• صارفین کی تعداد :
  • 2614
  • 12/18/2010
  • تاريخ :

امامت، قرآن و حدیث کی روشنی میں

بسم الله الرحمن الرحیم

مقدمہ

قارئین کرام !  ”امامت“ کے موضوع پر بہت زیادہ بحث وگفتگو هوئی ھے یھاں کہ اس سلسلہ میں ہزاروں کتابیں لکھیں جا چکی ھیں اورمتعدد موٴلفین نے اس سلسلہ میں بہت سی فروعات پر تفصیلی گفتگو کی ھے چنانچہ بعض موٴلفین نے کچھ پھلووں پر گفتگو کی ھے تو بعض دیگر موٴلفین نے دوسرے پھلو پرروشنی ڈالی ھے، کیونکہ بعض موٴلفین نے بحث امامت کو قرآن کی روشنی میں بیان کیا اوربعض دیگر موٴلفین نے امامت کو حدیث کی روشنی میں، تو بعض موٴلفین نے امامت کو علم کلام کی روشنی میں بیان کیا تو کسی نے تاریخ کی روشنی میں اور کسی نے امامت کی بحث کو وقت وفات النبی  سقیفہ کے حدود میں بیان کیا ھے تو بعض لوگوں نے ائمہ (ع) کی سوانح حیات اور ان کی تاریخ بیان کی ھے، چنانچہ آج تک یہ سلسلہ اسی طرح جاری وساری ھے۔

 چونکہ اس سلسلہ میں لکھی گئی کتابوں کی تعداد بہت زیادہ ھے لیکن پھر بھی بعض لوگوں نے تعصب اور خود غرضی کے تحت اس موضوع کی حقیقت ھی کو بیان نھیں کیا، لہٰذا بہت سی کتابیں اسی تعصب اور کج فکری سے بھری پڑی ھیں چنانچہ اسی تعصب کا نتیجہ ھے کہ ان کتابوں میں ایسے مسائل بیان کئے گئے ھیں جن کو عقل ومنطق قبول نھیں کرتی۔

یھی وجہ ھے کہ ان لوگوں نے بحث امامت کو اس طرح پیش کیا ھے جس میں هوا پرستی اور خیالی تصورات کے علاوہ کچھ نھیں پایا جاتا اور ان میں نہ تو امامت کی حقیقت کو بیان کیا گیا ھے اور نا ھی ایسے نکات کو بیان کیا گیا جو بین المسلمین متفق علیہ هوں،جبکہ ان نظریات کا سبب صرف یھی کتابیں ھیں جو اصل موضوع سے خارج ھیں۔

 لہٰذا اب ھم صاف طور پر بیان کرتے ھیں :

”ھم چونکہ آج امامت کی بحث کرنا چاہتے ھیں جبکہ ”سقیفہ“ کو چودہ صدیاں گذر گئیں ھیں پس یہ کیوں کھا جاتا ھے کہ ھم اختلاف کر رھے ھیں اور جب اختلاف کرتے ھیں (جیسا کہ بحث کرنے والوں کا وطیرہ رھا ھے) تو ھم پر تعصب اور زیادہ روی کی تھمت کیوں لگائی جاتی ھے ؟! جبکہ اختلاف رائے سے کسی واقعہ کی حقیقت نھیں بدلتی۔“

تو کیا اس موضوع کے بارے میں ایسے امور ھیں جن کی وجہ سے معاصر انسان مطمئن هوجائے اور اپنے دل میں موجودہ شبھات کا حل تلاش کرلے؟۔

یا اس سلسلہ میں کچھ ایسے موارد ھیں جن کی وجہ سے انسان دھوکا کھا جاتا ھے یا جن کی وجہ سے نوع بشر کو مشکلات کا سامنا هوتا ھے؟

آج دنیا بھر کے تمام مسلمان اس بات پر متفق ھیں کہ آج ھمارے سامنے کوئی امام حاضر نھیں ھے ، جو ان میں اختلاف کا باعث هو مثلاً بعض لوگ اس کی بیعت کریں او ربعض اس کی بیعت سے انکار کردیں، اور اسی وجہ سے ایسا کوئی جھگڑا نھیں ھے جس سے انسان ڈرے یا اس سلسلہ میں کچھ کہنے والا کسی سے خوف کھا جائے۔

 شاید کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا هو:

”جب باتیں کچھ اس طرح ھیں تو اس گفتگو ، بحث اور جدوجہد کا کیا فائدہ“؟

جواب:

ھم  اس سلسلہ میں اسلام کا حقیقی نظریہ پیش کرنا چاہتے ھیں، کیونکہ اسلام ایک ایسا دین ھے جو نظام زندگی ھے اور ھم اس اھم اور خطرناک موضوع کے بارے میں پیدا هونے والے سوالات کا صاف اور واضح جواب پیش کریں، چنانچہ اس سلسلہ میں چند اھم سوال اس طرح ھیں:

۱۔اسلام کی نظر میں ”امامت“ کے کیا معنی ھیں؟

۲۔کیا”امامت“ ضروری ھے اگر ضروری ھے تو کیسے؟

۳۔کیا واضح طور پر کسی کو منصب ”امامت“ پر منصوب کیا گیا ھے یا انتخاب پر چھوڑ دیا گیا ھے؟

۴۔کیا ”امامت“ منصوص ھے؟ یا "Theocratic"،یاڈکٹیٹری "Dictaorship"  یاڈیموکریٹک  "Democratic" ھے ؟

ان سوالات کے علاوہ اور دیگر پھلو بھی ھیں جن کے بارے میں حقیقت کو واضح کرنے کے لئے عمیق بحث کی ضرورت ھے تاکہ اس اھم مسئلہ میں اسلامی نظریہ واضح هو جائے۔

چنانچہ ھم اس باب میں ایسی روش اختیار کریں گے جس سے ھمارے قارئین کرام اسلامی فرقوں میں موجودہ نظریات میں سے صحیح نظریہ کا انتخاب کر لیں، اور ادھر اُدھر نہ بھٹکنے پائیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وفات کے بعد کے حالات سے بعض مسلمانوں کے احساسات کو ٹھیس پهونچ سکتی ھے لہٰذا ھم ان کو بیان نھیں کریں گے۔

ھماری ساری امید خداوندعالم کی ذات ھے کیونکہ وھی ھماری مدد کرنے والا ھے اور ھمارے لڑکھڑاتے هوئے قدم میں ثبات پیدا کرنے والا ھے اور وھی مذکورہ باتوں کے بیان کرنے میں نصرت ومدد کرنے والا ھے خداوند ! ھمارے قلم کو سهو وخطا سے محفوظ رکھ اور ھمیں اس راستہ پر چلا جس میں تیری مرضی هو، او رھمارا قول و فعل تیری مرضی کے مطابق هو، انہ خیر مسدد و موفق و معین۔

بشکریہ صادقین ڈاٹ کام


متعلقہ تحریریں:

پیغمبر (ص) امامت کو الٰہی منصب سمجھتے ہیں

امامت پر شیعہ نظریہ کی صحت کی دلیلیں

امامت کے سلسلہ میں دو نظریئے

امام کی شناخت کا فلسفہ

امامت کے بارے میں مکتب خلفاء کا نظریہ اور استدلال

مسئلہ امامت فروع دین میں سے ہے نہ کہ اصول دین میں سے

معنائے ولی اور تاٴویل اھل سنت

قرآن اور امامت علی ( ع)

مسئلہ امامت و خلافت

ضرورت وجود امام

امامت کی تعریف