• صارفین کی تعداد :
  • 6503
  • 11/7/2010
  • تاريخ :

ڈینگی بخار خطرناک ہے ، احتیاط کریں اس سے پہلے کہ دیر ہو جاۓ

ڈینگی بخار

ڈینگی بخار ایک وائرل  بیماری ہے جو ایک مخصوص  مادہ مچھر ( aedis aegypti )  کے کاٹنے  کی وجہ سے ہوتی ہے ۔ یہ مچھر گھریلو مچھر کہلاتا ہے اور ہمارے گھروں کے اندر اور آس پاس موجود  صاف پانی میں پرورش پاتا ہے ۔ یہ مـچھر دن کے وقت کاٹتا ہے خصوصا سورج طلوع ہونے اور ڈوبنے کے وقت زیادہ کاٹتا ہے ۔     اس بیماری کا حملہ اچانک شروع ہوتا ہے اور کچھ دنوں کے لیۓ اس کے اثرات جسم کے اندر موجود رہتے ہیں ۔  ڈینگی بخار ان لوگوں میں زیادہ دیکھنے میں آیا ہے جن  کی قوّت مدافعت کمزور ہوتی ہے ۔    یہ serotype   کی چار قسموں میں سے ایک کی وجہ سے ہوتا ہے اس لیۓ  اس بات کا بھی امکان ہوتا ہے کہ ایک  ہی شخص چند  بار اس بیماری کا شکار بنتا رہے ۔  البتہ  جب کوئی شخص اس بیماری کا شکار ہوتا ہے تو اس کے جسم  میں اس مخصوص serotype   کے خلاف قوّت مدافعت پیدا ہو جاتی ہے ۔  اس بخار کے کچھ اور نام بھی مشہور ہیں مثلا ہڈی توڑ بخار ، ہڈی توڑ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اس بیماری میں جسم کے جوڑوں اور پٹھوں میں شدید درد ہوتا ہے ۔  ایک اور نام دینڈی بخار اس لیۓ ہے کیونکہ  جب ویسٹ انڈیز میں غلاموں کو یہ بخار ہو جاتا تھا تو ان کی چال اور ظاہری  ساخت کو دیکھ کر یہ نام دے دیا گیا ۔  یہ بیماری گرم  صحرائی علاقوں میں زیادہ ہے اور چونکہ یہ مچھر کے کاٹنے سے ایک سے دوسرے فرد میں منتقل ہوتی ہے اس لیۓ مثاثرہ علاقوں سے  کسی نۓ علاقے میں آنے والے سیاح اگر اپنے خون میں یہ وائرس لے آئیں تو مچھر کے ذریعے بیماری کے پھیلنے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں ۔

تشخیص اور علاج

ڈینگی بخار سخت فلو  کی طرح کی ایک بیماری ہے جس سے  نوزاد، بچے  اور جوان متاثر ہو سکتے ہیں اور  اس بیماری سے بہت کم اموات واقع ہوتی ہیں ۔  بیماری کی علامتیں مریض  کی عمر کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہیں ۔  نوزاد اور بچوں میں بخار  اور جسم پر سرخ دھبے پڑ جاتے ہیں  جبکہ نوجوانوں اور بڑوں میں  بخار کے ساتھ جسم میں شدید درد ، آنکھوں میں درد ، جوڑوں اور پٹھوں میں درد اور جسم پر سرخ دھبے وغیرہ جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں ۔

 Dengue haemorrhage fever   بخار کی ایک قسم ہے جو زیادہ پیچیدہ  ہوتی ہے جس میں تیز بخار ، جگر کا بڑھ جانا  اور بیماری کی شدت میں  circulatory failure   کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے ۔ اس طرح کا بخار اچانک شروع ہوتا ہے اور فلو جیسی علامتیں ظاہر کرتا ہے ۔ یہ بخار 2 سے 7 دن تک عموما رہتا ہے اور درجہ حرارت   41 سینٹی گریڈ تک  چلا جاتا ہے ۔

٭ اس بیماری کا کوئی خاص علاج نہیں ہوتا ہے ۔ بیماری کی حالت میں مریض کو پانی کا استعمال زیادہ کروایا جاتا ہے ۔

٭ ڈینگی بخار ہو جاۓ تو مریض کو فوری طور پر کسی قریبی  طبی مرکز پہنچائیں ۔

٭ اس بیماری کی تشخیص اور علاج کسی مستند ڈاکٹر سے ہی کرائیں ۔

٭ ڈینگی میں مبتلا مریض کو روز مرّہ غذا کے ساتھ  ساتھ زیادہ مقدار میں جوس ، پانی ، سوپ اور دودھ پلائیں ۔

٭ مریض کا درجہ حرارت 102 ڈگری F  سے کم رکھیں ۔

٭ بخار کی صورت میں صبح ، دوپہر اور شام  پیراسٹامول   کی ایک ایک گولی استعمال کریں ۔

٭ ڈینگی بخار کے مریض کو مرض کے دوران اسپرین اور بروفین  کسی صورت استعمال نہ کرائیں ۔

ڈینگی بخار کی علامتیں :

٭ تیز بخار

٭ جسم پر سرخ دھبے

٭ سر اور آنکھوں میں درد

٭ جسم میں جوڑوں کا درد

٭ سخت بیماری کی صورت میں منہ سے خون آنا

ڈینگی بخار

مچھروں کی افزائش کی روک تھام

٭ اپنے گھر اور  آس پاس موجود ڈینگی پھیلانے والے مچھروں کا خاتمہ کریں ۔ یہ مچھر عام طور پر پانی میں پرورش پاتے ہیں ۔

