• صارفین کی تعداد :
  • 3448
  • 1/6/2011
  • تاريخ :

 مکتب تشیع کا نجات دہندہ (حصّہ چهارم)

امام جعفر صادق(ع)

امام محمد باقر نے فرمایا میں نے پیغمبر اسلام کی روح سے درخواست کی ہے کہ آپ کو شفا دے اور چونکہ روح کے اثرات پر میرا ایمان ہے اس لئے مجھے علم ہے کہ تو بھی شفا پائے گی اور میں بھی اس بیماری میں مبتلا نہیں ہوں گا ۔

جس طرح محمد باقر نے کہا تھا اسی طرح ام فروہ کو اس بیماری سے نجات مل گئی اور وہ خود بھی اس بیماری میں مبتلا نہ ہوئے اس خاتون کا تندرست ہو جانا معجزے سے کم نہ تھا کیونکہ چیچک کی بیماری پہلے تو بڑے آدمی پر بہت کم حملہ آور ہوتی ہے اور اگر حملہ آور ہو جائے تو مریض کا صحت یاب ہونا بعید ہوتا ہے ۔

شیعوں کا عقیدہ ہے چونکہ امام محمد باقر، امام تھے اور ہر امام کے پاس لا محدود طاقت اور علم ہوتا ہے اور جب وہ ام فروہ کے سر ہانے پہنچے تو انہوں نے اپنی امامت کے علم اور طاقت کے ساتھ ام فروہ کو شفا دی ۔

لیکن ایک غیر جانبدار مورخ اس بات پر یقین نہیں رکھتا حالانکہ یہ بات صحیح ہے کہ اس وقت کے طبیب چیچک کا علاج کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے اس لحاظ سے ام فروہ کا تندرست ہو جانا ایک منفرد واقعہ شمار کیا جاتا ہے ۔

تندرست ہونے کے بعد ام فروہ مدینے واپس چلی آئیں لیکن چونکہ ابھی تک چیچک کی بیماری مدینہ میں موجود تھی لہذا اس نے بیٹوں کو شہر نہیں بلایا ۔

اسی سال ۹۰ھ میں اور ایک دوسری روایت کے مطابق ایک سال بعد امام جعفر صادق نے اپنے والد گرامی کے حلقہ درس میں حاضری دینا شروع کیا ۔

اس بات پر تمام مورخین کا اتفاق ہے کہ جعفر صادق دس سال کی عمر میں اپنے والد کے حقلہ درس میں حاضر ہوئے محمد باقر کا حلقہ درس ایک شاندار مدرسہ تھا اور جو لوگ یہاں سے فارغ ہوتے تھے وہ اس زمانے کے علوم کو سیکھتے تھے لہذا جعفر صادق کی اعلی تعلیم کا آغاز دس سال کی عمر میں ہوا اور یہ بات ایک ذہین لڑکے کے بارے میں حیرت انگیز تھی ۔ مغربی دنیا کی چند ایسی مشہور شخصیتوں کے نام لئے جا سکتے ہیں جنہوں نے دس سال کی عمر میں یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کی ۔

جب امام جعفر صادق اپنے والد گرامی کے حلقہ درس میں شامل ہوئے تو پہلی مرتبہ محمد باقر نے بطلیموس کا جغرافیہ پڑھانا شروع کیا اور پہلے دن جعفر صادق نے بطلیموس کی کتاب المحسبتی کو پڑھا (یاد رہے یہ کتاب علم ہیت اور جغرافیہ کے بارے میں ہے )

آپ نے پہلے ہی دن پہلی مرتبہ اپنے والد سے سنا کہ زمین گول ہے کیونکہ بطلیموس نے جو دوسری صدی عیسوی میں زندہ تھا ‘ اپنی کتاب المحسبتی میں لکھا ہے کہ زمین گول ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ لوگ کو پر نیک ‘ نجومی کے زمانے ہی سے جو ۱۴۷۳ عیسوی میں پیدا ہوا اور ۱۵۴۳ عیسوی میں فوت ہوا زمین کے گول ہونے کے قائل تھے ۔

اس صورت میں جبکہ تمام مصری سائنس دان جانتے تھے کہ زمین گول ہے کو پرنیک جو ابھی جوانی کے مرحلے میں داخل ہوا تھا اور اس نے ابھی زمین کے گول ہونے اور سوج کے گرد چکر لگانے کا نظریہ پیش نہیں کیا تھا کرسٹو فر کولمبس زمین کے کروی ہونے کی سند کے ساتھ مشرق کی جانب جہاں خوردنی دواؤں کے جزیرے تھے چل پڑا تاکہ مغرب کے راستے وہاں تک پہنچے ابھی تک کرسٹو فر کولمبس نے اپنی مشہور کتاب ( جس میں اس نے لکھا ہے کہ زمین اور دوسرے سیارے آفتاب کے گرد گھومتے ہیں ) لا طینی زبان میں شائع نہیں کی تھی کہ مالان ( ایک پرتگالی ) جو سپین کے بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا ۔ اس نے اپنی کشتیوں کو سیویل کی بندر گاہ سے سمندری راستے پر ڈال دیا اور اس ساری زمین کا ایک مکمل چکر کاٹا اس کے ساتھی تین سال بعد ہسپانیہ واپس آ گئے جبکہ وہ فلپائن کے جزائر میں وہاں کے مقامی باشندوں کے ہاتھوں قتل ہوا اور پہلی بار زمین کے گول ہونے کو ثابت کیا اس طرح پہلی بار تصدیق ہوئی کہ زمین گول ہے ۔

