• صارفین کی تعداد :
  • 2456
  • 12/6/2010
  • تاريخ :

عيب جو گروہ

الله اکبر

کچھ لوگوں ميں ايک منحوس عادت يہ ھوتى ھے کہ وہ ھميشہ دوسروں کي لغزشوں اور بھيدوں کى تلاش ميں رھا کرتے ھيں تاکہ ان لوگوں پر نقد و تبصرہ کريں ان کا مذاق اڑائيں ان کى سر زنش کريں ، حالانکہ خود ان لوگوں کے اندر اتنے عيوب ھوتے ھيں اور اتنى کمياں ھوتى ھيں جو کم و کيف کے اعتبار سے ان کے فضائل پر غالب ھوتى ھے ليکن اس کے باوجود يہ لوگ اپنے عيوب سے غافل ھو کر دوسروں کے عيوب تلاش کرتے رھتے ھيں ۔ ياد رکھئے ! لوگوں کے عيوب کى تلاش ايسى منحوس صفت ھے جو انسان کى زندگى کو آلودہ کر ديتى ھے اور اس کى اخلاقى شخصيت کو گرا ديتى ھے ۔

جو چيز انسان کو دوسروں کى عيب جوئى پر ابھارتى ھے وہ احساس کمترى و پست فطرتى ھے اور غرور و تکبر ، خود پسندى سے اس صفت کو تقويت ملتى ھے۔ اسى کى ھى وجہ سے انسان اپني زندگى ميں بڑى اور زيادہ غلطيوں کا مرتکب ھوتا ھے ۔ اس عيب جوئى کى وجہ سے انسان کے اخلاق اور اس کي روحانيت ميںجو تغيرات پيدا ھوتے ھيں وہ انسان کو بڑے غلط اور نامعقول قسم کى غلطيوں پر جرى بنا ديتے ھيں ۔

عيب جو حضرات اپنے افکار کو ايسى چيزوں ميں صرف کرتے ھيں جو کسى بھى طرح عقل و خرد کے نزديک اور شرع کى نظر ميں بھى پسنديدہ نھيں ھيں، کيونکہ يہ لوگ اپنے جانے پھچانے دوستوں کے اعمال کے تجسس ميں لگے رھتے ھيں کہ دوسروں کى کوئى بھى کمزورى ان کے ھاتہ لگ جائے تو اسى کو لے اڑيں اور دوستوں پر نقد و تبصرہ کے ساتھ ان کو بد نام کرتے پھريں اور جس قدر بھى ممکن ھو دوستوں کو لوگوں کى نظروں ميں ذليل و رسوا کريں ۔ اور چونکہ يہ لوگ دوسروں کي عيب جوئى ميں لگے رھتے ھيں لھذا ان کو اتنى فرصت بھى نھيں ملتى کہ اپنے عيوب کو تلاش کرسکيں اور اسى لئے اس قسم کے لوگ زندگى کى ھدايت و اصلاح کي دوڑ ميں پيچھے رہ جاتے ھيں ۔ اصولا ً اس قسم کے لوگ بز دل ھوتے ھيں ۔ شجاع نھيں ھوتے ۔ لھذا يہ کسي قيد و بند کو بھى قبول نھيں کرتے اور نہ دوسروں کى عزت و حرمت کا احترام ان کى نظروں ميں ھوتا ھے ۔ يہ لوگ اپنے سے قريب ترين شخصوں کے ساتھ بھى خلوص نھيں برت سکتے ۔ اسى لئے جھاں يہ لوگ دور کے لوگوں کے عيوب بيان کرتے ھيں وھاں موقع ملنے پر قريب ترين دوستوں کى بھي برائى بيان کرنے لگتے ھيں اور يھى وجہ ھے کہ ايسے لوگوں کو ايسے سچے دوست نھيں مل پاتے جو واقعى دوست ھوں اور اس کى محبت کے زير سايہ وہ اپنے جذبات کو سکون عطا کر سکيں ۔

انسان کى شرافت و بزرگى خود اس کے ھاتہ ميں ھے جو شخص دوسروں کى شخصيت کو مجروح کرے گا اس کى شخصيت بھى قھرى طور سے مجروح ھو جائے گى ۔

يہ ممکن ھے کہ عيب جو اپنے عمل کے نتيجہ سے بے توجہ ھو ليکن وہ بھرحال اپنے اس عمل کى وجہ سے لوگوں کى بد گوئى سے محفوظ نھيں رہ سکتا کيونکہ عيب جو اپنى اس حرکت کى وجہ سے لوگوں کے دلوں ميں حسد کينہ بغض کا جو بيج بو چکا ھے اس کا بھگتان اسے بھگتناھى ھو گا ۔ اور اس کو اپنے اس فعل کے نتيجہ ميں ندامت و پشيمانى کے علاوہ کچھ ھاتہ نھيں آئے گا ۔ اس لئے کہ عيب جو بقول بزرگان ، کبوتر کى طرح نھيں ھے کہ اگر آشيانہ سے اڑ جائے تب بھى دوبارہ واپسى کي اميد منقطع نھيں ھوتى ۔

