• صارفین کی تعداد :
  • 2311
  • 12/22/2010
  • تاريخ :

امامت کے عام معنی ( دوسرا حصّہ)

بسم الله الرحمن الرحیم

قارئین کرام !     ان کے علاوہ بھی دوسرے مقامات پر ان الفاظ کو استعمال کیا گیا ھے۔

چنانچہ علماء اھل لغت لفظ ”امامت“ اور”خلافت“ کے مذکورہ معانی پر متفق ھیں لیکن علماء کلام نے اس سلسلہ میں اختلاف کیا ھے کہ ان دونوں الفاظ کے ایک ھی معنی ھیں یا ان کے الگ الگ معنی ھیں۔

چنانچہ بعض لوگوں نے امامت کی اس طرح تعریف کی ھے:

”امامت، نبی کی اس خلافت کو کہتے ھیں جس میں دین اور نظام دنیا کی محافظت کی جاتی ھے۔“

خلافت کے بارے میں ابن خلدون صاحب کہتے ھیں:

”خلافت کو تمام مسلمان شرعی طور پر آپس میں طے کرتے ھیں تاکہ مسلمانوں کے دینی اور دنیاوی مشکلات کا حل تلاش کیا جاسکے۔“ 

اور اسی بات کی تاکید کرتے هوئے موصوف کہتے ھیں:

”خلافت وہ دینی منصب ھے جو امامتِ کبریٰ کے تحت هوتا ھے“

ایک صاحب نے اس طرح ان دونوں (خلافت وامامت) میں رابطہ بیان کرتے هوئے کھا:

”خلافت امامت کبریٰ ھے او رامامت نماز ؛ امامت ِ صغریٰ  ھے۔“  

 

بشکریہ صادقین ڈاٹ کام


متعلقہ تحریریں:

پیغمبر (ص) امامت کو الٰہی منصب سمجھتے ہیں

امامت پر شیعہ نظریہ کی صحت کی دلیلیں

امامت کے سلسلہ میں دو نظریئے

امام کی شناخت کا فلسفہ

امامت کے بارے میں مکتب خلفاء کا نظریہ اور استدلال

مسئلہ امامت فروع دین میں سے ہے نہ کہ اصول دین میں سے

معنائے ولی اور تاٴویل اھل سنت

قرآن اور امامت علی ( ع)

مسئلہ امامت و خلافت

ضرورت وجود امام

امامت کی تعریف