• صارفین کی تعداد :
  • 941
  • 1/10/2011
  • تاريخ :

کراچی: شیعہ بے گناہوں کی گرفتاری، پولیس کی کمائی کا راز فاش

پولیس کی کمائی

گذشتہ دنوں سے کراچی کے مختلف علاقوں سے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے لا پتہ کئے گئے بے گناہ شیعہ نوجوانوں کی گرفتاری اور اغوا میں پولیس کی کمائی کا راز فاش ہو گیا ہے۔

 

ابنا: ذرائع کے مطابق کراچی پولیس کے سربراہ فیاض لغاری نے 2جنوری بروز اتوار کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ گرفتار کئے گئے 8 بے گناہ شیعہ نوجوانوں کا تعلق کالعدم سپاہ محمد سے ہے اور ان میں سے سات افراد کی گرفتاری پر تقریباً 28 لاکھ روپے کا نقدی انعام بھی تھا۔ 2جنوری کو میڈیا کے سامنے پیش کئے گئے 8 بے گناہ شیعہ نوجوانوں پر پولیس اور انوسٹی گیشن ادارے  (SIU) نے الزام عائد کیا تھا کہ یہ افراد شہر میں ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں ملوث ہیں۔

واضح رہے کہ پولیس کی جانب سے پریس کانفرنس میں پیش کئے جانے والے شیعہ بے گناہ نوجوانوں کے والدین نے سی سی پی او فیاض لغاری کی پریس کانفرنس سے قبل بار ہا کراچی پریس کلب میں شیعہ علماء کے ہمراہ پریس کانفرنسز میں حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ ان کے بچوں کو پولیس نے غیر قانونی حراست میں رکھا ہوا ہے اور ان کی زندگیوں کو خطرات لا حق ہیں تاہم اسی ضمن میں گرفتار ہونے والے 8 بے گناہ شیعہ نوجوانوں کے اہل خانہ نے سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی جس پر عمل درآمد کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ نے پولیس اور حساس اداروں کے سربراہان کو مراسلہ جاری کرتے ہوئے شیعہ نوجوانوں کی بازیابی کو 10جنوری تک ممکن بنانے کے سخت احکامات جاری کئے تھے، تاہم انہی 8 گرفتار شدہ شیعہ بے گناہ نوجوانوں کو پولیس نے 2جنوری کو میڈیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے یہ بتایا تھا کہ ان کو 2 جنوری کی صبح یونیورسٹی روڈ سے گرفتار کیا گیا ہے۔

دوسری جانب پاکستانی روز نامے ""ایکسپریس ٹریبیون""نے کراچی پولیس کے سربراہ کی پریس کانفرنس میں کئے جانے والے نقد انعام کے حوالے سے جاری کئے گئے وزارت داخلہ کے احکاماتی خط کو حاصل کر لیا ہے اور اس بات کو واضح کیا ہے کہ یہ انعام کا مراسلہ وزارت داخلہ سندھ نے 29دسمبر کو جاری کیا ہے جس میں کہاگیا تھا کہ آٹھ شیعہ بے گناہ جوانوں میں سے سات شیعہ بے گناہ افراد جو کہ پولیس کی حراست میں تھے ان کی گرفتاری پر نقد انعام ہے۔

واضح رہے کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان آٹھ شیعہ بے گناہ نوجوانوں کو محرم الحرام میں یوم عاشورا کے بعد سے گرفتار کیا تھا (گرفتار کئے گئے سب شیعہ بے گناہ نوجوان تقریباً دو ہفتے قبل ہی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے لا پتہ کر دئیے گئے تھے جس پر اہل خانہ کو اپنے بچوں کی زندگیوں کا خطرہ لاحق تھا)

وزارت داخلہ سندھ کی جانب سے دو جنوری کو پیش کئے جانے والے آٹھ میں سے سات افراد کا کالعدم سپاہ محمد سے تعلق بتایا گیا ہے جب کہ سید ابرار حسین رضوی، سید تنویر عباس رضوی، سید سکندر رضوی، سید علی مہدی، سید پرویز زیدی، حسنین عباس اور سید رفعت رضوی کی گرفتاری پر 28لاکھ روپے نقد انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔

(واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے یہ لیٹر ہ گرفتار شدگان کی گرفتاری سے 4روز قبل جاری کیا گیا تھا)۔

دوسری جانب SIUکے ایس ایس پی راجہ عمر خطاب کا کہنا ہے کہ یہ SIU ادارے کے خلاف ایک سازش نظر آتی ہے تاہم اس حوالے سے تحقیقات کی جائیں گی۔

دوسری جانب ڈی آئی جی پولیس (انوسٹی گیشن) جو کہ SIU کے چیف بھی ہیں نے کہا ہے کہ گرفتار کئے گئے آٹھ شیعہ نوجوانوں کو 18دسمبر کو گرفتار کیا گیا تھا جبکہ سی سی پی او نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ 2جنوری کی صبح گرفتار کیا گیا ہے تاہم واضح رہے کہ پولیس کی جاب سے شیعہ بے گناہ نوجوانوں کو گرفتار کرنا ،اور پھر ان کو لا پتہ قرار دلوانا اور پھر ان کی گرفتاری کو ثابت کرنے سے قبل چار روز پہلے انعام کے احکامات جاری ہونا خود پولیس انتظامیہ اور SIU کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے اور واضح ہوتا ہے کہ پولیس نے شیعہ بے گناہ نوجوانوں کو گرفتار کیا اور جھوٹے مقدمات میں ملوث کر کے پیسہ کمانے کی گھناؤنی سازش رچائی ہے۔

وزارت داخلہ سندھ کی جانب سے جن 10افراد کی فہرست اور انکے سروں کی قیمت جاری کی گئی ہے اس کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں:

 

حافظ قاسم رشید  

 5 لاکھ روپے

قاری عابد اقبال    5 لاکھ روپے
ملک تصدق  5 لاکھ روپے
سید ابرار حسین رضوی  5 لاکھ روپے
سید تنویر عباس رضوی  5 لاکھ روپے
سید سکندر رضوی  5 لاکھ روپے
سید علی مہدی 4 لاکھ روپے
سید پرویز زیدی  5 لاکھ روپے
حسنین عباس    2 لاکھ روپے
سید رفعت رضوی  2 لاکھ روپے

                                 

 یا اللہ ہمیں پولیس گردی اور دہشت گردی سے نجات اور پیسہ پرستی کی راہ میں خدا پرستی سے انحراف کی بیماری سے شفائے عاجل عنایت فرما۔ آمین