• صارفین کی تعداد :
  • 908
  • 11/15/2010
  • تاريخ :

آیت الله خامنہ ای : حج توحید کی نشان

 حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای

بسم لله الرحمن الرحيم

  الحمد الله رب العالمين و صلی لله علی سيدنا محمد المصطفی و آلہ الطيبين و صحبہ المنتجبين 

کعبہ، جو وحدت و عزت کا راز اور توحيد و معنويت کا مظہر ہے، موسم حج ميں مشتاق دلوں اور اميدوں کا ميزبان ہے اور رب جليل کی دعوت کو قبول کر کے پوری دنيا سے لبيک کہنے والے اسلام کی پيدايش کی سرزمين کی طرف آئے ہيں. آج، امت اسلاميہ اس دين حنيف يعنی اسلام کے پيروؤں کی گوناگون ترقيوں اور ان کے ايمان کی گہرائيوں کو دنيا کے کونے کونے سے آئے ہوئے عاشقوں کی آنکھوں سے مشاہده کر سکتی ہے، اور اس عظيم اور بے مثال سرمايہ کو پہچان سکتی ہے.

مسلمانوں کی يہ خودشناسی، موجوده دنيا اور مستقبل ميں ہميں اپنے شائستہ مقام کو پہچاننے ميں مدد کر سکتی ہے تا کہ ہم اس راه پر گامزن ہو جائيں.

 موجوده دنيا ميں اسلامی بيداری کی لہر، ايک ايسی حقيقت ہے جو امت اسلاميہ کو ايک خوشحال مستقبل کی نويد دے رہی ہے. يہ بيداری، تيس سال پہلے ہمارے اسلامی انقلاب کی کاميابی اور اسلامی جمہوريہ کے نظام کی تشکيل کے نتيجے ميں موجزن ہوئی ہے، ہماری قوم، اس راه پر مسلسل گامزن ہے اور اس راه کی رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے يکے بعد ديگرے مورچے فتح کر  چکی ہے. سامراج کی دشمنی کا پيچيده ترين طريقہ کار اور اسلام کے مقابلے ميں زبردست کوششيں کرنا بھی اسی اسلامی بيداری کی وجہ سے ہے. اسلام ہراسی کے موضوع پر دشمن کا وسيع پروپيگنڈه، اسلامی فرقوں کے درميان اختلاف و افتراق پھيلانے کی سرتوڑ کوششيں، فرقہ وارانہ تعصبات کو بھڑکانے کا کام، شيعوں ميں سنيوں کے خلاف فرضی دشمنی پيدا کرنا اور سنيوں ميں شيعوں کے خلاف بے بنياد دشمنی ايجاد کرنا، مسلمان حکومتوں کے درميان اختلافات کو شدت بخشنا اور ان اختلافات کو ناقابل حل دشمنيوں ميں تبديل کرنا اور نوجوان طبقہ ميں فتنہ و فساد کو پھيلانے کے لئے جاسوسی ايجنسيوں سے استفاده کرنا، سب کا سب امت اسلاميہ کی بيداری، عزت اور آزادی کی طرف مستحکم اور پائيداری کے ساتھ گامزن ہونے کے مقابلے ميں دشمن کے حيران و پريشان کن رد عمل کا مظاہره ہے.

آج، تيس سال پہلے کے مانند صہيونی حکومت ناقابل شکست طاقت نہيں ہے، دو دہائی قبل کے مانند، آج امريکہ اور مغربی طاقتيں، مشرق وسطی ميں چون و چرا کے بغير فيصلہ کرنے والی نہيں ہيں، دس سال قبل کے مانند، آج علاقہ کی مسلمان قوموں کے لئے جوہری ٹيکنالوجی اور دوسری پيچيده ٹيکنالوجيوں پر دسترس حاصل کرنا ناممکن اور افسانہ شمار نہيں ہوتا ہے.

