• صارفین کی تعداد :
  • 2306
  • 11/6/2010
  • تاريخ :

روحانی بیماریاں

غیبت

اور نہ کوئی کسی کی غِیبت کرے، کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مرے بھائی کا  گوشت کھائے؟

(قرآن - ۹۴:۲۱)

پیغمبر اسلام(ص) نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا: اے علی، جب کوئی اپنے مسلمان بھائی کی غِیبت اپنی موجوگی میں سنتا ہے اور قدرت رکھنے کے باوجود اس کی مدد کو نہیں آتا، تو اللہ تعالیٰ اسے اس دنیا میں ذلیل کریگا اور آخرت میں بھی۔

(شیخ حر عاملی، وسائل الشیعہ: ج ۸، حدیث ۶۳۳۶۱)

”روحانی بیماریاں“

غِیبت

ایک مرتبہ حضرت ابوذر غفارینے پیغمبر اکرم(ص) سے دریافت کیا کہ غِیبت کیا ہے؟

آپ(ص) نے فرمایا: اپنے مومن بھائی کے سلسلہ میں وہ کہنا جسے وہ ناپسند کرے۔

ابوذر نے پھر پوچھا، اے پیغمبر ِخدا (ص)، چاہے وہ خامی اس میں موجود ہی کیوں نہ ہو؟ آپ(ص) نے جواب دیا:

یاد رکھو، جو بُرائی اس میں ہے اگر تم اس کو بیان کر رہے ہو تو وہ غِیبت ہے اور جب تم وہ برائی بیان کررہے ہو جو اس میں نہیں پائی جاتی، تو تم نے اس پر تہمت لگائی۔

(وسائل الشیعہ ۸/ حدیث ۲۱۳۶۱)

غِیبت کے نتائج

رسول اکرم(ص) نے ابوذر غفاری کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:

”اے ابوذر غِیبت سے ہوشیار رہو، کیونکہ یہ زنا سے بدتر ہے۔ “

ابوذر نے پوچھا: ایسا کیونکر ہے یا رسول الله؟ آپ (ص) نے فرمایا:

”کیونکہ جب کوئی شخص زنا کرتا ہے اور توبہ و استغفار کرتا ہے تو خدا اسے معاف کر سکتا ہے۔ لیکن، غِیبت اس وقت تک معاف نہیں کی جاسکتی جب تک وہ شخص معاف نہ کرے جس کی غِیبت کی گئی ہے۔“

(وسائل الشیعہ جلد ۸/ج۲۱۳۸۱)

حضرت رسول اسلام(ص) سے روایت ہے:

”جو کوئی غِیبت کرے وہ اپنا روزہ اور وضو باطل کرتا ہے۔ وہ روز قیامت اس طرح محشور ہوگا کہ منھ سے بدبودار پیپ نکل رہی ہوگی اور جو بھی اس کے ساتھ مواقف میں ہوں گے ان کے لئے بہت ناگوار ہوگا۔ اگر وہ بغیر توبہ کئے مرجائے گا تو اس کی موت اس کی طرح ہوگی جس نے ہر وہ شئ جسے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے، اسے حلال کیا ہو۔

(وسائل/۸/۶۱۳۶۱)

حضرت امام صادق(علیہ السلام) نے فرمایا کہ پیغمبر اکرم(ص) کی حدیث ہے:

”اے لوگو! جنھوں نے اسلام صرف زبان سے قبول کیا ہے مگر دلوں میں ایمان نہیں اترا، مسلمانوں کو ذلیل نہ کرو اور نہ ان کے عیوب اجاگر کرو اور جس کے عیوب اللہ ظاہر کرے وہ ذلیل ہوگا، اپنے ہی مملکت میں۔“

(کافی /۲، کتاب الایمان والکفر)

ایک اور مقام پر امام صادق(علیہ السلام) حضرت رسول اکرم (ص) کی حدیث بیان کرتے ہیں۔

”غِیبت ایک مومن کے ایمان کو اس طرح تباہ و برباد کردیتی ہے جس طرح جسم کو اَکْلہ (وہ بیماری جو جسم کے گوشت کو گلا دیتی ہے)۔ “

(الکافی -۲، کتاب الایمان والکفر)

جب غِیبت ہمارے اخلاق میں داخل ہوجاتی ہے۔ وہ بیماری روح پر غلط اثر کرتی ہے۔ ایک اثر یہ ہے کہ دل میں بغض و عداوت کا اضافہ ہوتا ہے جو آہستہ آہستہ بڑھتا ہی جاتا ہے۔ موت کے وقت جب حجاب ملکوتی اٹھے گا۔ تو غِیبت کرنے والے کو ان لوگوں کی بلندیوں اور مرتبہ کو اللہ کے سامنے دکھایا جائیگا جن کی اس نے غِیبت کی تھی کہ کس طرح اللہ نے ان لوگوں کونوازا ہے۔ اور غِیبت کرنے والوں کے دل میں بغض و عداوت کا اضافہ، اللہ تعالیٰ کے لئے بھی نفرت پیدا کرسکتا ہے، اور اس دنیا سے رخصت ہوتے ہوئے اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی عداوت کی جگہ رہے گی اور ہمیشہ کے لئے ابدی عذاب میں مبتلا رہے گا۔


متعلقہ تحریریں:

احسن انداز سے بات کرنا سیکھیں

بدخلقي

حسن خلق كے اُخروى فوائد

اخلاق حسنہ

آداب نشست

نبی اکرم (ص) کے کھانا کھانے اور آرائش کے آداب

بداخلاقى كا انجام

ظاہرى آرائش، مہمان نوازى اور عيادت  کے آداب

آپ (ص) کے رخصتی اور دوسروں کو پکارنے کے وقت اخلاق

 آنحضرت (ص) كا لوگوں كے ساتھ سلام کرنا