• صارفین کی تعداد :
  • 2742
  • 1/2/2011
  • تاريخ :

حکیم سنائی

حکیم سنائی کا مزار

 حکیم سنائی  کا  پورا  نام ابوالمجد بن آدم  اور ان کا تخلص " سنائی تھا ۔  وہ 470 ہجری  میں  موجودہ افغانستان کے شہر غزنی میں پیدا ہوۓ ۔ وہ ایک نہایت سادہ انسان تھے جنہوں نے اپنی  پوری زندگی  درویشی اور فقیری میں گزاری ۔  انہیں سیر و سیاحت کا شوق تھا اور   اسلامی حکومت کے زیر اثر مناطق کی سیر کرنے کے لیۓ  نکلے اور اسی دوران انہیں حج کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی ۔ حکیم سنائی کو مختلف علوم  پر دسترسی حاصل تھی جن میں تفسیر ، حدیث ، فقہ اور ادبی علوم شامل  تھے ۔ اس کے علاوہ وہ فلسفہ ، ہندسہ اور علم طب میں بھی ماہر تھے ۔ ایک حد تک وہ خواب کی تعبیر بتانے کا علم بھی جانتے تھے ۔  حکیم کو ان کی اعلی علمی قابلیت  اور ذہانت کے صلے میں مختلف القاب سے نوازا گیا ۔  جن القاب سے انہیں نوازا گیا ان میں " حکیم " اور " شیخ " شامل ہیں ۔ وہ اپنے زمانے کے معروف اور ہردلعزیز  شخص تھے اور شعراء ، عرفاء اور  علماء کی نظر میں انہیں نہایت اعلی مقام حاصل تھا ۔ آپ ایک اعلی درجہ کے شاعر تھے اور سب سے پہلے غزل کو حکیم سنائی نے ہی رواج دیا ۔ انہوں نے قصائد ، غزلیات اور مثنویات پر طبع آزمائی کی ۔ آپ کی مثنویوں کو بہت زیادہ شہرت حاصل ہوئی ۔ ان  کی مشہور مثنویوں میں حدیقتہ الحقیقہ ، طریق التحقیق ، سیر العباد الی المعاد ، مثنوی کارنامہ ، عقل نامہ اور عشق نامہ   بہت معروف ہیں ۔ جب سنائی کو احساس ہوا کہ پست اخلاق  اور بد اعمال کی مدح نہیں کرنی تو  دنیا کی زندگی سے بیزار  ہوۓ اور زہذ و تقوی و سلوک کی طرف مائل ہو گۓ ۔ یہی وہ دور تھا جب ان کی شاعری نے ایک نیا موڑ لیا  ۔

ما در  طلب زلف تو چون زلف تو پیچان

ما در ہوس چشم تو چون چشم تو بیمار

 حکیم سنائی بہت ہی سادہ ، واضح اور صریح انداز میں شاعری کیا کرتے تھے ۔ ان کے کلام میں زلف ، چشم بیمار، می و میکدہ ، رند و خرابات جیسی اصلاحات کو مضامین  تصوّف میں استعمال کیا  گیا ہے اور خیال یہ کیا جاتا ہے کہ شاید حکیم سنائی وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے سب سے پہلے  ایسی اصلاحات کا استعمال مضامین  تصوّف میں کیا ۔  حکیم سنائی کی وجہ شہرت ان کی مثنویاں ہیں ۔ ان کی استادانہ مہارت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ شیخ عطار اور مولانا روم جیسے عظیم شعراء نے حکیم سنائی کو اپنا پیشوا تسلیم کیا ۔ حکیم سنائی اپنے کلام میں صوفیانہ اور قلندرانہ اصطلاحات کا استعمال عام طور پر کیا کرتے تھے ۔ وہ اپنے خیال کی تائید میں حکایت یا تمثیل لاتے ۔ پندو  موعظت کو سادہ  اور عام فہم انداز میں پیش کیا کرتے جو لازمی طور پر قاری کو متاثر کر دیتا ۔

 

 تحریر و ترتیب  : سید اسداللہ ارسلان


متعلقہ تحریریں:

ناصر خسرو قبادیانی

میرزا تقی امیر کبیر

خیام نیشابوری

مہرداد اوستا بروجردی

مير زاده عشقي

حکیم نظامی گنجوی، فارسی کا ایک بڑا شاعر

حکیم نظامی گنجوی، فارسی کا ایک بڑا شاعر (حصّہ دوّم)

ابوریحان البیرونی

عظیم مسلمان سا‏ئنسدان " ابو علی سینا "

بابا طاھر عریاں