• صارفین کی تعداد :
  • 3436
  • 1/6/2011
  • تاريخ :

 مکتب تشیع کا نجات دہندہ (حصّہ پنجم)

امام جعفر صادق(ع)

مختصر یہ کہ اس آسمانی کرہ میں دنیا کا مرکز زمین تھا اور سورج چاند اور سیارے زمین کے ارد گرد حرکت کرتے دکھائے گئے تھے یہ پہلا کرہ آسمانی تھا جو آسمان کے متعلق امام صادق نے دیکھا تھا اور ابھی آپکی عمر گیارہ سال سے زیادہ نہیں ( اگر آپ کی تاریخ والدت ۸۰ھ مان لی  جائے ) کہ آپ نے اس کرہ اور بطلیموس کے جغرافیہ کے بارے میں اظہار خیال فرمایا اور کہا سورج سال میں ایک بار کرہ زمین کے ارد گرد چکر لگاتا ہے اور اس کی گردش کا راستہ بارہ برج ہے اور ان میں ہر برج کا تیس رات دن قیام ہے اس طرح تو ہمیں ہر وقت سورج دکھائی دینا چاہیے ۔

گیارہ سالہ بچے کا اظہار خیال نہایت ماہرانہ تھا اور جب آدمی یہ کرہ سوغات لے کر آیا تھا اس نے جوابا کہا بطلیموس کہتا ہے کہ سورج کی حرکات دو قسم کی ہیں ایک حرکت بروج کے احاطے میں ہے اور سورج سال میں ایک بار بارہ برجوں سے گزرتا ہے اور زمین کے ارد گرد چکر لگاتا ہے اور سورج کی دوسری حرکت کرہ زمین کے ارد گرد ہے ہر رات دن ایک دفعہ زمین کے گرد چکر لگاتا ہے اور نتیجہ ہم ہر صبح اسے طلوع ہوتے ہوئے اور ہر شام کو غروب ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں ۔

جعفر صادق نے فرمایا ممکن ہے یہ دونوں حرکات ایک ساتھ ہوں کیونکہ سورج جب بروج کے احاطے میں گردش میں مشغول ہوتا ہے کس طرح سے چھوڑ کر زمین کے اردگرد چکر لگا سکتا ہے ۔

سوغات لانے والے نے کہا سورج رات کو بروج کے احاطے کو ترک کرتا ہے تاکہ زمین کے گرد چکر لگائے اور صبح کے وقت زمین کے مشرق سے طلوع کر سکے جعفر صادق نے فرمایا اس طرح تو سورج صرف دن ہی کو بارہ میں سے کسی ایک برج میں ہوتا ہے اور راتوں کو وہاں نہیں ہوتا کیوں کہ آپ کے بقول رات کو اسے چاہیے کہ وہ جگہ چھوڑ دے اور زمین کے گرد چکر لگائے تاکہ صبح زمین کے مشرق سے طلوع کر سکے اگر ایسا ہے تو رات کو سورج ہمیں کیوں دکھائی نہیں دیتا شاید اپنے چہرے پر پردہ ڈال دیتا ہے تاکہ دکھائی نہ دے ۔

جس وقت جعفر صادق نے اس آسمانی کرہ کو دیکھا تھا ۔ بطلیموس کی موت کو پانچ سو ساٹھ سال ہو گئے تھے اور ابھی تک کسی نے بھی غور نہیں کیا تھا کہ اس آسمانی کرہ کے بارے میں اظہار خیال کرے اور پوچھے کہ کس طرح سورج جو بقول بطلیموس ہر برج میں تیس دن سفر کرتا ہے اور زمین کے گرد بھی چکر کاٹتا ہے ہر روز و شب میں ایک مرتبہ اپنے ٹھکانے اور راستے کو بدلتا ہے تاکہ زمین کے گرد چکر لگائے ان پانچ سو ساٹھ سالوں میں کسی کو یہ خیال نہ آیا کہ بطلیموس کی ہےئت پر تنقید کرے اور کہے کہ سورج کی زمین کے اردگرد گردش جو وہ بروج کے احاطے ہو کر کرے عقلی لحاظ سے قابل قبل نہیں ہے ۔

