• صارفین کی تعداد :
  • 2717
  • 11/6/2010
  • تاريخ :

دوستوں کا انتخاب

پهول

دوستي کے سلسلہ ميں سب سے اہم مرحلہ ’’دوستوں کا انتخاب‘‘ہے۔ کيونکہ دوست اور دوستي کا رشتہ صرف با ہمي تعلقات اور زباني جمع خرچ کا نام نہيں بلکہ يہ ايسا انتہائي نازک رشتہ ہے،جو انسان کي دنيا و آخرت کو بگاڑنے يا سنوارنے کے لئے تنہا ہي کافي ہے .ليکن اس سلسلہ ميں جب ہم اپنے معاشرہ پر نظر ڈالتے ہيں تو دو قسم کے طرز فکر سامنے آتے ہيں۔

کچھ لوگ دوست اور دوستي سے زيادہ تنہائي اور مطلب برآوري کو ترجيح ديتے ہيں اور بڑے فخر سے کہتے ہوئے نظر آتے ہيں کہ ميں کسي کو دوست نہيں بناتا کيونکہ دوستي، فضول کام اور بے کار لوگوں کا شيوہ ہے، جو فقط وقت گزارنے کے لئے اکٹھے ہوتے ہيں۔

ان کے بر عکس، کچھ لوگ ايسے بھي ہوتے ہيں جو ہر ايرے غيرے کے ساتھ دوستي کي پينگيں بڑھا ليتے ہيں اور پھر قدم قدم  پر ٹھوکريں کھا کر يہ کہتے ہوئے نظر آتے ہيں ديکھا جو تير کھا کے کميں گاہ کي طرف اپنے ہي دوستوں سے ملاقات ہو گئي

بنيادي طور پر يہ دونوں طرز تفکر غلط ہيں. چنانچہ امير المومنين فرماتے ہيں :

’’درماندہ و ناتوان ترين شخص وہ ہے جو کسي کو دوست نہ بنا سکے اور اس سے بھي زيادہ عاجز ونا توان وہ ہے جو بنے بنائے دوستوں سے بھي ہاتھ دھو بيٹھے‘‘۔

دوست کے انتخاب کے سلسلہ ميں انسان کو خوددار ہونا چاہئے۔ کيونکہ دوستي ايک ايسا ناطہ ہے جسے برابري کي بنياد پر جوڑا جاتا ہے. لہذا ايسے افراد کي دوستي سے پرہيز کرنا چاہيے جو خود کو برتر سمجھيں يا دوستي استوار کرنے سے پہلو تہي کريں .

اسي لئے تو امير المومنين فرماتے ہيں :

’’’’ايسے افراد کي دوستي کے طلبگار نہ بنو جو تم سے پيچھا چھڑانا چاہتے ہوں ۔اورا گر کوئي شخص تمہاري دوستي کا طلبگار ہو تو اسے مايوس نہ کرو کيونکہ اس طرح تم ايک اچھے ساتھي سے محروم ہو جاؤگے ‘‘۔

چنانچہ امير المومنين علیہ السلام فرماتے ہيں :

’’’’جو تمہاري دوستي کا طلبگار ہو اس سے کنارہ کشي خسارہ ہے اور جو تم سے کنارہ کش ہو اس کي دوستي کے حصول کي کوشش خود کو رسوا کرنے کے مترادف ہے‘‘۔

دوستي کے سلسلہ ميں با ہمي تعلقات کے مقام سے روشناس کروانے کے بعد امير المومنينعلیہ السلام ايسي صفات کے حامل افراد کي ہم نشيني اختيار کرنے کي تاکيد فرماتے ہيں جو انسان کي دنياوي و اخروي سعادت کا باعث ہوں چنانچہ آپعلیہ السلام فرماتے ہيں:

’’اہل خير کي ہمنشيني اختيار کرو ممکن ہے کہ تم بھي ان جيسے ہو جاؤ‘‘

مولائے کائنات علیہ السلام اس جملہ کے ذريعے ايک بہت اہم معاشرتي و تربيتي اصول کي جانب اشارہ کر رہے ہيں اور وہ يہ کہ ہم نشيني کے نتيجہ ميں انتہائي گہرے اثرات مرتب ہوتے ہيں. اور انسان اس ذريعے سے نہ صرف دوسروں کے تجربات سے استفادہ کرتا ہے بلکہ ان کے مشوروں اور راہنمائيوں کے نتيجہ ميں آہستہ آہستہ خود بھي ان کے رنگ ميں رنگا جاتا ہے اور انہي کا ايک فرد شمار ہونے لگتا ہے۔

نہج البلاغہ ميں دوستي کے بارے ميں امير المونين علیہ السلام کے کلام کا جائزہ ليا جائے تو ايک دلچسپ بات يہ سامنے آتي ہے کہ دوست کے انتخاب کے سلسلہ ميں مولائے کائنات علیہ السلام زيادہ تر دوستي کے لئے لائق و سزاوار افراد کا تعارف کروانے کي بجائے ان افراد کا تعارف کرواتے ہوئے نظرا تے ہيں جن سے دوستي نہيں کرنا چاہئے .امير المومنين علیہ السلام کے اس اقدام کي بنيادي وجہ شايد يہ ہو کہ اگر صرف ايسي صفات پيش کي جائيں جو دوست ميں ہونا چاہئيں تو اس کا لازمي نتيجہ يہي نکلے گا کہ

کبوتر با کبوتر باز با باز کند ہم جنس با ہم جنس پرواز

کے تحت دوستي کا دائرہ نہايت محدود ہو جائے گا اور ہر شخص اپنے سے زيادہ بہتر و برتر صفات و عادات کے حامل افراد کي دوستي کے حصول کے چکر ميں پڑا رہے گا .جبکہ اگر يہ کہا جائے کہ فلاں فلاں صفات کے حامل افراد سے دوستي نقصان دہ ہے تو اس کے نتيجہ ميں جہاں دوستي کا دائرہ وسيع ہوگا وہاں منفي صفات کے حامل افراد کي اصلاح کا پہلو بھي نکل آئے گا۔کيونکہ منفي صفات کے حامل افراد نے اگر اچھے دوستوں کے حصول کے لئے اپني بري عادات وصفات سے ہاتھ نہ اٹھايا اور اصلاح کي جانب متوجہ نہ ہوئے تو معاشرہ ميں تنہا رہ جائيں گے۔

آئيے ايک نظر ان افراد پر ڈالي جائے جن کي دوستي اختيار کرنے سے مولائے کائناتعلیہ السلام روک رہے ہيں اور ساتھ ہي ان خطرناک نتائج کي جانب اشارہ فرما رہے ہيں جو اس قسم کي دوستي کے نتيجہ ميں انسان کو بھگتنا پڑتے ہيں۔چنانچہ امير المومنين عليعلیہ السلام امام حسنعلیہ السلام کو وصيت فرماتے ہيں :

’’اے فرزند!بے وقوف سے دوستي نہ کرنا؛ کيونکہ وہ تمہيں فائدہ پہنچانا چاہے گا تو نقصان پہنچائے گا.اور بخيل وکنجوس سے دوستي نہ کرنا؛ کيونکہ جب تمہيں اسکي مدد کي اشد ضرورت ہوگي وہ تم سے دور بھاگے گا، اور بدکار سے دوستي نہ کرنا ،وہ تمہيں کوڑيوں کے مول بيچ ڈالے گا اور جھوٹے سے دوستي نہ کرنا کيونکہ وہ سراب کي مانند ہے؛ تمہارے لئے دور کي چيزوں کو قريب اور قريب کي چيزوں کو دور کرکے دکھائے گا‘‘۔

آپ علیہ السلام ايک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہيں :

’’ بيوقوف کي ہم نشيني اختيار نہ کرو کيونکہ وہ تمہارے سامنے اپنے کاموں کو سجا کر پيش کرے گا اور يہ چاہے گا کہ تم اسي جيسے ہوجاؤ ‘‘