جو شخص لوگوں کے ساتھ زندگى بسر کرنا چاھتا ھے اس کى ذمہ دارى ھے کہ اپنے فرائض پر عمل کرے يعنى ھميشہ لوگوں کى خوبيوں پر نظر رکھے ، ان کے نيک اعمال کو اپنے ذھن ميں رکھے اور ان کے اچھے اخلاق و اچھے کردار کى قدر دانى کرے ۔ جن عادتوں يا صفتوں سے دوسروں کى شخصيت مجروح ھوتى ھو اور جو باتيں اصول کى مخالف ھوں ان سے اجتناب کرے ۔ کيونکہ

محبت کو دوام محبت ھى سے ملتا ھے اور بقائے احترام طرفين سے ھوا کرتا ھے ۔پس جو شخص اپنے دستوں کے عيوب پر پردہ ڈالنے کا عادى ھو گا اس کى محبت باقى رھے گى اور اس کى محبت کو دوام حاصل ھو گا ۔ لھذا اگر کسي دوست ميں کوئى کمزورى ديکھو تو اس کے پيٹھ پيچھے اس کى برائى بيان کرنے کے بجائے کسى مناسب موقع پر اس کو اس بات کى طرف بھت خوش اسلوبى سے متوجہ کر دو ۔

يہ بات بھي قابل توجہ ھے کہ اگر دوست کى کسى کمى پر اس کو متوجہ کرنا ھے تو اس ميں بھى بڑى مھارت کى ضرورت ھے اس کو ايسي خوش اسلوبى سے متوجہ کيجئے کہ اس کو تکليف نہ پھونچے اس کے احساسات و جذبات کو ٹھيس نہ لگے ۔ ايک مربى اخلاق کا کھنا ھے : تمھارے لئے يہ ممکن ھے کہ اپنے مخاطب ( دوست ) کو اشارے يا کسى ، حرکت کے ذريعے اس کى غلطى پر متوجہ کردو، اس سے گفتگو کرنے کى ضرورت نھيں ھے ۔ کيونکہ اگر تم نے اپنے دوست سے يہ کھہ ديا کہ تمھارے اندر يہ کمى ھے تو کسى قيمت پر تم اس کو اپنا ھم عقيدہ نھيں بنا سکتے کيونکہ تم نے ڈائريکٹ يہ بات کھہ کر اس کى عقل و فکر پر حملہ کيا ھے اس کى خود پسندى کو مجروح کيا ھے ۔ آپ کے اس طريقھٴ کار سے وہ اپنى ضد پر اڑ جائے گا ۔ اور اپنے عمل ميں کوئى تغير نھيں کرے گا ۔ آپ چاھے افلاطون و ارسطو کى سارى منطق اس پر صرف کر ديں ليکن اس کا باطنى عيقدہ نھيں بدل پائيں گے ، کيونکہ آپ نے اس کے پندار کو زخمى کر ديا ھے ۔ گفتگو کرتے وقت کسى صورت ميں اس سے اس طرح گفتگو کى ابتداء نہ کيجئے : ميں آپ کى غلطى کو ثابت کردوں گا ميرے پاس اس کے لئے مضبوط دليليں ھيں ! کيونکہ اس قسم کى گفتگو کا مفھوم يہ ھے کہ آپ اس سے زيادہ عقلمند ھيں ۔ لوگوں کے افکار کى اصلاح عام حالات ميں دشوار ھوتى ھے ، چہ جائيکہ جب اس کے سامنے بند باندہ ديا جائے۔ اگر کسى نکتہ کو ثابت ھى کرنا چاھتے ھوں تو پھلى بات يہ ھے کہ اس پر کسى کو مطلع نہ کيجئے اور اتنى ھوشيارى و مھارت سے اس کام کو انجام ديجئے کہ کوئى سوچ بھى نہ سکے کہ آپ کا مقصد کيا ھے اس سلسلہ ميں شاعر کى اس نصيحت پر عمل کيجئے ” لوگوں کو اس طرح تعليم دو کہ کوئى تم کو معلم نہ سمجھے “۔


متعلقہ تحریریں:

احسن انداز سے بات کرنا سیکھیں

بدخلقي

حسن خلق كے اُخروى فوائد

اخلاق حسنہ

آداب نشست

نبی اکرم (ص) کے کھانا کھانے اور آرائش کے آداب

بداخلاقى كا انجام

ظاہرى آرائش، مہمان نوازى اور عيادت  کے آداب

آپ (ص) کے رخصتی اور دوسروں کو پکارنے کے وقت اخلاق

 آنحضرت (ص) كا لوگوں كے ساتھ سلام کرنا