کرتے ہيں کہ ہم ایراني عوام کے دشمن نہيں ہيں تو یہ سوائے ریا کاري اور چاپلوسي کے کچھ نہيں !کیونکہ حقیقت ميں انکي اصلي دشمني اسي ملت ایران سے ہے کہ جس نے اس عظیم انقلاب کو کامیابي سے ہمکنار کیا ۔یہ ملت ایران ہے کہ جو صداقت کے ساتھ اسلام کي پشت پناہ ہے ۔یہي ملت ایرا ن ہے جو اس بات کا باعث بني کہ امریکہ اس سرزمین پر اپني خواہشات کو عملي جامہ نہ پہنا سکے ، اگر ایراني عوام ، اسلامي نظام اور حکومت کي پشت پناہي نہ کرتي تو کیا يہ حکومت تن تنہا امریکي ہوا و ہوس (اس کي مکّاريوں) کا مقابلہ کر سکتي تھي ؟ ہم اس دشمن کو پہچانتے ہيں لیکن ہميں چاہيے کہ اس کے طریقہ کار اور انداز دشمني کو بھي پہچانيں۔ آج اسکي دشمني کا انداز اور روش عوام کے تمام طبقات ميں اختلاف اور نفرت پیدا کرنا ہے ، انھیں اسلامي انقلاب کے اہداف و مقاصد کيلئے کي جانے والي عملي جد و جہد سے دور رکھنا ہے اور مقدس انقلابي نعروں اور ديني فکر کو انحرافي نعروں ميں تبدیل کرنا ان کے مذموم مقاصد ميں سر فہرست ہے۔

 

ولي امر مسلمین حضرت آیت اللہ سید علي خامنہ اي  کے خطابات سے اقتباس

 


متعلقہ تحریریں:

استکبار کا تنہا مقابل

جذبات اور احساسات سے غلط استفادہ

ہمارا آئین

مثالي قوم

استکباري چالیں