کمزور رائے اور برے افعال انجام دينے والے کي دوستي سے بچو کيونکہ آدمي کا اس کے ساتھي پر قياس کيا جاتا ہے اور فاسقوں کي صحبت سے بچے رہنا کيونکہ برائي، برائي ہي کي طرف بڑھا کرتي ہے‘‘۔

حضرت امير المومنين علیہ السلام امام حسن علیہ السلام کو تحرير کئے گئے خط ميں ارشاد فرماتے ہيں:

’’اپنے نفس کو اپنے بھائي کے بارے ميں قطع تعلق کے مقابلہ ميں تعلق جوڑنے ،رو گرداني کے مقابلہ ميں مہرباني ،بخل کے مقابلہ ميں عطا ،دوري کے مقابلہ ميں قربت،شدّت کے مقابلہ ميں نرمي اور جرم کے موقع پر معذرت قبول کرنے کے لئے آمادہ کرو. گويا تم اس کے غلام اور وہ تمہارا آقا و ولي نعمت ہے۔

حضرت امير المومنين علیہ السلام کے اس قسم کے فرامين جن ميں انسان کو دوستوں سے حسن سلوک اور ان کي غلطيوں سے درگزر کرنے کي تاکيد کي گئي ہے در اصل ان موارد کے لئے ہيں جن ميں دو دوستوں کے باہمي تعلقات کا جائزہ ليا گيا ہے. يعني دوست آپس ميں کس طرح کا برتاؤ کريں اور کون کون سي باتوں کا خيال رکھيں ۔

مذکورہ فرامين کے علاوہ کچھ ايسے ارشادات بھي ہيں جن ميں دوستوں کي غير موجودگي يا دوسروں کے ساتھ دوستوں کے سلسلہ ميں برتاؤ کا انداز بتايا گيا ہے۔ جيساکہ امير المومنين علیہ السلامفرماتے ہيں:

’’دوست ا س وقت تک دوست نہيں ہو سکتا جب تک تين مواقع پر دوست کے کام نہ آئے : مصيبت کے موقع پر ،غير موجودگي ميں اور مرنے کے بعد‘‘۔

ايک اور مقام پر فرماتے ہيں:

’’دوست وہ ہوتا ہے جو غير موجودگي ميں بھي دوستي نبھائے اور جو تمہاري پرواہ نہ کرے وہ تمہارا دشمن ہے‘‘۔

دوستوں کے حقوق کا ايک تصور ہمارے يہاں ’’سب سانجھا‘‘قسم کا پايا جاتا ہے؛ يعني دوست کے حقو ق و مفادات کو اس قسم کا مشترک امر سمجھا جاتا ہے جس ميں دوسرے دوستوں کو دخالت کا پورا پورا حق حاصل ہوتا ہے. اور بعض اوقات اس قسم کے تصور کے نتيجہ ميں دوست کے حقوق دوستوں کے ہاتھوں ہي پائمال ہوتے ہيں .

امير المومنين علیہ السلام حقوق کے اس ناجائز استعمال سے منع فرماتے ہيں

’’باہمي روابط و دوستي کي بنياد پر اپنے کسي بھائي کي حق تلفي نہ کرو کيونکہ پھر وہ بھائي کہاں رہا جس کا تم نے حق تلف کر ديا‘‘۔

دوستوں کے بارے ميں لوگوں کي باتوں پر کان نہ دھرنے کے سلسلہ ميںآپعلیہ السلام فرماتے ہيں:

’’اے لوگو!اگر تمہيں اپنے کسي بھائي کے دين کي پختگي اور عمل کي درستگي کا علم ہو تو پھر اس کے بارے ميں لوگوں کي باتوں کو اہميت نہ دو‘‘۔


متعلقہ تحریریں:

نکاح کے چند بول کے ذريعے ؟

شادي کس لئے، مال و جمال کے لئے يا کمال کے لئے؟

شادي کي نعمت کا شکرانہ

شادي کي شرائط کمال

شادي کي برکتيں اور فوائد

وقت پر شادي = سنّت نبوي (ص)

شادي، اسلامي اقدار کا جلوہ

زندگي کا ہدف

لڑكیوں كی تربیت

اسلام میں شادی بیاہ