• صارفین کی تعداد :
  • 3611
  • 12/20/2010
  • تاريخ :

امامت کے عام معنی

بسم الله الرحمن الرحیم

امام کے معنی اپنی قوم کے آگے چلنے والے رھبر اور مقتدیٰ کے ھیں (جیسا کہ عربی لغت میں آیا ھے)۔

لہٰذا امامت کے معنی قیادت اورریاست کے ھیں، اسی وجہ سے نماز پڑھانے والے کو بھی امام کھا جاتا ھے کیونکہ وہ دوسروں سے آگے هوتا ھے۔

چنانچہ قرآن مجید میں اسی لغوی معنی کو استعمال کیا گیا ھے؛ ارشاد هوتا ھے:

<قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامَا>

”خدا نے فرمایا کہ میں تم کو (لوگوں کا) پیشوا (امام) بنانے والا هوں“

<وَمِنْ قَبْلِہِ کِتَابُ مُوْسٰی اِمَاماً وَرَحْمَةً>

(اور اس سے قبل جناب موسیٰ کی کتاب (توریت) جو لوگوں کے لئے پیشوا اور رحمت تھی“

<وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَاماً>

”اور ھم کو پرھیزگاروں کا پیشوا بنا“

<یَوْمَ نَدْعُوْ کُلَّ اُنَاسٍ بِاِمَامِہِمْ>

”اس دن کو یاد کرو جب ھم تمام لوگوں کو ان کے پیشواوٴں کے ساتھ بلائیں گے۔“

اسی طرح قرآن مجید میں دوسری جگہ پر لفظ ”امام“ استعمال هوا ھے۔

 معنی خلیفہ:  جیسا کہ عربی لغت بیان کرتی ھے : امیر، سلطان اعظم او راپنے سے ماقبل کے جانشین کو خلیفہ کھا جاتا ھے۔

لہٰذا خلافت کے معنی امارت، سلطنت اور کسی کے قائم مقام کے ھیں۔

اور اسی معنی میں قرآن مجید میں لفظ ”خلیفہ“ ، ”خلائف“ اور” خلفاء“ استعمال هوا ھے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ هوتا ھے:

<اِنِّیْ جَاعِلٌ فِیْ الْاَرْضِ خَلِیْفَةً>

”میں (اپنا) ایک نائب زمین میں بنانے والا هوں“

<یَادَاوٴُدَ اِنَّا جَعَلْنَاکَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ>

”اے داؤد ھم نے تم کو زمین میں (اپنا) نائب قرار دیا“

<هوالَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلاٰئِفَ الْاَرْضِ>

”اور وھی تو وہ (خدا) ھے جس نے زمین میں (اپنا) نائب بنایا“

<وَاذْکرُوْا اِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ>

”اور (وہ وقت) یاد کرو جب اس نے تم کو قوم نوح کے بعد خلیفہ (وجانشین) بنایا“


متعلقہ تحریریں:

پیغمبر (ص) امامت کو الٰہی منصب سمجھتے ہیں

امامت پر شیعہ نظریہ کی صحت کی دلیلیں

امامت کے سلسلہ میں دو نظریئے

امام کی شناخت کا فلسفہ

امامت کے بارے میں مکتب خلفاء کا نظریہ اور استدلال

مسئلہ امامت فروع دین میں سے ہے نہ کہ اصول دین میں سے

معنائے ولی اور تاٴویل اھل سنت

قرآن اور امامت علی ( ع)

مسئلہ امامت و خلافت

ضرورت وجود امام

امامت کی تعریف