کسی نے بھی بطلیموس کی کتاب المحسبتی کو پڑھتے ہوئے ان پانچ سو سالوں میں کوشش نہیں کی کہ اپنی عقل کو استعمال کرے ۔ جب کہ علم نجوم کے بارے میں بطلیموس کا نظریہ کوئی بھی نہیں تھا کہ ہم کہیں اسے بلا چوں و چرا قبول کر لیا جانا چاہیے تھا البتہ پہلے زمانے میں دو باتیں سائنس دانوں پر تنقید سے روکتی تھیں پہلی یہ کہ استاد کا احترام ملحوظ خاطر رکھا جاتا تھا کہ جو کچھ استاد نے کہا ہے صحیح ہے اور اس پر تنقید نہیں کی جا سکتی اور دوسری پرانے لوگوں کی سستی ۔ اس سے ہماری مراد عام لوگوں کی ذہنی سستی ہے کیونکہ پرانے وقتوں میں عام لوگوں سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی تھی کہ وہ علمی مسائل کے بارے میں اپنا اظہار خیال کریں اس کی وجہ ترویج علم کے وسائل کی محدودیت تھی اور صرف وہ لوگ جو مشرق و مغرب کے مدارس میں علم حاصل کرتے تھے انہیں علم سے دلچسپی تھی اور ان علمی مدارس کے باہر سے کوئی آدمی علم کے بارے میں اپنے شوق کا اظہار کرتا تو وہ بھی ان مدارس کے علماء سے رابطے کی وجہ سے علم سے لگاؤ پیدا کر لیتا تھا ۔

اور یہ صورت حال کم و بیش موجود تھی کہ چھپائی کی صنعت ایجاد ہوئی اور مغرب میں علم کو یونیورسٹی کی حدود سے نکال کر عام آدمی کی رسائی تک پہنچا دیا ۔ لیکن مشرق میں اس وقت تک علم مدارس سے باہر نہیں نکلا تھا ۔ بہر حال جس طرح مشرق کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں کسی نے بطلیموس نجومی کے نظریہ پر تنقید کرنے کی طرف توجہ نہیں دی ا سی طرح مغرب کی بڑی بڑی یونیورسٹیاں بھی اس بارے میں لا پرواہ رہی ہیں ۔

وہ پہلا شخص جس نے اس نظریہ کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ۔ وہ جعفر صادق تھے جب وہ اپنے والد کے حلقہ درس میں شریک تھے تو انہوں نے فرمایا کہ بطلیموس نجومی کا نظریہ عقلی لحاظ سے قابل قبول نہیں ہے ۔

اس کے بعد اس ہونہار نے بطلیموس کے نظام نجوم کے بارے میں سوچنا شروع کیا کہ اس نظام میں کون سی خرابی ہے ؟ اور ایسا کیوں ہوتا ہے کہ سورج بارہ برجوں میں زمین کے ارد گرد بھی گھومتا ہے اور اسی طرح ہر روز زمین کے مشرق سے طلوع اور غرب بھی ہوتا ہے ۔

جب جعفر صادق اپنے والد گرامی کے حلقہ درس میں ہر روز حاضر ہوئے تو ان کی نظر کرہ آسمانی پر پڑتی اور وہ بطلیموس نجومی کے نظام میں نقص کے مسئلہ کا اعادہ کرتے لیکن ان کے والد یہ کہہ کر خاموش کرا دیتے کہ بطلیموس نے علطی نہیں کی یہ فطری بات ہے کہ وہ گیارہ سالہ بیٹا باپ کے احترام میں خاموش ہو جاتا اور اپنی تنقید کو مزید آگے نہیں بڑھاتا تھا اور جو لوگ اس حلقہ درس میں حاضر ہوتے تھے ان سے بھی کوئی مدد حاصل نہیں کر سکتا تھا کیونکہ وہ بھی معتقد تھے کہ بطلیموس نے غلطی نہیں کی اور سورج اس کے بتائے ہوئے نظام کے مطابق زمین کے ارد گرد چکر لگاتا ہے ۔

