• صارفین کی تعداد :
  • 2333
  • 10/5/2010
  • تاريخ :

امام رضاعلیہ السلام اور ولایت عہدی كا منصب

امام رضاعلیہ السلام

نام: علی علیہ السلام

كنیت : ابوالحسن

والد : امام موسی كاظم علیہ السلام

والدہ: محل ولادت مدینہ

مدت امامت: ۲۰ سال

عمر: ۵۵سال

فرزندان: ایك بیٹااور ایك بیٹی

ولادت: ۱۱ذی قعدہ ۱۴۸ھ

شہادت: آخرماہ صفر ۲۰۳ھ

قاتل: مامون لعین

مدفن: مشہد مقدس

امام رضاعلیہ السلام کے صفات

عالم آل محمد، القائم بامراللہ، الحجة، ناصرالدین اللہ، شاہد، داعیاالی سبیل اللہ، امام الہدی، العروة الوثقی، الامام الہادی، الولی، المرشد۔(بحارالانوار ج۴۹)۔

القاب: الرضا، الصابر، رضی، القبلة السابع، ہدانہ (وطن سے دور) قرة اعین المومنین، الصادق، الفاضل، الوصی۔

مامون الرشید، ہارون الرشید عباسی كا بیٹا جوكہ خلافت كی كرسی پربیٹھا تھا، اس نے ارادہ كرلیا كہ كہ امام رضا كومدینے سے ”مرو“ خراسان بلایا جائے اور ان كی علمی اور اجتماعی موقعیت سے استفادہ كرتے ہوئے ان پر كاملا نظارت اور نگرانی ركھے۔

پس مامون نے اپنے آدمیوں كے ذریعہ (احترام كی صورت میں) زبردستی امام كو بلایا جبكہ امام اپنی ناراضگی اور نارضایتی كو لوگوں پر واضح كر رہے تھے اب جب كہ امام رضا علیہ السلام خراسان، حكومت كے مركز تك پہنچ گئے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے كہ مامون نے كیوں امام كو بلایا؟ خلافت كے لئے، ولایت عہدی كے منصب كے لئے، یا امام كی فعالیتوں كو دیكھتے ہوئے ان پر نگرانی اور كنٹرول ركھنے كے لئے؟

تاریخ میں ملتا ہے كہ جونہی امام خراسان پہنچے كچھ دنوں كے بعد ہی مامون نے امام كے ساتھ مذاكرات شروع كردئیے اور امام سے منصب خلافت قبول كرنے كو كہا، فضل بن سہل كے كہنے كے مطابق اس دن تك خلافت كی میں نے بے اہمیتی اور بے ارزشی نہیں دیكھی تھی جتنی اس دن دیكھی كیونكہ اس دن امام خلافت قبول كرنے سے انكار كر رہے تھے اور مامون خلافت قبول كروانے پر اصرار كر رہا تھا مامون نے جب یہ دیكھا تو پھر اصراركیا كہ كم ازكم ولایت عہدی قبول كریں، امام نے اس سے بھی انكار كیا، تب مامون نے امام كو دھمكی دی اور كہا كہ اگر اب بھی قبول كرنے سے انكار كریں تو میں آپ كو قتل كروادوں گا امام نے بھی ناچار ہوكر ولایت عہدی كے منصب كو قبول كرلیا لیكن شرائط كے ساتھ، كہ میں ہرگز ملك اور مملكت، خلافت، عزل و نصب حكام، قضاء اور فتوی و غیرہ میں دخل اندازی نہیں كروں گا(الارشاد، شیخ مفید، ص۳۱۰)۔

بالاخرہ پیر كے دن ۱۷/رمضان ۲۰۱ھ كو رسمی طور پر حضرت كی ولایت عہدی كا اعلان كیا گیا اور خلیفہ مامون كے حكم پر سب سے پہلا بیعت كرنے والا عباس مامون تھا اور عسكری و درباری شخصیتوں نے آنحضرت كی بیعت كی، یہ ولایت عہدی امام كے شیعوں اور دوستوں كی خوشی اور شادمانی كا باعث بنی لیكن امام نے جوكہ غم و اندوہ میں مبتلا تھے اور حقیقت سے آگاہ تھے سب اس سیاسی دغا بازی اور گناؤنی سازش كو زمانے كے ساتھ ساتھ آشكار كردیا۔

مامون نے كیوں امام رضاعلیہ السلام كو اپنا ولی عہد بنایا؟

مامون عباسیوں میں خلافت كے لئے سب سے زیادہ شایستہ اور سزاوار تھا لیكن چونكہ بنی عباس اس كے مخالف تھے، اس كے استاد فضل بن سہل كے بھی سرسخت دشمن تھے، دوسری بات یہ كہ امین (مامون كا بھائی) ماں اور باپ كی طرف سے اصیل عرب، جبكہ مامون كی ماں ایك معمولی سے كنیز تھی، امین كو اس پر ہر لحاظ سے برتری اور فوقیت حاصل تھی ، اسكے علاوہ اكثر امراء امین رشید كے طرف دار تھے، فوج كے بڑے بڑے افسربھی اسی كے چاہنے والے تھے، ا سكے مقابلہ میں مامون كی تكیہ گاہ اور پناہ گاہ كیا تھی …لوگ…نہیں… درباری نہیں، فوج نہیں، عباسی خاندان نہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے كہ مامون كو حكومت كرنے كے لئے ہرطرف سے خطرہ ہی خطرہ تھا اور وہ كسی بھی صورت میں اپنی حكومت كو پائدار اور باقی نہیں ركھ سكتا تھا۔

