• صارفین کی تعداد :
  • 4886
  • 10/31/2010
  • تاريخ :

مسوڑھوں اور دانتوں کي حفاظت کيجئے

دانتوں کي حفاظت

ديکھا گيا ہے کہ ثقيل اور بھاري چکنائي آميز غذائيں اور ميٹھي اشياء کا کثرت سے استعمال انساني صحت کے لئے ہميشہ نقصان دہ ثابت ہوا ہے، اس کے باوجود عام طور پر لوگ اس وقت محتاط رويہ اپناتے ہيں جب انہيں مختلف تکاليف اور امراض گھير ليتے ہيں۔ ہارٹ اٹيک، ذيابيطس، معدے کے امراض، السر، دانتوں اور مسوڑھوں کے مسائل عام طور پر غير متوازن غذاوں کے استعمال کا ہي نتيجہ ہوتے ہيں ليکن اس مضمون ميں ہم دانتوں اور مسوڑھوں کے مسائل پر روشني ڈاليں گے۔

محکمہ صحت کا عملہ دانتوں کے امراض اور ان کے خطرناک نتائج کے بارے ميں بخوبي علم رکھتا ہے ليکن بدقسمتي سے ہمارے ہاں صحت پر وہ توجہ نہيں دي جاتي جو امريکہ سميت ديگر يورپي ممالک ميں دي جاتي ہے اور نہ لوگوں کي اس ضمن ميں بہتر رہنمائي کي جاتي ہے جو موجودہ جديد دور کا اہم ترين تقاضا ہے۔ انہيں ايسے طريقوں اور پرہيزي عوامل کے بارے ميں نہيں بتايا جاتا جن کو اپناکر وہ (ORAL HEALTH) يعني منہ کي صحت کو بہتر بناسکيں اور ان امراض سے خود کو محفوظ رکھ سکيں جو دانتوں اور مسوڑھوں کي خرابي کے باعث پيدا ہوتے ہيں۔ منہ کي صحت (ORAL HEALTH) ہماري عام صحت کا انتہائي اہم اور لازمي حصہ ہے۔ ايسے لوگ جو صحت مند، پرکشش، چمکتے دمکتے اور موتيوں جيسے سفيد دانت اور مضبوط مسوڑھے رکھتے ہيں وہ اپني عام زندگي ميں اور دوسرں سے گفت و شنيد کرتے وقت زيادہ بااعتماد اور خوش دکھائي ديتے ہيں جبکہ اس کي نسبت ايسے افراد جن کے مسوڑھے خراب اور دانت گندے، ميلے، ٹيڑھے ميڑھے، اوپر نيچے يا ٹوٹے اور کمزور ہوں ان ميں دورانِ گفتگو وہ اعتماد اور خوشي نظر نہيں آتي۔ تاہم منہ کي بہتر ديکھ بھال اور جديد طبّي سہولتوں سے دانتوں اور مسوڑھوں کي بيماريوں اور خاميوں پر قابو پانا بہت آسان ہوگيا ہے۔ ليکن سوال يہ ہے کہ اس کي نوبت ہي کيوں آنے دي جائے؟

دانتوں کے ماہرين کے مطابق چند سادہ سي باتوں کا خيال رکھ کر ہم منہ کي صحت (ORAL HEALTH) کو بہتر بناسکتے ہيں۔

٭ دانتوں اور مسوڑھوں کي روزانہ دو مرتبہ اچھي طرح صفائي اپنا معمول بناليں اور اس ميں کبھي غفلت نہ کريں۔

٭ مشروبات اور ديگر ايسي اشيائ جن ميں شکر کي مقدار زيادہ ہو، کم سے کم استعمال کريں۔

٭ ہر سال اپنے دانتوں کا کسي ماہر ڈينٹسٹ سے معائنہ کروائيں۔

٭ دانت ميں کوئي تکليف محسوس ہو يا مسوڑھوں سے خون آنے لگے تو ڈينٹسٹ کے پا س جانے ميں ايک منٹ کي تاخير بھي نہ کريں۔

ياد رکھئے! منہ کي بہتر صحت حفظانِ صحت کے اصولوں ميں بنيادي حيثيت کي حامل ہے۔ دانتوں اور مسوڑھوں کے امراض اسي وقت پيدا ہوں گے جب ان کي جانب سے غفلت برتي جائے گي۔

ماہرين کا کہنا ہے کہ دانتوں کي حفاظت کا آغاز دودھ کے دانتوں سے ہي کردينا چاہيے۔ کيونکہ اکثر ديکھا گيا ہے کہ بچپن ميں برتي ہوئي غفلت آگے چل کر پيچيدہ نوعيت کے مسائل کا سبب بنتي ہے۔ لہٰذا دودھ کے دانتوں کو يہ کہہ کر نظرانداز کرنا کہ نئے دانت آجائيں گے، قطعي درست سوچ نہيں۔

بچوں کو بھي دن ميں بڑوں کي طرح دو مرتبہ برش کرانا ضروري ہے۔ ليکن اس کے لئے اس بات کا خيال رکھناچاہيے کہ جو برش استعمال کيا جائے وہ نرم ہو اور اس سے بچوں کے مسوڑھوں يا دانتوں کو نقصان پہنچنے کا احتمال نہ ہو۔

شروع سے ہي بچوں کي خوراک کے معاملے ميں محتاط رويہ اختيار کرنے کي ضرورت ہے۔ انہيں تسلسل کے ساتھ مشروبات اور ديگر شکر کي زائد مقدار رکھنے والي غذاوں کا عادي نہ ہونے ديں۔ انہيں ٹافياں، چاکليٹ اور بسکٹ کي لت نہ پڑنے ديں۔

 کھانے کي ميز پر ايسي اشياء رکھنے سے گريز کريں جو بچوں کے دانتوں کے لئے نقصان دہ ہوں۔ اس کے علاوہ پھلوں کے جوس کو مزيد ميٹھا بنانے کے لئے اس ميں شکر مت ڈاليں اور کوشش کريں کہ انہيں بوتل ميں جوس نہ پلايا جائے۔ خاص طور پر ان بچوں کو جو بوتل کو پکڑنے کي صلاحيت حاصل کرچکے ہوں اور طويل عرصے تک بوتل کو ساتھ چمٹائے رکھتے ہوں۔ بچوں کا مسلسل فيڈر استعمال کرنا ان کے دانتوں اور مسوڑھوں کو نقصان پہنچاسکتا ہے۔

جاری ہے

بشکریہ: شازيہ مونس


متعلقہ تحریریں :

آنکھوں کی حفاظت کے لیۓ عینک کا استعمال

پتلے اور موٹے جسم پر پانی کے اثرات

بچوں کی نیند کے متعلق چند غلط فہمیاں

بچوں کی نیند کے متعلق چند غلط فہمیاں ( حصّہ دوّم)

گٹھیا (rheumatoid arthritis ) کی بیماری

گٹھیا (rheumatoid arthriti) کی علامتیں

زچہ و بچہ کی صحت اور مڈوائف

زچہ و بچہ کی صحت اور مڈوائف (حصّہ دوّم)

زچہ و بچہ کی صحت اور مڈوائف (حصّہ سوّم)

 بائیپو لر افیکٹو  ڈس آرڈر کیا ہے؟