جیسا کہ ہم نے کہا امام محمد باقر کے حلقہ درس میں اس طرح جدت آئی کہ شروع میں وہاں جغرافیہ اور ہیئت ہی پڑھائی جاتی تھی لیکن بعد میں علم ہندسہ کی تعلیم بھی شروع ہوئی ۔ بہر کیف استاد محمد باقر ہی رہے علم ہندسہ بھی جغرافیہ اور ہیئت کی مانند قبطی دانشوروں کے ذریعے مصر کے راستے محمد باقر تک پہنچا اور انہوں نے یونانی اقلیدس (جو تین صدیاں قبل مسیح میں پیدا ہوا تھا ) کے علمی قواعد سے استفادہ کیا خود اقلیدس اور اس سے پہلے بھی لوگوں کا عقیدہ تھا کہ زمین گول ہے اگرچہ وہ ایک عظیم انجینئر تھا لیکن وہ زمین کے طول و عرض کا اندازہ نہیں کر سکا تھا ۔

امام جعفر صادق(ع)

اس سے پہلے کہ یونان کی تاریخ ترتیب دی جاتی اور ہم جانتے ہیں کہ یونانی لوگوں نے دن و رات کے تبدیل ہونے کے بارے میں کیا نظریہ پیش کیا تھا ؟ یونانی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ یونانی ہزاروں کی تعداد میں سورج کے وجود کے قائل تھے اور ان کا خیال تھا کہ جو سورج صبح طلوع اور شام کو غرب ہوتا ہے وہ ایک ایسی جگہ جاتا یا گرتا ہے جس کے بارے میں کچھ علم نہیں ہو سکتا اور جو سورج دوسرے دن مشرق سے طلوع ہوتا ہے وہ پہلے دن والا سورج نہیں ہے اس طرح قدیم یونانیوں کے عقیدہ کے مطابق ہر دن ایک نیا سورج طلوع ہوتا ہے اور پہلی دن والا سورج نہیں ہوتا ۔

وہ کہتے تھے کہ زؤس (خداؤں کا خدا ) جسے لا طینی میں جوپیٹر (jupitor)کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اس کے پاس بہت زیادہ آگ یا روشنی کے چراغ ہیں اور ہر صبح اس آگ یا چراغوں میں سے ایک کو آسمان کی طرف بھیجتا ہے تاکہ زمین کو روشن اور گرم رکھے اور جس وقت ختم ہو کر راکھ بن جاتی ہے یا چراغ میں تیل نہیں رہتا تو وہ غرب ہو جاتا ہے اور خاموش چراغ وہاں گرتے ہیں جہاں تک کسی کی رسائی نہیں ۔

کیا زؤس خداؤں کا خدا جو ہر دن ایک سورج کو آسمان پر بھیجتا تھا بجھے ہوئے چراغوں سے استفادہ کرتا تھا اور ان کا تیل بدلتا تھا تاکہ دوبارہ انہیں آسمان پر بھیجے ؟ اس سوال کا جواب مشکوک تھا ۔ اور بعض کا عقیدہ تھا کہ زؤس بجھے ہوئے چراغوں سے استفادہ کرتا ہے اور بعض کا یہ عقیدہ تھا کہ استفادہ نہیں کرتا ۔

قدیم یونانیوں نے ستاروں کے مسائل کو اپنے لئے آسان بنا دیا تھا اور ہر چیز کی وضاحت زؤس کے فیصلوں اور کاموں سے کرتے تھے ۔

پانچویں صدی قبل از مسیح جو یونانی دانشوروں کا عہد ہے اور ان کی علمی تاریخ بھی موجود ہے ۔ یونانی علماء نے اس طرف توجہ کی کہ دن رات کے فرق کی وجہ معلوم کریں جو کوئی قدیم یونان سے واقف ہے وہ اس بات کو بخوبی جانتا ہے کہ قدیم یونانی دانشوروں میں سے بہت کم ایسے تھے جنہوں نے دن و رات کے فرق کی وجہ معلوم کرنے کی طرف توجہ دی ۔

