• صارفین کی تعداد :
  • 4043
  • 11/9/2010
  • تاريخ :

کاش میں ہوتا تھانیدار

کاش میں ہوتا تھانیدار

پہن کے میں پولیس کی وردی

کرتا خوب آوارہ گردی

ہوتا چوروں سے دوچار

کاش میں ہوتا تھانیدار

دیکھ کے ہاتھ میں مولا بخش

ڈرتا مجھ سے ہر اک شخص

کہتے سب آئیے سرکار

کاش میں ہوتا تھانیدار

جو بھی غنڈہ گردی کرتا

فوراً میرے ہتھے چڑھتا

کرتا توبہ استغفار

کاش میں ہوتا تھانیدار

رشوت کی کب لیتا پائی

ڈاکو ہوتے میرے بھائی

دیتے تحفے میں وہ کار

کاش میں ہوتا تھانیدار

غفلت سے کب لیتا کام

فرض نبھاتا صبح و شام

یعنی رہتا میں بے کار

کاش میں ہوتا تھانیدار

 

محمد شاہد فیروز

 


متعلقہ تحریریں:

شریر لڑکا

خوانچے والا

منّے کی ماں

گپ شپ

ٹوٹ بٹوٹ

نہر میں آگ

کالا ریچھ

کھیرا

نرالا شہر

سانپ کی دم