کوپرنیک سے پہلے زمین کا گول ہونا ثابت تھا لیکن بطلیموس نے المحسبتی میں لکھا کہ زمین دنیا کا مرکز ہے اور سوج ‘ چاند ستارے  اور سیارے سب زمین کے گرد چکر لگاتے ہیں لیکن کوپر نیک نے کہا زمین دنیا کا مرکز نہیں ہے بلکہ سورج دنیا کا مرکز ہے اور زمین اور دوسرے سیارے سورج کے گرد چکر لگا رہے ہیں ۹۱ھ میں جب جعفر صادق اپنے والد کے حلقہ درس میں شریک تھے تو ان کو دو نئے واقعات پیش آئے جو ان کیلئے خاصی اہمیت کے حامل تھے ۔

پہلا واقعہ یہ تھا کہ امام محمد باقر کے مریدوں اور شاگردوں میں سے ایک جب اپنے وطن مصر سے واپس آیا تو اپنے ساتھ لکڑی اور مٹی سے بنایا ہوا جغرافیائی کرہ لایا کیوں کہ مصر میں مٹی سے بہت سی چیزیں تیار کی جاتی تھیں مثلا مجسمے وغیرہ اور مصر کے باہر رہنے والے لوگ ان اشیاء کو بطور تحفہ لے جاتے تھے یہ خاصی مہنگی فروخت ہوتی تھیں مٹی کا وہ جغرافیائی کرہ جو محمد بن فتی مصر سے محمد باقر کیلئے بطور سوغات لایا تھا ایک ایسے گول ستون کی مانند تھا جس پر کسی کرہ کو رکھتے ہوں گے ۔

یہ گول ستون زمین شمار کی جاتی تھی اور جو کرہ تھا وہ آسمان تھا اور اس کرہ آسمانی پر ستارے اس طرح لگائے گئے تھے جیسے بطلیموس نے دوسری صدی عیسوی میں اظہار خیال کیا تھا ۔ یا اس کا خیال تھا بطلیموس نے آسمانی ستاروں کیلئے جو اس زمانے میں دیکھے جاتے تھے اڑتالیس تصاویر کو مد نظر رکھا جیسا کہ ہم نے کہا ہے یہ تصاویر اس کی اختراع نہیں تھیں بلکہ اس سے پہلے کے نجومیوں نے انہیں ایجاد کیا تھا البتہ بطلیموس نے انہیں ایک مکمل شکل دی ۔ اس کے کہنے کے مطابق دنیا میں ثابت ستاروں کی تعداد اڑ تالیس تھی اور بطلیموس نے اس بڑے آسمانی کرہ پر ہر مجموعہ کی شکل بنائی اور ہر ایک کا نام مصری زبان میں لکھا ۔

اس آسمانی کرہ میں ستاروں کے بارہ مجموعے حمل سے لے کر حوت یعنی برہ سے ماہی تک کمر بند کی مانند اس کرہ کا احاطہ کئے ہوئے تھے اور سورج کو بھی کرہ کے اسی حصہ میں دکھایا گیا تھا تاکہ یہ دکھائیں کہ سورج سال میں ایک مرتبہ آسمان میں اس کمر بندی کے علاقے سے گزرتا ہے ۔ سورج کے علاوہ چاند اور سیارے بھی آسمانی کرہ میں نظر آتے تھے اور سیارے بھی سورج اور چاند کی طرح زمین کے ارد گرد گھومتے تھے ۔


متعلقہ تحریریں:

کرامات امام جعفر صادق علیہ السلام

مناظرہ امام جعفر صادق علیہ السلام و ابو حنیفہ

چھٹے امام

شہادت امام جعفر صادق علیہ السلام

حضرت امام صادق (ع) کی شہادت کی مناسبت پر حضرت آیة اللہ العظمی صانعی مدظلہ العالی کے بیانات

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام

امام جعفر صادق علیہ السلام کا دور انقلابی دور تھا

حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام

امام جعفرصادق (ع): ہمارے شیعہ نماز کے اوقات کے پابند ہیں

امام جعفرصادق علیہ السلام کے بعض نصائح و ارشادات