تین گروہ كم ازكم ضروراس كے مقابلے میں تھے، ۔

۱۔ علوی شیعہ۔ ۲۔ اعراب۔ ۳۔ امین اور خاندان بنی عباس۔

اس كے علاوہ خوداہل خراسان بھی اب اس سے ناراض تھے اور اس كی حكومت كے لئے خطرہ ثابت ہو رہے تھے ان چیزوں كو مدنظر ركھتے ہوئے مامون كے لئے كچھ راہ حل تھے جن كے ذریعہ وہ اپنی حكومت كو بچا سكتا تھا۔

۱۔ علویوں اور شیعوں كی بغاوت كو سركوب كرنا (صلح یا شمشیر كے ذریعہ)۔

۲۔علویوں سے عباسی حكومت كے لئے جواز اور مشروعیت كی سرٹیفكیٹ حاصل كرنا۔

۳۔ عربوں كا اعتماد حاصل كرنا اور ان میں محبوبیت پانا۔

۴۔ اپنی حكومت كے جواز كے لئے ایرانیوں اور خراسانیوں سے سرٹیفكیٹ حاصل كرنا۔

۵۔ علویوں كو اہل دنیا ثابت كرتے ہوئے ان كی محبوبیت اور احترام كو ختم كرنا۔

۶۔ اپنے لئے ہرخطرے سے محفوظ رہنے كے لئے اسباب فراہم كرنا۔

۷۔ عباسیوں كو راضی اور خوشنود ركھنا۔

جی ہاں! یہ سب ایسی راہ حل ہیں جو صرف اور صرف امام رضا علیہ السلام كی ولایت عہدی كے ذریعہ ہی انجام تك پہنچ سكتی ہیں اور خاص كر امام رضا علیہ السلام جیسی محبوب شخصیت كے خطرے سے بھی وہ محفوظ و مصون رہ سكتا ہے امام رضا علیہ السلام كی ولایت عہدی ہی كے ذریعہ وہ علویوں كو خلع سلاح بھی كر سكتا تھا، ان كی محبوبیت بھی ختم كر سكتا تھا (یہ بتلاتے ہوئے كہ علوی لوگ بھی اہل دنیا ہیں) ان سے اور ایرانیوں سے جو اہل بیت كی مشروعیت اور جواز كا مدرك لے سكتا تھا، عباسیوں اور عربوں میں یہ آشكار كیا كہ اگر اپنے بھائی كو قتل كیا لیكن حكومت كو اس كے اہل اور سزاوار شخص تك پہنچایا۔

تجزیہ وتحلیل

كچھ چیزیں ایسی ہیں جوكہ مامون كے اخلاص اور امام كی ولایت عہدی كو پوری طرح مشكوك بنا دیتی ہیں، اگر واقعا مامون امام كو ایمان اور عقیدے كی بنیاد پر خلافت دینا چاہتا تھا تو:

۱۔ امام كو كیوں زبردستی مدینے سے مرو، خراسان لایا جب كہ مدینے میں رہ كر بھی انہیں خلیفہ یا ولی عہد بنا سكتا تھا اور خود خراسان میں ان كا نمائندہ رہ سكتا تھا۔

۲۔ اس نے كیوں حكم دیا كہ امام كو مشكل ترین راستوں بصرہ، اہواز اور فارس سے لایا جائے اور كوفہ و قم سے نہ لایا جائے كہ وہاں كہ اكثریت شیعہ تھی، اگر وہ مخلص ہوتا تو امام كا استقبال كرنے كی اس كے لئے زیادہ اسباب فراہم ہو سكتے تھے اور اس میں اسی كافائدہ تھا۔

۳۔ مامون نے كیوں مذاكرہ كرتے وقت امام كوخلیفہ اور خود كو ولی عہد قرار دیا جب كہ ولی عہد كے منصب پر امام جواد علیہ السلام كو فائز كر سكتا تھا یا یہ منصب امام كے اختیار میں دے سكتا تھا۔

۴۔ امام كا ولی عہد ہونے كا كیا فائدہ تھا جب كہ اس وقت امام مامون سے ۲۰سال بڑے تھے۔

۵۔ امام نے جب حكومتی امور میں دخالت كرنے سے انكار كردیا تو یہ كس قسم كی ولایت عہدی تھی اور اس كا كیا فائدہ تھا؟

۶۔ اگر مامون ولایت عہدی یا خلافت دینے میں مخلص تھا تو امام كے قبول نہ كرنے كی صورت میں اس نے كیوں امام كو قتل كرنے كی دھمكی دی؟!

