• صارفین کی تعداد :
  • 3357
  • 10/5/2010
  • تاريخ :

وھابیت كے بانی

وهابیت

وھابی فرقہ كھاں سے اور كیسے وجود میں آیا؟ سب سے پھلے وھابی فرقہ كو بنانے والا اور اس كو نشر كرنے كے لئے انتھك كوشش كرنے والا شخص محمد بن عبد الوھاب ھے جو بارهویں صدی ہجری كے نجدی علماء میں سے تھا۔

لیكن یہ معلوم هونا چاہئے كہ وھابیت كے عقائدكو وجودبخشنے والا یہ پھلا شخص نھیں ھے بلكہ صدیوں پھلے یہ عقیدے مختلف صورتوں میں ظاھر هوتے رھے ھیں، لیكن یہ ایك نئے فرقہ كی صورت میں نھیں تھے اور نہ ھی ان كے زیادہ طرفدار تھے۔

ان میں سے :چوتھی صدی میں حنبلی فرقہ كے مشهور ومعروف عالم دین ”ابومحمد بَربھاری“ نے قبور كی زیارت سے منع كیا، لیكن خلیفہ عباسی نے اس مسئلہ كی بھرپور مخالفت كی ۔

حنبلی علماء میں سے ”عبد اللہ بن محمد عُكبَری“ مشهور بہ ابن بطّہ (متوفی 387ھ) نے پیغمبر اكرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم كی زیارت اور شفاعت كا انكار كیا۔ اس كا اعتقاد تھا كہ حضرت رسول اكرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم كی قبر منور كی زیارت كے لئے سفر كرنا گناہ ھے، اسی بناپر اس سفر میں نماز تمام پڑھنا چاہئے اور قصر پڑھنا جائز نھیں ھے۔

اسی طرح اس كا یہ بھی عقیدہ تھا كہ اگر كوئی شخص انبیاء اور صالحین كی قبور كی زیارت كے سفر كو عبادت مانے، تو اس كا عقیدہ اجماع اور سنت پیغمبر اكرمكے خلاف ھے۔

ساتویں اور آٹھویں صدی كے حنبلی علماء كا سب سے بڑا عالم ”ابن تیمیہ“ ھے اور محمد بن عبد الوھاب نے اكثر اور اھم عقائد اسی سے اخذ كئے ھیں۔

ابن تیمیہ كے دوسرے شاگرد؛ جن میں سے مشهور ومعروف ابن قیم جوزی ھے اس نے اپنے استاد كے نظریات و عقائد كو پھیلانے كی بھت زیادہ كوششیں كی ھیں۔

شیخ محمد بن عبد الوھاب كا سب سے اھم كارنامہ یہ تھا كہ اپنے عقائد كو ظاھر كرنے كے بعد ان پر ثابت قدم رھا اور بھت سے نجدی حكمرانوں كو اپنے ساتھ میںملالیا اور ایك ایسا نیا فرقہ بنالیاجس كے عقائد اھل سنت كے كے چاروں فرقوں سے مختلف تھے، اس میں شیعہ مذھب سے بھت زیادہ اختلاف تھا جب كہ وہ حنبلی مذھب سے دیگر مذاھب كے مقابلہ میں نزدیك تھا۔

ان كو وھابی كیوں كھا گیا؟ وھابی لفظ فرقہ وھابیت كے بانی كے باپ یعنی عبد الوھاب سے لیا گیا ھے لیكن خود وھابی حضرات اس كو صحیح نھیں مانتے۔

سید محمود شكری آلوسی(وھابیت كی طرفداری میں) كھتا ھے: وھابیوں كے دشمن ان كو وھابی كھتے ھیں جبكہ یہ نسبت صحیح نھیں ھے بلكہ اس فرقہ كی نسبت اس كے رھبر محمد كی طرف هونا چاہئے، كیونكہ اسی نے ان عقائد كی دعوت دی ھے، اس كے علاوہ شیخ عبد الوھاب اپنے بیٹے (محمدابن عبد الوھاب) كے نظریات كا سخت مخالف تھا۔

صالح بن دخیل نجدی (المقتطف نامی مجلہ مطبع مصرمیں ایك خط كے ضمن میں) اس طرح لكھتا ھے:

”اس كے بعض معاصرین وھابیت كی نسبت صاحب دعوت (یعنی محمد بن عبد الوھاب) كے باپ كی طرف حسد وكینہ كی وجہ سے دیتے تھے تاكہ وھابیوں كو بدعت او رگمراھی كے نام سے پہچنوائیں، اور خود شیخ كی طرف نسبت نہ دی (اور محمدیہ نھیں كھا) اس وجہ سے كہ كھیں ایسا نہ هو كہ اس مذھب كے ماننے والے پیغمبر اكرمكے نام كے ساتھ كسی طرح كی شركت نہ سمجھ بیٹھیں۔

مشهور و معروف مصری موٴلف احمد امین، اس سلسلہ میں یوں رقمطراز ھے:

”محمد بن عبد الوھاب او راس كے مرید اپنے كو موحّد كھلاتے تھے، لیكن ان كے دشمنوں نے ان كو وھابی كانام دیا ھے، اور اس كے بعد یہ نام زبان زد خاص و عام هوگیا“۔ 

قبل اس كے كہ محمد بن عبد الوھاب كے اعتقادات كے بارے میں تفصیلی بحث كی جائے مناسب ھے بلكہ ضروری ھے كہ پھلے سلفیہ كے بارے میں كچھ مطالب ذكر كئے جائیں جو وھابیت كی اصل اور بنیاد مانے جاتے ھیں، اس كے بعد بربَھاری اور ابن تیمیہ كے مختصر اعتقادات اور نظریات جو وھابیوں كی اصل اور بنیاد ھیں؛ ذكر كئے جائیں۔

كتاب:تاریخ وھابیت

مؤلف : فقیهى، علي اصغر

مترجم / مصحح : اقبال حیدر حیدری


متعلقہ  تحريريں:

 جعفر صادق کا شیعہ کون ہے؟

اخلاص کا نتیجہ

شیعیان کی سفارش قبول ہوگی

علامات شیعہ از نظر معصومین علیھم السلام

شیعت کا آغاز اور تعد اد

شیعوں کا عقیدہٴ عدل الٰھی

شیعوں کاعقیدہٴ وظائف امامت

شیعوں کے عبادی اعمال

شیعوں کے یھاں مختلف زیارتوں کے اہتمام کی علت

شیعوں کا عقیدہٴ توسل اور شفاعت