ان دانشوروں میں سے تین مشہور یعنی سقراط ‘ افلاطون اور ارسطوں ہیں یہ دوسرے علوم کے مقابلے میں علم الاجتماع سے زیادہ لگاؤں رکھتے ہیں یہاں تک کہ ارسطو جس نے فزکس اور ہوا کہ بارے میں بھی لکھا ہے وہ بھی علم الاجتماع سے خاص دلچسپی رکھتا تھا اور اس کا مستائی فلسفہ علم الاجتماع سے ملتا جلتا ہے ( مستی کے معنی ہیں راہ چلنا چونکہ ارسطو چلتے ہوئے پڑھاتا تھا ) جن چند لوگوں نے دن و رات کے فرق کی وجہ کو معلوم کرنے کی جانب توجہ کی ان میں سے ایک اقلیدس بھی تھا جس کا شمار نہ تو انجینئرز میں اورنہ نجومیوں (ماہرین فلکیات ) میں ہوتا تھا ۔ مشرق کی طرف سے اقلیدس کا خیال تھا کہ یہ کہانی زؤس ہر دن ایک گولہ آگ یا چراغ آسمان پر بھیجتا ہے ۔

یہ چراغ آسمان کو عبور کرنے کے بعد بجھ جاتا ہے درست نہیں ہو سکتی وہ بطلیموس سے ۴۵۰ سال پہلے اسکندریہ میں رہتا تھا اس نے کہا سورج جو دوسرے دن طلوع ہوتا ہے وہی سورج ہوتا ہے جو پہلے دن طلوع ہوتا ہے اور ایک دن بعد مشرق سے طلوع ہونے کی وجہ یہ ہے کہ تیسری صدق قبل مسیح ایک ایسی صدی تھی جس میں یونان اور اسکندریہ میں علم نے ترقی کی لیکن اس میں اتنی جرات نہیں ہوئی کہ وہ دن و رات کے وجود میں آنے کے سبب کو اپنی زندگی میں بیان کر سکے ۔

امام جعفر صادق(ع)

وہ ارسطو کے ایک صدی بعد دنیا میں آیا اور اس سے قبل ہی یونانی دانشوروں نے علم کو قبول کرنے کے لئے اذہان کو آمادہ کر لیا تھا اور اسی دور میں جس میں اقلیدس رہتا تھا ۔ پیرون نام کا ایک آدمی جس نے یونان میں نہ صرف یہ کہ ارسطو اور افلاطون کے نظریات کی مخالفت کی بلکہ یونانی خداؤں یعنی یونان کے سرکاری مذہب کی بھی مخالفت کی اور کہا کہ یونانی خدا محض ایک افسانہ ہیں ۔

لیکن پیرون جو ۲۷۰ قبل مسیح میں فوت ہوا اور اپنے نظریہ کو کھلم کھلا بیان کر سکتا تھا وہ اسکندریہ میں نہیں رہتا تھا بلکہ یونان اور الپز میں رہتا تھا اس زمانے میں یونان الپز یا خود مختار ریاستوں پر مشتمل تھا ۔

اقلیدس اسکندری میں بطالسہ سلسلہ کے پہلے یونانی بادشاہ کے دور میں ہو گزارا ہے اور اسکندریہ مقدونی کے سرداروں میں سے ایک بطلیموس نامی سردار تھا جو کہتا تھا علم ہر محکمہ میں رائج ہو سکتا ہے اور ہونا چاہیے ۔ لیکن وہ خداؤں کے متعلق کوئی بات نہ کہتا تھا اور بطلیموس اول کی علم پروری کا ثبوت یہ ہے کہ اس نے ایک ایسا کتاب خانہ قائم کیا جس نے اسکندریہ میں اس قدر اہمیت اختیار کر لی کہ صدیوں بعد بھی جب مورخین کتب خانہ کا نام لیتے تھے تو ان کی مراد کتاب خانہ اسکندریہ ہوتا تھا ۔   


متعلقہ تحریریں:

"مکتب تشیع کا نجات دہندہ  "

امام جعفر صادق عليہ السلام کا دور

کرامات امام جعفر صادق علیہ السلام

مناظرہ امام جعفر صادق علیہ السلام و ابو حنیفہ

چھٹے امام

شہادت امام جعفر صادق علیہ السلام

حضرت امام صادق (ع) کی شہادت کی مناسبت پر حضرت آیة اللہ العظمی صانعی مدظلہ العالی کے بیانات

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام

امام جعفر صادق علیہ السلام کا دور انقلابی دور تھا

حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام