• صارفین کی تعداد :
  • 3160
  • 12/27/2010
  • تاريخ :

مسلمان عورت ، استعمار اور ہمارا عزم

مسلمان خاتون

جمہوریت کے عالمی دن پر فرانس کی پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں نقاب پر مکمل پابندی کے بل پر رائے شماری ہوئی اور بل کو ایک مقابلے میں  246 ووٹوں سے پاس کرا لیا گیا۔ فرانسیسی مسلمانوں نے بڑی محبت اور محنت کے ساتھ فرانس کی قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کیا۔ فرانس کے قوانین کا احترام کیا اور جب 1989ءاور پھر 1992ء میں بعض طالبات کو اسکارف سے منع کیا گیا تو عدلیہ کے اعلیٰ ترین ادارے اسٹیٹ کونسل نے اسے مسترد کرکے حجاب کے حق میں فیصلہ دیا۔نئے ہزاریئے کے آغاز میں حجاب کے خلاف جاری مہم نے ایک بار پھر زور پکڑا اور 11دسمبر 2003ءکو ملک کے تمام سرکاری اداروں میں حجاب پر پابندی لگادی۔

مختلف فرانسیسی ذمہ داران کی طرف سے اس کے لئے مضحکہ خیز تاویلات پیش کی جارہی ہیں۔ ہمارے ملک میں بھی فرانس کے محترم سفیر نے اخبارات کے ذریعے بڑے شائستہ انداز میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ اس سے مسلم خواتین کو برابری کی سطح پر لانا مقصود ہے۔ گویا دوسرے الفاظ میں نقاب پسماندگی اور جبر کی علامت ہے جس سے ہم اسے آزادی دلانا چاہتے ہیں مگر یہ ایک گز کا ٹکڑا جسے نقاب یا حجاب کہتے ہیں ، انسانی تاریخ میں شاید ہی کسی اتنی چھوٹی سی چیز کو طاقتور دیکھا گیا ہو کہ اس پر پارلیمان میں بل پاس کرائے جاتے ہوں، اس سے اتنا خوفزدہ ہوا جاتا ہو اور اسے جو کبھی پسماندگی کی علامت سمجھا جاتا تھا آج آزادی اور Political Islam کا عَلم سمجھ کر اس کے خلاف قانون سازی کرائی جا رہی ہے۔ان سب حیلوں اور بہانوں کے باوجود اصل حقیقت یہ ہے کہ مسلمان عورت کے حجاب اور نقاب نے فرانس اور یورپ کے اربوں ڈالرز کی فیشن انڈسٹری کو اپنے پاﺅں کی ٹھوکر پر رکھا ہوا ہے اور ہمارے مقدس اور عفیف حجاب نے فرانس کے عریاں و فحش کلچر کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

 

تحریر: سمیحہ راحیل قاضی

بشکریہ کراچی اپ ڈیٹس


متعلقہ تحریریں :

اہل مغرب کي ايک ظاہري خوبصورتي مگر درحقيقت؟!

خواتين کے بارے ميں اسلام کي واضح، جامع اور کامل نظر

خواتين سے متعلق روايات ميں ظالمانہ فکر و عمل سے مقابلہ

خواتين سے متعلق صحيح اور غلط نظريات

خواتين کے بارے ميں تين قسم کي گفتگو اوراُن کے اثرات

ماں کی عظمت میں شاعری

شوہر داري يعنى شوہر كى نگہداشت اور ديكھ بھال

ماں باپ كى ذمہ داري

لیڈی ہیلتھ ورکر کے مفید مشورے

بچوں کی بات سننے میں ہمیشہ پہل کریں اور انہیں اہمیت دیں