• صارفین کی تعداد :
  • 3741
  • 1/22/2011
  • تاريخ :

جبر و تفویض

بسم الله الرحمن الرحیم

گذشتہ مثال مسئلہ ”جبر وتفویض“ كو اچھی طرح واضح كردیتی ھے كیونكہ ایك انسان حیات وقدرت كے عطا كرنے والے كا محتاج ھے جو ھر حال میں خدا كی طرف سے عطا هوتی ھے لہٰذا ”تفویض“ بھی نھیں اوردوسری طرف انسان اپنے اعمال میں مجبوربھی نھیں ھے اور اس كے افعال بغیر اس كے ارادہ كے انجام نھیں پار ھے ھیں لہٰذا ”جبر“ بھی نھیں ھے۔

لہٰذا مذكورہ مطلب كے پیش نظر ھم پر یہ بات واضح هوجاتی ھے كہ انسان فعل وترك پر مكمل اختیار ركھتا ھے اور اس میں شك وشبہ كی كوئی گنجائش نھیں رہتی۔

اس سلسلہ میں مزید وضاحت كے لئے یعنی انسان كے مختار هونے كے سلسلہ میں كچھ دلائل پیش كرتے ھیں اور اس سلسلہ میں هوئے اعتراضات كے جوابات بھی پیش كرتے ھیں:

 اختیاری اور اضطراری افعال میں فرق

ھم نے اس بات كی طرف پھلے بھی اشارہ كیا ھے كہ انسان كے وہ افعال جواس كے قصد وارادہ سے انجام پاتے ھیں اور ان افعال میں جو اس كے اراداہ كے بغیر انجام پاتے ھیں ان دونوں میں واضح فرق ھے مثلاً كسی كے ھاتھ میں رعشہ پیدا هوجائے اور اس كا ھاتھ ھلتا رھے، تو یہ اس كے مرض كی وجہ سے ھے اور انسان اس كو روكنے پر قادر نھیں ھے كیونكہ اس كے اختیار اور طاقت سے باھر ھے اور كبھی اس كا كام اختیاری هوتا ھے اور وہ اپنے اختیار سے انجام دیتا ھے۔

اسی طرح انسان دوسرے افعال میں بھی فرق محسوس كرتاھے كہ كچھ كام اس كے اختیار سے هوتے ھیں اور كچھ كام بغیر اختیار كے۔

او رجب ھمارے تمام افعال (ایك گمان كے مطابق) خداوندعالم كی مخلوق ھیں اور ان میں ھمیں ذرہ برابر بھی اختیار نھیں ھے تو پھر اختیاری و اضطراری كاموں میں فرق كا احساس كیسے كرسكتے ھیں؟!

اس سلسلہ میں بعض متكلمین نے فلسفہ تراشی كی ھے اور دونوں (اختیاری واضطراری) میں فرق بیان كیا ھے، ان كا كہنا ھے كہ فعل اضطراری وہ افعال ھیں جو خدا كے ارادہ سے انجام پاتے ھیں انسان كی قدرت او ر اس كے ارادہ كا كوئی دخل نھیں هوتا، او ر فعل اختیاری وہ هوتے ھیں جن كو خداوند عالم انسان كے ارادہ كے ساتھ ساتھ ایجاد كرتا ھے۔ لیكن ان كا یہ قول بالكل واضح البطلان ھے۔

كیونكہ اگرقدرت سے مراد، مشهور لغوی معنی هوں كہ” اگر چاھے انجام دے اورنہ چاھے تو انجام نہ دے“ تو یہ مذكورہ جبر كے معنی كے خلاف ھیں بلكہ یہ تو اختیار پر دلیل ھے اور اگر اس قدرت سے كوئی دوسرے معنی مراد هوں، تو پھر یہ اكراہ كے خلاف نھیں ھے، اور اس كو كبھی بھی قدرت نھیں كھا جاسكتا۔

لیكن اگر ارادہ كے معنی مذكورہ فلسفی لحاظ سے لئے جائیں تواسكے معنی بھی اختیار كے هوں گے۔ (جیسا كہ صحیح بھی ھے) كیونكہ قائل كے گمان كے مطابق یھاںپر اختیار ھے ھی نھیں۔ كیونكہ (دعوی كے مطابق) فعل انسان كے ارادے واختیارسے نھیں ھے، او ر اگر قائل كے نزدیك ارادہ كے معنی فعل كو انجام دینے میں رغبت مراد هو تو یہ رغبت فعل كا ایجاد كرنا نھیں ھے جیسا كہ ھماری عقل بھی یھی كہتی ھے، كیونكہ ایسے بہت سے كام ھیں جن میں انسان رغبت ركھتاھے لیكن صرف رغبت سے وہ كام نھیں هو پاتے، جبكہ رغبت عین فعل نھیں ھے (جیساكہ ھم پھلے كہہ چكے) تو پھر اختیار و اضطرار میں مذكورہ فرق لاحاصل هو جاتا ھے۔

بشکریہ : صادقین ڈاٹ کام


متعلقہ  تحریریں:

اسلام اور عدالت اجتماعی

اسلام کا نظام عدل

امام علی معلم عدالت

امام علی (ع) کی نگاہ میں عدل کی اساسی بنیاد

عدالت تمام انسانی معاشروں کی ضرورت ھے