فلسطينی قوم، آج، مقاومت کے سلسلہ ميں ايک سورما کی حيثيت رکھتی ہے. لبنانی قوم نے تينتيس دن کی جنگ ميں اکيلے ہی صہيونيوں کی کھوکھلی ہيبت کو خاک ميں ملا کر فتح و ظفر کا پرچم بلند کيا ہے اور ايرانی قوم، فتح وکاميابی کی چو ٹيوں کو سر کرنے کی اس تحريک کی خط شکن اور علم بردار ھے.

آج، اسلامی علاقوں ميں خودساخته سپه سالاری کا دعوی کرنے والا اور غاصب صھيونی حکومت کا حقيقی حمايت اور پشت پناھی کرنے والا امريکی سامراج خود اپنے ايجاد کئے ھوئے دلدل ميں پھنس چکاھے اورعراقی عوام پر بے شمار ظلم و ستم ڈھانے کے باوجود، شکست سے دوچار ہو رھا ہے، مصيبت زده پاکستان ميں ہميشہ کی بہ نسبت منفورتر ہو چکا ہے. اسلام دشمن محاذ، جو گزشتہ دو صديوں تک اسلامی قوموں اور حکومتوں پر ظالمانہ تسلط جمائے ہوئے تھا اور ان کے منابع کو لوٹ رہا تھا، آج اپنے زوال اور مسلمان قوموں کی بہادرانہ مقاومت کا مشاہده کر رہا ہے، اور اس کے مقابلے ميں اسلامی بيداری کی تحريک روز بروز عميق تر ہوتی ہوئی آگے بڑھ رہی ہے. يہ اميد افزا اور نويد بخش حالات، ہم مسلمانوں کے لئے ہميشہ سے زياده مطلوبہ مستقبل کی طرف بڑھانے اور اپنے درس عبرت کے نتيجے ميں ہميں پھلے سے زياده ھوشيار رھنے کا سبب بننے چاہئيں. بے شک يہ عام خطاب، علمائے دين، رہبروں، دانشوروں اور جوانوں کو دوسروں کی بہ نسبت زياده ذمہ داری کی ياددہانی کراتا ہے اور ان سے مجاہدت اور پيش قدمی کا مطالبہ کرتا ہے.

اس خطاب ميں امت اسلاميہ، بشريت کے لئے ايک عزتمند مظہر ھے. اس امت کی پيدائش کا مقصد، انسان کی نجات اور خير ہے.

نيکی کا حکم دينے اور برائی سے روکنے کا عظيم فريضہ خدا کا راسخ ايمان رکھنا ہے. ملتوں کو سامراجی طاقتوں کے چنگل سے آزادی دلانے کے برابر کوئی نيکی نہيں ہے اور استکباری طاقتوں سے وابستگی اور مستکبرين کی خدمت کرنے سے بدتر کوئی برائی نہيں ہے. فلسطينی قوم اور غزه کے محاصرين کی مدد کرنا، افغانستان، پاکستان، عراق اور کشميرکی قوموں سے ہمدردی اور ہمراہی کرنا، امريکہ اور صہيونی حکومت کی جارحيت کے مقابلہ ميں مجاہدت اور مقاومت کا  مظاہره کرنا، مسلمانوں کے اتحاد و اتفاق کی پاسداری کرنا، اتحاد و اتفاق ميں رخنہ اندازی کرنے والے ناپاک ہاتھوں اور نوکر زبانوں سے مقابلہ کرنا، مختلف اسلامی، خطوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں ميں بيداری پيدا کرنا اور ذمه داری اور فرض شناسی کا احساس جگانا امت کے خواص کی ذمه داری ھے.

حج کا عظيم منظر، ہميں ان فرائض کو انجام دينے کا بہترين طريقہ سکھاتا ہے اور ہميں زياده سے زياده کوشش اور مزيد ہمت کا مظاہره کرنے کی دعوت ديتا ہے.

والسلام عليکم

سيد علی الحسينی الخامنہ ای

اول ذی الحجۃ الحرام ١۴٣١

٨ نومبر ٢٠١٠