• صارفین کی تعداد :
  • 2703
  • 12/25/2010
  • تاريخ :

مغربی میڈیا اور امت مسلمہ ( حصّہ سوّم )

میڈیا

مسلم ممالک میں تنظیموں اور اداروں کو”میڈیا تھنک ٹینک‘ ‘کا قیام عمل میں لانا چاہیے، ایسے ”میڈیا تھنک ٹینک‘ ‘جو مغرب سے مکالمہ کر سکیں۔ امریکا اوریورپ کے ”میڈیا تھنک ٹینک‘ ‘اسلام مخالف پروپیگنڈے میں پیش پیش ہیں۔ میڈیا تھنک ٹینک کے ذریعے مغربی پروپیگنڈے کا توڑ کیا جا سکتا ہے اور حالات و واقعات کی اصل تصویر دنیا کے سامنے پیش کی جا سکتی ہے۔

مسلم دنیا کے ذرائع ابلاغ کے منتظمین اپنی سطح پر محدود دائرے میں کام کر رہے ہیں۔ مکمل ادراک (وڑن) نہ ہونے اور موثرحکمتِ عملی سے تہی دامن ہونے کی وجہ سے اس کے اثرات صحیح طور پر مرتب نہیں ہو رہے۔ مسلم ممالک کی تنظیموں، اداروں اورتحریکوں کے میڈیا سے متعلق افراد کے نیٹ ورک کومنظم اورمربوط کرنے کی اشد ضرورت ہے جس کے لیے انٹرنیشنل میڈیا کانفرنس کا انعقاد کیا جائے۔ اگرعالم اسلام کی ”میڈیا کانفرنس‘ ‘کا انعقاد ایک تسلسل سے ہو تو نہ صرف میڈیا کے میدان میں پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکتا ہے بلکہ درپیش چیلنجوں کے لیے موثر حکمت عملی بھی تشکیل دی جا سکے گی۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں الیکٹرانک میڈیا اورانٹرنیٹ کی ٹکنالوجی پھیلنے سے مطالعے کا رجحان کم ہو گیا ہے۔ اب لوگ ٹی وی چینلوں اور انٹرنیٹ کے ذریعے معلومات اورتفریح حاصل کرتے ہیں۔ پاکستان سمیت مسلم دنیا کے لیے ناگزیر ہے کہ جدید ٹکنالوجی کے ذریعے دنیا بھر میں اسلام کے حقیقی پیغام کوعام کریں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے جدید خطوط پر پروگراموں کی تیاری کے لیے ”پروڈکشن ہاوس‘ ‘بنانے چاہییں۔

اس کی ایک کامیاب مثال Peace TV کی ہے، جہاں سے نشر ہونے والے پروگرامات پاکستان سمیت دنیا بھر میں بڑے پیمانے پرپھیل چکے ہیں۔

مختلف ممالک میں ایسے ٹی وی چینلوں کو قائم کرنے کی طرف توجہ دینے کی بھی ضرورت ہے جومعاشرے کی تعلیم وتربیت اور شعوروآگہی کو پروان چڑھا سکیں۔

اسلامی دنیا میں میڈیا سے وابسطہ افراد کی فنی تربیت اور میڈیا کو عصرحاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایسے معیاری ”میڈیاانسٹی ٹیوٹ“ قائم کرنے بھی ضرورت ہے جو ایسے افراد تیار کرسکیں جو اسلامی تہذیب وثقافت کو پروان چڑھانے میں اپنا کردارادا کرسکیں۔

امریکا اور یورپ میں الیکٹرانک میڈیا کے میدان میں جدید ٹکنالوجی کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔ اب تو امریکا اور یورپ میں شہروں کی سطح پرحکومت اور این جی اوز کی سرپرستی میں پبلک براڈکاسٹنگ سینٹر بنائے جا رہے ہیں۔ ان ٹریننگ سینٹروں میں میڈیا سے دل چسپی رکھنے والے افراد کو اینکر پرسنز، پروڈیوسرز، سکرپٹ رائٹرز اورکیمرہ و ایڈیٹنگ کی تربیت دی جاتی ہے۔ اس تناظر میں پاکستان سمیت مسلم ممالک میں بھی ایسے پبلک براڈکاسٹنگ سنٹرزکاقیام ضروری ہے۔ ان نشری تربیتی مراکز سے بہترین اینکر پرسنز، پروڈیوسر اور دیگر باصلاحیت افراد تیار کیے جا سکتے ہیں جو مسلم دنیا میں گہرے شعور و ادراک کے فروغ کے لیے کام کرسکیں۔

مغربی میڈیا کی جدید ٹکنالوجی کے جواب میں اگرچہ عالم اسلام میں بھرپور پیش رفت نہیں ہوسکی، تاہم ایران ، سعودی عرب، کویت، قطر اور ترکی نے میڈیا کے میدان میں پیشرفت کی ہے۔ انٹرنیٹ اورٹی وی چینلوں کے ذریعے اسلام کی دعوت احسن اندازمیں پیش کی جا رہی ہے۔ تاہم مسلم ممالک میں جدید میڈیا ٹکنالوجی سے ابھی تک خاطرخواہ استفادہ نہیں کیا جا سکا۔ الیکٹرانک میڈیا کے میدان میں پیش رفت کے لیے موثراورجامع حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ اسلامی تحریکیں، میڈیا ادارے اور مسلم تنظیمیں ہرسطح پر اس کے لیے بھرپور کردار ادا کرسکتے ہیں۔ مسلم دنیا اگر مجوزہ سفارشات اور خطوط پر منظم اور احسن انداز میں اقدامات اٹھائے تو امت مسلمہ میڈیا کے محاذ پر درپیش چیلنج کا بھرپور اور موثر جواب دے سکے گی ۔

 

ختم شد.

تحریر: محمد فاروق چوہان

بشکریہ کراچی اپ ڈیٹ


متعلقہ تحریں :

خطرہ حرم اور حجاب سے ہے

شیعہ ہونے والی ٹونی بلئیر کی سالی لاورن بوتھ

توہین کا سامنا کیا مگر حجاب کو اختیار کیا