• صارفین کی تعداد :
  • 2094
  • 11/6/2010
  • تاريخ :

تیسری صدی ھجری کے دوران شیعوں کی حالت

الله اکبر

تیسری صدی ھجری کے آغاز سے شیعوں نے سکون کی سانس لی۔ اس کا پھلا سبب یہ تھا کہ یونانی ، سریانی او ردوسری زبانوں سے بھت زیادہ علمی اور فلسفی کتابیں عربی زبان میں ترجمہ ھوگئی تھیں اورلوگ استدلالی و عقلی علوم کوحاصل کرنے کے لئے جمع ھوگئے تھے ۔ اس کے علاوہ عباسی خلیفہ مامون الرشید خود (۱۹۵ تا۲۱۸ ھجری قمری )معتزلہ مذھب کاپیرو تھا اورمذھب میں عقلی استدلال کی طرف مائل تھا لھذا اس نے مختلف ادیان اورمذاھب میں لفظی استدلال کے رواج کی عام آزادی دے رکھی تھی ۔ یھی وجہ تھی کہ علماء اور شیعہ متکلمین نے اس آزادی سے پورا پورا فائدہ اٹھایا اورانھوں نے علمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ مذھب اھلبیت کی تبلیغ میں بھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا ۔

دوسرے یہ کہ خلیفہ مامون الرشید نے سیاسی حالات کے پیش نظر آٹھویں امام حضرت امام رضا علیہ السلام کو اپنا ولی عھد اور جانشین بھی مقررکررکھا تھا جس کے نتیجے میں علوی خاندان اور اھلبیت (ع) کے دوست اور طرفدار ایک حد تک سرکاری عھدیداروں کے ظلم وتشدد سے محفوظ ھوچکے تھے اورکم وبیش آزاد تھے لیکن زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ دوبارہ تلوار کی تیز دھار شیعوں کی طرف پھرگئی اوران کے اسلاف کے حالات ان کے لئے بھی پیدا ھوگئے خصوصا ً عباسی خلیفہ متوکل باللہ (۲۳۲ تا ۲۴۷ ھجری قمری)کے زمانے میں جو حضرت علی (ع) اور آپ کے پیروکاروں سے خصوصی دشمنی رکھتا تھا اور اسی کے حکم سے امام حسین علیہ السلام کا مزار مقدس مٹی میں ملادیا گیا تھا


متعلقہ تحریریں:

شیعانِ علی (ع) کی پہچان

کافر سے محبت ممنوع اور بغض واجب ہے

شیعیان کی سفارش قبول ہوگی

علامات شیعہ از نظر معصومین علیھم السلام

شیعہ اثنا عشری عقائد کا مختصر تعارف

وھابیت كے بانی

سلفیّہ كسے كھتے ھیں؟

سلفی گری

صحابہ کے بارے میں وہابیوں کا عقیدہ

اھل بیت سے محبت کا تقاضا