• صارفین کی تعداد :
  • 1012
  • 1/10/2011
  • تاريخ :

امریکہ اور اسرائيل کی سرپرستی میں سوڈان کی تقسیم

سوڈان

امریکہ اور اسرائيل کی مشترکہ کوششوں کے نتیجہ میں سوڈان کے عیسائی اکثریت والے جنوبی خطے کے عوام آج ریفرنڈم کے ذریعہ علیحدہ وطن کا فیصلہ کرنے کیلئے ووٹ ڈال رہے ہیں ۔

ابنا: سوڈان کو تقسیم کرنے کی امریکی اور اسرائیل کوششیں بہت پہلے سے جاری تھیں امریکہ نے سوڈان پر ریفرنڈم کرانے کے لئے سخت دباؤ قائم کیا ریفرنڈم کے نتیجے میں افریقہ کے سب سے بڑے ملک کی مذہبی بنیاد پر تقسیم کا امکان ہے۔افریقہ اور عرب دنیا کے سب سے بڑے ملک سوڈان کے جنوبی علاقے میں آج آزادی ریفرنڈم کے لئے ووٹ ڈالے جارہے ہیں ۔ ریفرنڈم کے ذریعے اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ یہ حصہ خود مختار بنے گا یا دارالحکومت خرطوم سے منسلک رہے گا ۔صبح سے پولنگ جاری ہے۔ چالیس لاکھ کے قریب ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے لمبی قطاروں میں لگ گئے۔ ریفرنڈم کیلئے ووٹنگ سات دِن تک جاری رہے گی۔ آج پہلے دن جنوبی سوڈان کے رہنما سالوا کییر نے اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔ تاریخی ریفرنڈم 2005 میں سوڈان کے شمالی اور جنوبی خطوں کے درمیان ہونیوالے امن معاہدے کا اہم حصہ تھا، جس کے نتیجے میں افریقہ کے طویل ترین تنازع کا خاتمہ ممکن ہوا تھا۔ریفرنڈم کے موقع پر سوڈان میں اہم عالمی شخصیتیں موجود ہیں، جن میں سابق امریکی صدر جمی کارٹر، اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان اور ہالی ووڈ اسٹار جارج کلونی شامل ہیں۔ 27 ملین آبادی والے سوڈان کاوہ حصہ جو عیسائیوں کی اکثریت پرمشتمل ہے اورمسلم اکثریتی آبادی والے شمال سے آزادہوناچاہتاہے۔ جنوب کے بعض علاقوں میں پہلے ہی آزادی کاجشن شروع ہوگیا جس سے ریفرنڈم کے نتیجے کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔ سوڈان کے شمال میں عرب مسلمان اور جنوب میں افریقی مسیحی اکثریت میں ہیں ۔ سوڈان کو 1956 میں برطانیہ سے آزادی ملی تھی تب سے ہی شمالی اور جنوبی خطوں کے درمیان مذہبی، نسلی، نظریاتی اور وسائل کی تقسیم پرتنازعات جاری رہے جن میں لاکھوں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھرہوچکے ہیں ۔ 2005 میں دونوں خطوں کے درمیان امن معاہدہ ہوا امن معاہدے کے تحت جنوبی سوڈان کو نیم خودمختاری دی گئی اور ریفرنڈم کرانے کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔ اسی ریفرنڈم کیلئے آج ووٹ ڈالے جارہے ہیں اور ووٹنگ کا عمل سات دن تک جاری رہے گا ۔اگر جنوبی سوڈان کے عوام کی اکثریت نے آزادی کے حق میں ووٹ دیئے تو دنیا کا 193 واں ملک وجود میں آجائیگا، اور اس طرح امریکہ اور اسرائیل کا سوڈان کو تقسیم کرنے کا منصوبہ مکمل ہوجائے گا۔ عیسائيوں کو امیرکہ اور اسرائیل بھاری مقدار میں ہتھیاروں اور اسلحہ کی امداد کی اور امریکہ تیل سے مالامال جنوبی سوڈان کے لئے نئے حواب دیکھ رہا ہے۔