٭ اپنے گھر کے صحن میں موجود کوڑا کرکٹ اور غیر ضروری سامان جس میں بارش کا پانی جمع  ہو سکتا ہو وہ ختم کردیں ۔

٭  استعمال شدہ بوتلیں ، پرانے برتن ، ٹین کے ڈبے اور پلاسٹک  بیگ مناسب طریقے سے ٹھکانے لگا دیں  تاکہ ان میں بارش کا پانی جمع نہ ہو سکے ۔ ایسے پانی میں مچھر پیدا ہوتے ہیں  جو ڈینگی پھیلاتے ہیں ۔

٭ صاف پانی جمع کرنے والے برتن مثلا گھڑے ، ڈرم ، بالٹی ، ٹب وغیرہ ڈھانپ کر رکھیں ۔

٭ چھت پر پانی  والی ٹینکی کو مکمل ڈھانپ کر رکھیں   اور پانی کے داخل اور خارج ہونے والے مقام پر جالی کا استعمال کریں ۔

٭ گملوں اور پودوں کی کیاریوں میں پانی جمع نہ ہونے دیں ۔ گملوں کے نیچے برتنوں کو بھی خشک رکھیں ۔ کیونکہ مادہ مچھر وہاں بھی انڈے دے کر اپنی نسل بڑھا سکتی ہیں ۔

٭ گھر کے آس پاس پانی جس کی نکاسی ممکن نہ ہو اس میں مٹی کا تیل ڈالیں ۔

٭ پانی کے ٹوٹے ہوۓ پائپوں کی فورا مرمت کروا لیں تاکہ ان میں سے پانی کا ٹپکنا اور رسنا بند ہو جاۓ ۔

٭ روم ایئر کولر وغیرہ جو استعمال میں نہ ہوں  سے پانی خارج کر دیں ۔

ڈینگی بخار

 احتیاط

٭ سورج نکلنے اور غروب ہونے کے وقت لمبی آستین والی قمیض یا شرٹ کا استعمال کریں تاکہ مچھر سے محفوظ رہیں ۔

٭ جسم کے کھلے حصوں بازو اور منہ پر  مچھر بھگاؤ کریم ( لوشن) لگائیں ۔

٭ گھروں اور دفتروں میں مچھر مار اسپرے اور کوائل میٹ استعمال کریں ۔

٭ دروازوں ، کھڑکیوں اور روشن دانوں میں جالی کا استعمال کریں ۔

٭ گھروں کے پردوں پر بھی مچھر مار ادویات  اسپرے کریں ۔

٭ اپنے بچوں کو ڈینگی مچھر سے بچاؤ کے طریقوں سے آگاہ کریں ۔ 

چند حقائق :

٭ ڈینگی کی بیماری اس وقت 100 سے زائد گرم اور نیم گرم علاقوں میں پائی جاتی ہے ۔

٭ ڈینگی مچھروں کے ذریعے پھیلنے والی دنیا میں سب سے اہم وائرل بیماری ہے  ۔

٭ ڈینگی وائرس ایک مخصوص مادہ مچھر کے کاٹنے سے متاثرہ شخص سے دوسروں میں منتقل ہوتا ہے ۔

٭ یہ مچھر گھروں کے اندر  پرورش پاتا ہے ۔

٭ ڈینگی کا مچھر صبح 6  سے  9  اور شام 4 سے رات 10 بجے تک کاٹتا ہے ۔

٭ سالانہ  50 کروڑ افراد اس سے متاثر ہوتے ہیں  جن میں 25 ہزار سے 30 ہزار افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں ۔ تاہم بروقت علاج سے اس سے مکمل نجات مل جاتی ہے ۔ 

٭ 99 ٪  افراد اس بیماری  سے مکمل طور پر صحت یاب ہو جاتے ہیں اور انہیں صرف پیراسٹامول کی ضرورت پڑتی ہے ۔

٭ متاثرہ مریض کو مچھر دانی کے اندر آرام کرنا چاہیۓ  ۔

٭ چونکہ ڈینگی چھوت کی بیماری نہیں ہے اس لیۓ مریض کو علیحدگی میں رکھنے کی ضروت نہیں ہوتی ہے ۔

٭ ڈینگی کی بیماری 1994 میں پہلی دفعہ کراچی میں ظاہر ہوئی  ۔

٭ 1995 میں یہ بلوچستان  ( حب ) میں ریکارڈ ہوئی ۔

٭ 2003 ء میں یہ بیماری ہری پور میں ریکارڈ ہوئی ۔

٭ 2005  اور 2006 میں اس بیماری میں مزید شدت آئی ۔

٭ اس عرصے میں تقریبا 5 ہزار کیس رپورٹ ہوۓ جن میں سے تقریبا 2 ہزار کی تصدیق ہوئی اور 56 افراد ہلاک ہوۓ ۔

تحریر :  سید اسداللہ ارسلان 


متعلقہ تحریریں :

آنکھوں کی حفاظت کے لیۓ عینک کا استعمال

پتلے اور موٹے جسم پر پانی کے اثرات

بچوں کی نیند کے متعلق چند غلط فہمیاں

بچوں کی نیند کے متعلق چند غلط فہمیاں ( حصّہ دوّم)

گٹھیا (rheumatoid arthritis ) کی بیماری

گٹھیا (rheumatoid arthriti) کی علامتیں

زچہ و بچہ کی صحت اور مڈوائف

زچہ و بچہ کی صحت اور مڈوائف (حصّہ دوّم)

زچہ و بچہ کی صحت اور مڈوائف (حصّہ سوّم)

 بائیپو لر افیکٹو  ڈس آرڈر کیا ہے؟