• صارفین کی تعداد :
  • 3325
  • 11/6/2010
  • تاريخ :

دوستي کے لئے مفيد اور نقصان دہ چيزيں

پهول

دوستوں کے حقوق کي ادائيگي ہي درحقيقت دوستي کو مضبوط اور پائيدار کرتي ہے ليکن اس کے علاوہ بھي کچھ ايسے اسباب و عوامل ہيں جودوستي کے رشتے کے لئے نہايت مفيد شمار ہوتے ہيں. جيسا کہ امير المومنين علیہ السلام فرماتے ہيں :

’’کشادہ روئي محبت کا جال ہے‘‘.

اسي طرح آپ علیہ السلام فرماتے ہيں:

’’نرم خو، قوم کي محبت کو ہميشہ کے لئے حاصل کرليتا ہے۔‘‘

اسي طرح جہاں حقوق کي ادائيگي ميں کوتاہي کے نتيجے ميں دوستي جيسا مضبوط رشتہ کمزور ہوجاتا ہے وہيں کچھ اور چيزوں کي وجہ سے اس ميں دراڑيں پڑ جاتي ہيں چنانچہ اميرالمومنين علیہ السلام فرماتے ہيں :

دوست کا حسد کرنا دوستي کي خامي ہے.

يا حضرت علیہ السلام کا يہ فرمان:

’’ جو چغل خور کي بات پر اعتماد کرتا ہے وہ دوست کو کھو ديتا ہے‘‘۔

ايک اور مقام پر دوستي کے لئے نقصان دہ عامل کي جانب اشارہ فرماتے ہيں:

جس نے اپنے مومن بھائي کو شرمندہ کيا سمجھو کہ اس سے جدا ہوگيا۔

دوست اور دوستي کے سلسلہ ميں مولائے کائناتعلیہ السلامکے سنہرے کلمات کو بے ترتيبي سے جوڑ کر دوست اور دوستي کے خواہشمند افراد کي خدمت ميں اس اميد بلکہ اس يقين کے ساتھ پيش کررہے ہيں کہ اگر ہم ان راہنما اصولوں کو اپنے لئے نمونہ عمل قرار ديں تو يقينا امير کائنات۔کے اس فرمان کي عملي تصوير بن سکتے ہيں جس ميں آپ فرماتے ہيں:

 ’’لوگوں کے ساتھ اس طرح رہو کہ اگر مرجا ؤ تو تم پر روئيں اور اگر زندہ رہو تو تمہارے مشتاق ہوں‘‘


متعلقہ تحریریں:

نکاح کے چند بول کے ذريعے ؟

شادي کس لئے، مال و جمال کے لئے يا کمال کے لئے؟

شادي کي نعمت کا شکرانہ

شادي کي شرائط کمال

شادي کي برکتيں اور فوائد

وقت پر شادي = سنّت نبوي (ص)

شادي، اسلامي اقدار کا جلوہ

زندگي کا ہدف

لڑكیوں كی تربیت

اسلام میں شادی بیاہ