• صارفین کی تعداد :
  • 2431
  • 10/2/2010
  • تاريخ :

سید ابن طاؤوس  اور شب جمعہ کا راز

بسم الله الرحمن الرحیم

 (۲۷) ستائیس جمادی الثانی ۶۴۱ھ شب جمعہ مولائے کائنات  کی زیارت کے بعد ابن طاؤوس حلہ آئے جمعہ کے دن ایک دوست آیا کہنے لگا:

”ایک نیک صفت آدمی جو کہتا ہے کہ حالت بیداری میں امام زمانہ  سے ملاقات کی ہے آپ سے ملنا چاہتا ہے اس کانام عبدالمحسن ہے۔“

ابن طاؤوس نے آنے والے کا احترام کیا سینچر کی شب دونوں گفتگو کے لئے بیٹھے عبدالمحسن نے پرانی باتیں شروع کیں اور وہ واقعہ بیان کیا جو اس کی زندگی کا ماحصل تھا اس نے اس طرح بیان کیا:

”میں حصن بشر کا رہنے والا ہوں لیکن دولاب کی آبادی میں چلا گیا وہیں تجارت کرتا ہوں وہاں کے لوگ مجھے دلوار بن ابی الحسن کے نام سے جانتے ہیں ایک میں نے ”دیوان سرائر“ سے غلہ خریدا جب غلہ لینے پہنچا شب کو معید یہ قبیلہ میں جو مجر کے نام سے مشہور ہے قیام کیا سحر کے وقت عبادت کے لئے اٹھا لیکن معیدیہ کے پانی سے استفادہ کرنا نہیں چاہتا تھا لہٰذا مشرق کی جا نب جو نہر تھی اس کے پانی کے لئے آگے بڑھا کچھ دور جانے کے بعد متوجہ ہوا کہ میں تو کربلا کے راستہ میں تل اسلام نامی مقام پر ہوں یہ تاریخ ۱۹ /جمادی الثانی ۶۴۱ھ کی شب تھی (واضح رہے کہ یہ وہی تاریخ تھی جس شب ابن طاؤس و محمد آوی نجف اشرف میں مکاشفات میں گھرے ہوئے تھے۔)اچانک میں نے اپنے پاس سوار دیکھا جب کہ نہ میں نے گھوڑے کی آواز سنی اور نہ آنے کی آہٹ ہوئی چاند نے طلوع کیا تھا لیکن پردہ کے پیچھے تھا ۔“

ابن طاؤوس جو ابھی تک اس کی گفتگو سن رہے تھے اچانک بول پڑے :

سوار اور گھوڑا دونوں کیسے تھے ؟

عبدالمحسن نے جواب دیا :

”گھوڑا لال رنگ سیاہی مائل تھا سوار سفید کپڑے میں تھا ، سر پر عمامہ بغل میں تلوار تھی اس نے مجھ سے سوال کیا :لوگوں پر یہ کیسا وقت ہے؟“

جواب دیا : دنیا ابر و غبار سے پٹی ہے۔

کہا: میری یہ مراد نہیں تھی میرا سوال یہ تھا کہ لوگوں کی کیسی حالت ہے؟

جواب دیا: لوگ اپنے وطن میں اپنے مال و ثروت کے ساتھ امن کی زندگی بسرکر رہے ہیں۔

کہا: ابن طاؤوس کے پاس جاؤ اور یہ پیغام دے دو۔

عبدالمحسن نے پیام بتایا اور کہنے لگا:

”سوار نے پیام دینے کے بعد کہا :” فالوقت قددناہ فالوقت قددناہ“… (یقینا وقت موعودقریب ہے)اب میں متوجہ ہوا کہ یہ میرے آقا و مولیٰ امام زمانہ  ہیں اب میری عجیب حالت تھی صبح تک اسی حالت میں رہا۔“

عارف کامل نے سوال کیا:

”تم نے کیسے جانا کہ ابن طاؤوس سے مراد میں ہی ہوں؟“

عبدالمحسن نے کہا:

”طاؤوس کے اولاد میں میں آپ کے سوا اور کسی کو نہیں جانتا جب سوار نے پیام کاموضوع شروع کیا تو میرے ذہن میں آپ کے علاوہ کسی کا تصور بھی نہ تھا۔“

ابن طاؤوس نے کہا:

”سوار نے جب فرمایا : ”وقت قریب ہے ۔“ تو تم نے کیا سمجھا ؟ کیا مراد یہ تھی کہ میری موت کا وقت قریب ہے یا ظہور کا وقت قریب ہے؟“

عبدالمحسن نے کہا :

”میں نے ظہور کاوقت قریب ہونے کو سمجھا ۔“

ابن طاؤوس نے کہا:

”کیا تم نے کسی کو اس راز کی خبر دی ؟

عبدالمحسن :

”ہاں! جب میں معیدیہ سے باہر تھا تو کچھ لوگوں نے خیال کیا کہ میں راستہ بھول گیا ہوں اس کے علاوہ جب واپس ہوا تو دیدار کے اثر سے بدھ و جمعرات پورا دن میرے اوپر بے ہوشی طاری رہی۔“

