• صارفین کی تعداد :
  • 3213
  • 1/5/2011
  • تاريخ :

نظم کیا ہے ؟

بسم الله الرحمن ارحیم

حضرت علي (ع) کي وصیت ميں انکا ذکر ہونا انکي اہمیت پر دلالت کیلئے کافي ہے۔ انسان کیلئے نظم و ضبط کي اہمیت اس وقت اور بڑھ جائے گي کہ جب وہ اپني عملي زندگي ميں اس  کے صحیح معني اور مفہوم سے استفادہ کرے۔ نظم یعني ہر چیز کا اس کے صحیح مقام پر موجود ہونا۔ یہ وسيع و عريض کائنات، يہ پہناور زمین اورہمارے سر پر موجود يہ نيلگوں آسمان،ان سب پر نظم و ضبط کا ايک قانون حاکم ہے اور اس نظم و ضبط کو کائنات ميں رونما ہو نے والے تمام اموراورحقائق ميں محسوس کیا جا سکتا ہے۔ انسان بھي اسي کائنات کا ایک جز ہے اور اس ميں بھي نظم و ضبط کا بخوبي مشاہدہ کیا جا سکتا ہے بلکہ ہر انسان کي زندگي ایک طبیعي قانون کے تحت پروان چڑھ رہي ہے۔

خون کي گردش ، دل کي دھڑکن،پھیپڑوں کي حرکت اور ان جیسے کئي امور اور حرکات کہ جو بدن انساني ميں انجام پا رہي ہیں ، ایک خاص نظم کے تابع ہيں اور اسي طرح اگر انسان کے تمام افعال منظم ہوں تو اس کے ارد گرد پھیلي ہوئي کائنات سے اسکے روابط ہم آہنگ اور منظم ہوجائیں گے۔ انسان کا اپنے تمام افعال ميں منظم ہونا اسے اس بات کا موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ ہر چیز سے صحيح طو ر پر استفادہ کرے لیکن اگر انساني جسم ميں بے نظمي پیدا ہوجائے یا کوئي بیماري اسکا نظم بگاڑ دے ( جبکہ بے نظمي بذات خود ایک بیماري ہے) تو ايسا انسان کئي چیزوں سے محروم ہوجاتا ہے ۔ بالکل یہي حال انسان کے کاموں کا ہے،زندگي شخصي ہو یا اجتماعي (اگر نظم نہ ہو تواسے ہميشہ محرومیت کا سامنا کرنا پڑے گا ) نظم اہمیت رکھتا ہے، البتہ نظم و ضبط کا میدان بہت وسیع ہے ۔ اس نظم ميں انسان کي شخصي زندگي سے لے کر اس کے کام کرنے کي جگہ اور اس کي نجي زندگي ميںاس کے کمرہ تک کہ آیا اسکا ذاتي کمرہ منظم ہے یا نامنظم ، اسي طرح اس کے شخصي امور جہاں یہ کام کرتا اورتعلیم حاصل کرتا ہے،ان چیزوں کے علاوہ اس کے اجتماعي اور سماجي ماحول ومعاشرے کا نظم وضبط اور اجتماعي نظام کي بنیادیں تک اس قا نون نظم ميں شامل ہيں یعني’’ خاص منظم ڈھانچہ ‘‘ کہ جو فلسفي نظریے کا تابع ہے ۔ یہ تما م امور حضرت علي (ع) کي وصیت کي اس عبارت ’’نظم امر کم‘‘ ميں موجود ہيں۔

امیر المومنین (ع) نے نظم وضبط کے ذکر سے پہلے تقويٰ کي طرف اشارہ فرمایا ہے۔ وصیت کے ابتدائي حصہ ميں بھي تقويٰ کا ذکر موجودہے کہ’’ميں تم دونوں کو تقويٰ الہي کي وصیت کرتا ہوں کہ کبھي دنیا کہ پیچھے نہ جانا۔۔۔‘‘لیکن دو جملوں کے بعد دوبارہ فرماتے ہيں ’’ميں تم دونوں بیٹوں اور اپني تمام اولاد کو تقويٰ الٰہي اور اپنے امور کو منظم کرنے کي وصيت کرتا ہوں‘‘۔ شاید یہاں دوبارہ ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ نظم وضبط جو انسان کي شخصي و نجي یا اجتماعي زندگي ميں مطلوب ہے، اسے تقويٰ الٰہي کے زير سايہ قرار دینا چاہئے اور ہمیشہ اسے تقويٰ کے ساتھ ہم آہنگ اور قدم با قدم ہونا چاہئے ۔بس يہ ایک ایسي وصیت ہے کہ جسمیں ہماري زندگي کے تمام مراحل شامل ہيں، شخصي زندگي ہو یا اہل خانہ کے ساتھ ميل ملاپ علم کا میدان ہو یا کسب معاش کي دنيا، اسي طرح وہ تمام امور جو ہم معاشرے ميں انجام دے رہے ہيں ،نظم وضبط اور صحیح منصوبہ بندي کا خیال کرتے ہوئے ہمیں تمام میدانوں ميں قدم رکھنا چاہیے خصوصاً اجتماعي اور معاشرتي خدمت انجام دینے والا انسان چاہے کسي بھي عہدے پر ہو، اسے معاشرے ميں اجتماعي نظم و ضبط کا خیال رکھنا چاہیے ۔

( جاری  ہے )

ولي امر مسلمین حضرت آیت اللہ سید علي خامنہ اي کے خطاب سے اقتباس


متعلقہ تحریریں:

عيب جو گروہ

 اپنے سے بے خبرى

اپنے مال اور اولاد پر  غرور نہ کریں

مساوات کا عملی درس

کیا کریں کہ محبوب ہو جائیں؟

جھوٹ کے نقصانات

اخلاق کى قدر و قيمت

دین كی فاسد اخلاق سے جنگ

گناھوں سے آلودہ معاشرہ

روحانی بیماریاں