• صارفین کی تعداد :
  • 3525
  • 1/10/2011
  • تاريخ :

ہمارا وظیفہ

انقلاب اسلامی ایران

امیر المومنین (ع)  نے اپني پوري زندگي کو (ایسي زندگي کہ جس کا ہرلمحہ ایک عمر طولاني کے برابر تفسير کيے جانے کے قابل ہے) اپنے زمانے کے معاشرے اور رہتي دنیا تک آنے والي انسانيت اور اسلامي معاشرے کي ہدایت اور تعمیر کیلئے وقف کردیا تھا۔ ہماري ملت کي خوش نصیبي ہے کہ ہم ایک علوي ملت ہيں ،انہي کے معتقد ،انہي کے مرید اور عاشق ۔اس محبت کا لازمي تقاضا یہ ہے کہ ہم اس عظیم شخصیت کي باتوں کو غور سے سنیں ،اس کي نصیحتوں کوسطحي اورغیر اہم شمار نہ کریںبلکہ عملي میدان ميں ان نصیحتوں سے راہنمائي حاصل کریں۔ اس عظيم شخصيت نے اپني پوري زندگي اسي مقصد کے حصول ميں گزاري اورآخر کار اسي راہ ميں شہادت پائي ،’’قتل في محراب عبادتہ لشدۃعدلہ ‘‘(يہ عظيم شخصيت عدل و انصاف کے بارے ميں اپنے سخت گير اور ٹھوس موقف اختيار کرنے ہي کي وجہ سے اپني محراب عبادت ميں شہيدکر دي گئي)۔ ہم زیا رت عاشورا ميں یہ عرض کرتے ہيں کہ ’’السلام علیک یا ثاراللہ وابن ثارہ‘‘کہ امام حسین (ع)  کے خون کي طرح حضرت علي (ع)  کے خون کا بدلہ لینے والا بھي خدا ہي ہے کیونکہ یہ خون بھي حق کي بالا دستي اور عدل و انصاف کو زندہ کرنے کیلئے بہا ہے ۔ ہميں چاہئے کہ اس عظیم شخصیت کے پاکيزہ خون اور خدا وند عالم کے اس عظیم ولي کے احترام ميں ان کي نصیحتوں پر عمل کریں کیونکہ ہم سب ان کي نصیحت کے مخاطب ہيں ۔

ولي امر مسلمین حضرت آیت اللہ سید علي خامنہ اي  کے خطابات سے اقتباس


متعلقہ تحریریں:

ایک حسّاس مرحلہ

اسلامي نظام کے بنیادي اصول

دشمن کي دشمني کو سمجھیں

انقلاب اسلامي کے اندروني مسائل

طاغوت سے مقابلہ

جج، عدلیہ کا محور

عدلیہ کا فلسفہ وجودی

اسلامی جمہوریت

ان حوادث سے انقلاب کمزور نہیں ہو سکتا

سانحہ ہفتم تیر (اٹھائیس جون 1981 ) تاریخ انقلاب میں ناقابل فراموش واقعہ