• صارفین کی تعداد :
  • 4240
  • 1/10/2011
  • تاريخ :

مسلمان عورت ، استعمار اور ہمارا عزم ( تیسرا حصّہ )

حجاب

اس ضمن میں جو دوسرا بنیادی حق عورت کے تحفظ اور وقار کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ عائد کیا ہے کہ وہ مخلوط معاشرے کی ترویج کے بجائے مرد عورت کے اپنی اپنی فطرت کے مطابق دائرہ کار میں کام کرنے کو ترجیح دیں۔ اس کے بعد جب بھی ضروری ہو وہ ایک باوقار لباس میں ( جسے اسلامی معاشرے میں حجاب کے نام سے جانا جاتا ہے ) گھر سے باہر کے امور سرانجام دے سکتی ہے اور اسے قرآن کریم میں عورتوں کے لئے فرض قرار دیا گیا ہے تاکہ وہ ستائی نہ جا سکیں اور محفوظ اور باوقار رہیں۔ پوری اسلامی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ دورنبوی سے لے کر آج کی جدید دنیا تک حجاب مسلمان عورت کا بنیادی فریضہ رہا ہے ، جس کو وہ کسی شوق ، فیشن ، جبر ، پابندی ، مردوں کے حکم ، معاشرے کے رواج کی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ کے حکم اور قرآن کے عائد کئے ہوئے فرض اور حضور نبی کریم کی طرف سے نافذ کئے گئے قانون کی وجہ سے کرتی ہے اور اسے اپنے لئے وجہ افتخار سمجھتی ہے لیکن استحصالی قوتیں مسلمان عورت کے اس بنیادی حق کو مذہبی شعائر اور سیکولرازم کے خلاف مشتعل کرنے والا نشان بناکر دہشت گردی کی علامت کے طور پر مشہور کررہی ہیں۔

خصوصاً نقاب والی عورت کو دہشت گرد اور فرسودہ اقدار والی عورت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جس کو مسلم معاشرے کبھی بھی قبول نہ کریں گے خواہ اسلام دشمن طاقتوں کے لئے کتنی بھی خوف کی علامت کیوں نہ ہوں۔

میں یہاں پر یہ بات بھی واضح کرنا چاہتی ہوں کہ اسلام مکالمے، رواداری ، امن و سلامتی اور محبت و اخوت کا دین ہے۔ مسلمان عورت انہیں نظریات کے ساتھ پروان چڑھتی ہے۔ وہ آج بھی دنیا کو امن کا گہوارہ بنانے اور ”جیو اور جینے دو“ کے اصولوں پر اس زمین کو محبت و سلامتی کی آغوش میں دینے کے لئے سرگرداں ہے مگر آج اس کے لئے حجاب کی پابندی، اس کے خاندان میں بنیادی کردار اور مخلوط معاشرے کی تباہ کاریوں سے بچ کر محفوظ اور محبت بھری پناہ گاہوں میں رہنے کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ اس کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اسی عورت کی اہمیت ہے جو مرد کی طرح سوچے، مرد کی طرح جیئے اور حتیٰ کہ مرد کی طرح لباس پہنے۔

شرق و غرب میں بیدار ہونے والی نئی مسلمان عورت تمام تر دہشت گردی (چاہے وہ انفرادی ہو یا ریاستی) سے سرعام بیزاری اور نفرت کا اعلان کرتے ہوئے اس بات کا عزم کر رہی ہے کہ اپنی روایات اور اپنی اقدار پر کسی کا زبردستی تسلط تسلیم نہ کرے گی۔ چاہے اس کے لئے اسے کتنی ہی قربانی کیوں نہ دینی پڑے اور ہم اقوام عالم اور ان کے اداروں سے بھی یہ توقع رکھتی ہیں کہ زبردستی اپنی تہذیب اور اقدار کو تھوپنے کی بجائے وہ مکالمے ، بحث و مباحثے اور احترام و رواداری کے اعلیٰ انسانی اصولوں کو اپنائیں گے تاکہ ہم مہذب معاشرے کو تشکیل دے کر مہذب اقوام سے اس روئے زمین کو مہذب اور امن و آشتی کی جگہ بنا سکیں۔

تحریر: سمیحہ راحیل قاضی

بشکریہ کراچی اپ ڈیٹس


متعلقہ تحریریں :

حجاب کیوں ضروری ہے؟

حجاب کیوں ضروری ہے؟ ( حصّہ دوّم )

اہل مغرب کي ايک ظاہري خوبصورتي مگر درحقيقت؟!

خواتين کے بارے ميں اسلام کي واضح، جامع اور کامل نظر

خواتين سے متعلق روايات ميں ظالمانہ فکر و عمل سے مقابلہ

خواتين سے متعلق صحيح اور غلط نظريات

خواتين کے بارے ميں تين قسم کي گفتگو اوراُن کے اثرات

ماں کی عظمت میں شاعری

شوہر داري يعنى شوہر كى نگہداشت اور ديكھ بھال

ماں باپ كى ذمہ داري