۷۔ اگر مامون اتنا ہی مخلص تھا تو امام كی شہادت كے بعد كیوں امام جواد علیہ السلام كو جو كہ كمسن بھی تھے ولی عہد نہیں بنایا؟

۸۔ مشہور واقعہ كے مطابق كیوں مامون نے امام كو نماز عید پر جاتے وقت آدھے راستے سے واپس لایا، كیا وہ امام كے انقلاب لانے سے ڈر نہیں گیا؟

۹۔ كیوں مامون زبردستی امام كو اپنے ساتھ بغداد لے جانا چاہتا تھا كیا اسے امام سے بغاوت یا تختہ الٹنے كاڈر تھا؟

۱۰۔ اور پھركس بنا پر مامون نے امام كو شہید كردیا؟

امام رضا علیہ السلام كے ولایت عہدی قبول كرنے كی دلیلیں

۱۔ اگر امام رضا علیہ السلام ولایت عہدی قبول نہ كرتے تو ان كی ذات كے علاوہ تمام علویوں، شیعوں اور دوستداران اہل بیت كو خطرہ تھا، لہذا لازم تھا كہ امام اپنی اور اپنے چاہنے والوں كو بچائیں، خاص كر امام كا وجود ہر زمانے كے لئے لازم اور ضروری ہوتا ہے تاكہ لوگوں كی ہدایت كریں، انہیں فكری و فرہنگی مشكلات سے نجات دیں، كفر و الحاد كی دیواروں كو توڑ كر لوگوں كو خداشناسی كی طرف لے جائیں امامت كا فریضہ انجام دیتے ہوئے لوگوں كو ان كے ہدف اور مقصد سے آگاہ كریں اس بناء پر امام نے اپنے شرعی فریضے كو انجام دیتے ہوئے اس منصب كو قبول كیا۔

۲۔ عباسیوں سے جو كہ اہل بیت كے سر سخت دشمن تھے قبول كروایا كہ خلافت آل محمد كا حق ہے۔

۳۔ ولایت عہدی كو قبول كیا تاكہ لوگ آل محمد كو سیاست كے میدان میں حاضر پائیں اور كوئی یہ نہ كہے كہ یہ لوگ جو علماء اور فقہاء تھے سیاست اور دینوی امور سے باخبر تھے۔

۴۔ دشمن و دوست سے اعتراف كروائیں كہ خلافت ہمارا حق ہے جس طرح حضرت علی علیہ السلام نے شوری میں شركت كركے اس كو اپنا حق ثابت كیا۔

۵۔ مامون كے مكروہ چہرے سے نقاب ہٹاكر اس كی مكروہ پالیسی اور سازش كو آشكار كردیا تاكہ لوگ اس كے بارے میں شك و شبہ میں مبتلا نہ ہوں۔

اگرامام رضا علیہ السلام اس منصب ولایت عہدی كو قبول نہ كرتے تو اس صورت میں جان بھئی جاتی، شیعہ اور دوست بھی مشكلات میں مبتلا ہو جاتے اور امام اہداف تك بھی نہ پہنچ پاتے لیكن ولایت عہدی كے منصب كو قبول كركے دشمن سے انہوں نے اپنے خلافت كے حقدار ہونے اور مامون اور عباسیوں كے غاصب ہونے كو سب پر آشكار اور عیاں كر دیا۔

مامون كی تمام سازشوں كو سب پر بے نقاب كردیا مختلف ادیان اور مكاتب مثلا جاثلیق، راس الجالوت، عمران صائبی جو كہ اپنے زمانے كے بہت بڑے عالم تھے، كے ساتھ مناظرے كركے، انہیں شكست دے كر مكتب اہل بیت كوحق ثابت كردیا  اس خلافت كا حقدار صرف اپنے آپ كو ثابت كردیا۔ حقیقت میں مامون چاہتا تھا كہ امام كوان كے مرتبہ اور مقام سے نیچے لائے لیكن یہاں پر بھی امام نے اس كی بدنیتی كو فاش كر دیا۔

خلاصہ یہ كہ عہد مامون میں اگرچہ مامون كی نیت خراب تھی لیكن امام نے ولایت عہدی كا فائدہ اٹھایا اور دنیا والوں پر مكتب اہل بیت كی حقانیت كو ثابت كردیا اور اس كے علاوہ شیعہ بلكہ اسلام و مسلمین كو عزت و عظمت اور سربلند كركے  ہمیشہ كے لئے سرفراز اور جاودان كردیا۔ 

تحریر :   سید ارشد حسین موسوی


متعلقہ تحریریں:

حضرت امام رضا علیہ السلام کی زندگی کے اہم واقعت

 حضرت امام علی رضا علیہ السلام  (ع) کی  نصیحتیں

حضرت امام رضا علیہ السلام کے چند حسن اخلاق

حضرت امام رضا(ع) کا مجدد مذہب امامیہ ہونا

 حضرت امام علی رضا علیہ السلام ولادت باسعادت

حضرت امام رضا (ع)

معصوم دھم (حضرت امام علی رضاعلیہ السّلام)

السلام عليک يا علي بن موسي الرضا

اہم کاموں کیلئے امام رضا (‏ع) کی دعا

حضرت امام رضا (ع) کا کلام توحید کے متعلق