• صارفین کی تعداد :
  • 1737
  • 11/6/2010
  • تاريخ :

غِیبت سننے کی بھی ممانعت

غیبت

جس طرح غِیبت کرنا منع ہے اسی طرح اس کا سننا بھی۔ یقینا احادیث میں یہ بات مسلّم ہے کہ غِیبت سننے والا اور غِیبت کرنے والا ایک ہی طرح کا ہے۔ اور یہ اتنا عظیم گناہ ہے کہ جس کی غِیبت کی گئی ہے بغیر اس کی معافی کے دوسرا کوئی راستہ نہیں۔

رسول اکرم نے فرمایا:

”غِیبت سننے والا دو غِیبت کرنے والوں میں سے ایک ہے۔“

(محجة البیضاء، ۰۶۲/۵)

امام صادق(علیہ السلام) نے پیغمبر اسلام(ص) سے حدیث نقل کی ہے کہ: پیغمبر اکرم(ص) نے غِیبت کرنا اور سننا دونوں ہی منع کیا ہے۔ پھر آپ (ص) نے فرمایا:

”دیکھ لو، جو بھی کسی غِیبت کرنے والے سے کسی مجمع میں اپنے دینی بھائی کو بچائے گا دفاع کرے گا تو پروردگار اسے ہزار شر سے محفوظ رکھے گا اس دنیا میں اور آخرت میں بھی اور اگر وہ قدرت رکھتے ہوئے بھی دفاع نہیں کرتا ہے تو اس کے ذمہ غِیبت کرنے والے کا ستّر گنا بوجھ رہیگا۔

(وسائل: جلد ۸ ح ۶۱۳۶۱)

غِیبت کی ایک قسم یہ ہے کہ مکاری اور بناوٹی ڈھنگ اور حیرت سے غِیبت سنے۔ اور غِیبت سننے والا بناوٹی اورمکاری کے ذریعہ حیرت کا اظہار اس لئے کرتا ہے کہ غِیبت میں جان پڑسکے۔ اس کی حیرت غِیبت کی ہمت افزائی کرتی ہے۔

مثلاً وہ ایسے جملہ استعمال کرے گا۔ ’استغفر الله‘ یا ‘ اوہ، مجھے یہ نہیں معلوم تھا‘ یا‘ وہ اس حد تک‘ یہ تاثرات‘ غِیبت کرنے والے کو اور زیادہ ورغلاتا ہے تاکہ وہ اور زیادہ اس فعل قبیح میں مبتلا ہوجائے۔ اور لوگوں کے عیوب سے محفوظ ہوتا رہے۔ یہ شیطانی عمل ہے۔ غِیبت، غِیبت ہے چاہے شامل رہے، یا خاموشی سے سنتے رہے۔


متعلقہ تحریریں:

احسن انداز سے بات کرنا سیکھیں

بدخلقي

حسن خلق كے اُخروى فوائد

اخلاق حسنہ

آداب نشست

نبی اکرم (ص) کے کھانا کھانے اور آرائش کے آداب

بداخلاقى كا انجام

ظاہرى آرائش، مہمان نوازى اور عيادت  کے آداب

آپ (ص) کے رخصتی اور دوسروں کو پکارنے کے وقت اخلاق

 آنحضرت (ص) كا لوگوں كے ساتھ سلام کرنا