• صارفین کی تعداد :
  • 2287
  • 11/8/2010
  • تاريخ :

عقیدئہ مومن

بسم الله الرحمن الرحیم

عقیدئہ مومن

حضرت عبدالعظیم حسنی کا بیان ہے کہ میں آقا و مولا امام علی نقی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا جب آپ کی مجھ پر نگاہ پڑی تو فرمایا:

ابوالقاسم! خوش آمدید‘ آپ ہمارے سچے دوست ہیں۔

میں نے عرض کیا: فرزندِ رسول ! میں آپ کے سامنے اپنا دین پیش کرنا چاہتا ہوں اگر وہ صحیح ہوا تو میں مرتے دم تک اس پر ثابت قدم رہوں گا۔

آپ نے فرمایا: پیش کرو۔

میں نے عرض کیا: میرا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ واحد ہے اس کی کوئی مثال نہیں ہے اور وہ ابطال اور تشبیہہ کی دونوں سرحدوں سے باہر ہے۔ اور وہ نہ تو جسم ہے اور نہ صورت ہے اور نہ عرض ہے اور نہ جوہر ہے بلکہ وہ اجسام کا ایجاد کنندہ ہے اور صورتوں کی تصویر کشی کرنے والا ہے اور وہ تمام اعراض و جواہر کا خالق ہے اور وہ ہر چیز کا رب اور مالک اور خالق اور ایجاد کنندہ ہے۔ وہ صاحبِ حکمت ہے اور وہ فعل قبیح بچا نہیں لاتا اور فعل واجب کو ترک نہیں کرتا۔

اور میں یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے عبد اور اس کے رسول ہیں اور وہ خاتم النبیین ہیں اور قیامت کے دن تک ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور ان کی شریعت آخری شریعت ہے۔ اس کے بعد روزِ قیامت تک کوئی اور شریعت نہیں آئے گی۔

اور میں عقیدہ رکھتا ہوں کہ رسول خدا کے بعد امام اور خلیفہ اور ولی امر حضرت علی، حضرت حسن، حضرت حسین ، حضرت علی بن الحسین ، حضرت محمد بن علی، حضرت جعفر بن محمد، حضرت موسٰی بن جعفر، حضرت علی بن موسٰی ، حضرت محمد بن علی اور پھر آپ ہیں۔

امام علی نقی نے فرمایا: میرے بعد میرا بیٹا حسن (عسکری) امام ہے اور اس کے بعد اس کے جانشین کے وقت لوگوں کی کیا حالت ہوگی؟

میں نے عرض کیا: مولا! وہ کیسے؟

آپ نے فرمایا:

وہ اس لیے وہ لوگوں کو دکھائی نہ دے گا اور ان کے خروج تک ان کا نام لینا جائز نہ ہوگا اور جب وہ خروج کرے گا تو ظلم و جور سے بھری ہوئی دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔

میں نے کہا: میں ان کا بھی اقرار کرتا ہوں اور یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ ان کا دوست اللہ کا دوست ہے اور ان کا دشمن اللہ کا دشمن ہے اور ان کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے اور ان کی معصیت اللہ کی معصیت ہے۔

اور میں یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ معراج حق ہے‘ سوال قبر حق ہے‘ جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے اور صراط حق ہے‘ میزان حق ہے۔ قیامت آکر رہے گی اور اس کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے اور یہ کہ اللہ اہلِ قبور کو زندہ کرے گا۔

اور میں عقیدہ رکھتا ہوں کہ عقیدہ ولایت کے بعد نماز‘ روزہ‘ حج‘ جہاد‘ امر بالمعروف‘ نہی عن المنکر اور حقوق والدین کی ادائیگی فرض ہے اور یہ میرا دین‘ میرا مذہب اور میرا عقیدہ اور میرا یقین ہے جو کہ میں نے آپ کے سامنے عرض کیا ہے۔

امام علی نقی علیہ السلام نے فرمایا:

ابوالقاسم! خدا کی قسم‘ یہ وہی دین ہے جو اللہ نے اپنے بندوں کے لیے پسند کیا ہے۔ تم اسی پر ثابت قدم رہو اور اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں قولِ ثابت کے صدقہ میں تمہیں اس پر ثابت رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔

چار چیزوں کا منکر شیعہ نہیں

عمارہ کہتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

جو شخص چار چیزوں کا انکار کرے وہ ہمارا شیعہ نہیں ہے:

۱- معراج (رسول) ۲- قبر میں (نکیرین کے) سوالات ۳- جنت و دوزخ کی تخلیق ۴- شفاعت۔

معراج کا منکر رسولِ خدا کا منکر ہے

حسن بن علی بن فضال کا بیان ہے کہ امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا: جس نے معراج کو جھٹلایا اس نے رسول خدا کو جھٹلایا۔

اجزائے ایمان

فضل بن شاذان راوی ہیں کہ امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا:

جس نے اللہ کی توحید کا اقرار کیا اور خدا کی مخلوق سے مشابہت کا انکار کیا اور جو صفات خدا کے لائق نہیں ہیں جس نے خدا کو ان سے منزہ تسلیم کیا اور یہ اقرار کیا کہ خدا قوت و قدرت و ارادہ و مشیت و خلق و امر و قضا و قادر کا مالک ہے اور گواہی دی کہ محمد مصطفی اللہ کے رسول ہیں اور علی اور ان کی نسل کے گیارہ امام خدا کی حجت ہیں اور جس نے ان کے دوستوں سے دوستی رکھی اور ان کے دشمنوں سے دشمنی رکھی اور گناہانِ کبیرہ سے پرہیز کیا اور رجعت اور دو متعوں (متعة الحج‘ متعة النساء) کا اقرار کیا اور جو شخص معراج‘ قبر کے سوالات‘ حوضِ کوثر‘ شفاعت‘ جنت و دوزخ کی تخلیق‘ صراط‘ میزان‘ قبروں سے مبعوث ہونے‘ اور دوبارہ زندہ ہونے اور جزا و حساب کا اقرار کیا تو وہ سچا مومن ہے اور وہ ہم اہل بیت کا حقیقی شیعہ ہے۔

الحمدللّٰہ رب العالمین وصلواتہ علی محمد والہ الطاہرین

 

کتاب کا  نام : علامات شیعہ از نظر معصومین علیھم السلام

مصنف: شیخ صدوق

بشکریہ الحسنین ڈاٹ کام


متعلقہ تحریریں:

شیعانِ علی (ع) کی پہچان

کافر سے محبت ممنوع اور بغض واجب ہے

شیعیان کی سفارش قبول ہوگی

علامات شیعہ از نظر معصومین علیھم السلام

شیعہ اثنا عشری عقائد کا مختصر تعارف

وھابیت كے بانی

سلفیّہ كسے كھتے ھیں؟

سلفی گری

صحابہ کے بارے میں وہابیوں کا عقیدہ

اھل بیت سے محبت کا تقاضا