ابن طاؤوس نے کہا :

”اب تم اس راز کو کسی سے بھی بیان نہ کرنا۔“

آپ نے کچھ ہدیہ دینا چاہا لیکن عبدالمحسن نے جواب دیا :”خدا کے فضل سے میں لوگوں کی مدد کا محتاج نہیں ہوں۔“ابن طاؤوس نے مہمان کے لئے بستر تیار کیا جب وہ آرام کرنے بستر پر چلا گیا تو آپ باہر آئے اور خود سونے کے لئے چلے گئے لیکن سونے سے پہلے بارگاہ خداوندی میں دعا کی کہ ”حقائق او ر زیادہ واضح ہو جائیں۔“اس دعا کے تھوڑی دیر بعد پلکیں بند ہوئیں اورابن طاؤوس بارگاہ رحمت منان کی سیر کرنے لگے۔

اس شب آپ نے جو کچھ خواب دیکھا پورے طور پر کوئی بھی اس سے آگاہ نہیں ہے ہاں! خود آپ نے سینچرکی شب ۲۸/جمادی الثانی ۶۴۱ھ کے اسرار آمیز خواب کا تذکرہ اس طرح کیا ہے:

”خواب میں آقا و مولیٰ امام جعفر صادق علیہ السلام کو دیکھا کہ ایک عظیم تحفہ میرے لئے لائے ہیں وہ تحفہ میرے پاس ہے لیکن گویا میں اس کی قدر نہیں جانتا اور اس کی صحیح قدر وقیمت سے ناواقف ہوں۔“

خواب سے بیدار ہوئے شکر خدا بجا لائے نماز شب کے لئے تیار ہوئے لیکن دلچسپ واقعہ پیش ایا جس سے نماز شب ادا نہ کر سکے خود انھیں کی زبان سے سنیں:

”نمازشب کے لئے بیدار ہوا لوٹا اٹھایا تاکہ وضو کروں ایسا محسوس ہوا کہ کسی نے لوٹے کی ٹوٹی کو بند کر دیا ہو اور میرے وضع کرنے میں مانع ہو میں نے دل میں سوچا شاید پانی نجس ہے خدا نہیں چاہتا کہ میں پانی سے وضو کروں پانی لانے والے کو آواز دی پوچھا: پانی کہاں سے لائے تھے؟

جواب دیا : نہر سے ۔ میں نے کہا: شاید پانی نجس ہے اسے لے جاؤ دوسرا پانی لاؤ۔ وہ گیا پانی پھینک کر دوسرا پانی لایا پانی پھینکے اور بھرنے کی آواز میں نے خود سنی میں نے لوٹا لیا وضو کرنا چاہتا تھا لیکن ایسامحسوس ہوا جیسے کسی نے لوٹے کی ٹوٹی بند کر دی ہے اور مجھے وضو نہیں کرنے دینا چاہتا ۔

میں واپس آگیا دعائیں پڑھنے لگا تھوڑی دیر بعد پھر وضو کرنے گیا لیکن پھر بھی وضو نہ کر سکا میں سمجھ گیا کہ یہ حادثہ اس لئے کہ میں نماز شب نہ پڑھ سکوں میں نے سمجھ لیا کہ کل میرے اوپر کوئی مصیبت یا بلا آنے والی ہے خدا وند عالم نہیں چاہتا کہ میں نماز شب پڑھ کر سلامتی کے لئے دعا کروں۔

یہی سوچ رہا تھا کہ آنکھ لگ گئی اچانک خواب دیکھا کہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا : عبدالمحسن میرا پیغام لے کر آیا تھا کیا مناسب تھا کہ تم اسے چھوڑ کر چلے جاؤ؟

میں بیدار ہوگیا سمجھ گیا کہ عبدالمحسن کے احترام میں میں کوتاہی کی ہے میں نے دل سے توبہ کی اب جا کر وضو کیا دو رکعت نماز پڑھی صبح ہوگئی میری نماز شب قضاہوگئی ۔“

ابن طاؤوس نے سمجھ لیا تھا کہ امام زمانہ کے سفیر کے ساتھ کوتاہی ہوئی ہے لہٰذا فورا عبدالمحسن کے پاس آئے احترام و عزت کیااپنے خصوصی مال سے (۶) چھ سونے کیس کے اور دوسروں کے وہ اموال جو اپنے مال ہی کی طرح تھے (۱۵) پندرہ سکے عبدالمحسن کو دئے اور معذرت طلب کی۔

عبدالمحسن نے جواب دیا:

”میرے پاس (۱۰۰) سو سنوے کے سکے ہیں آپ انھیں غریبوں کو دے دیں۔“

ابن طاؤوس نے جواب دیا :

”جو کسی عظیم ہستی کا سفیر بن کر آتا ہے اسے اسی احترام و تکریم کی بنا پر تحفہ دیا جاتا ہے نہ کہ محتاجی وفقیری کی بنا پر۔“

سفیر نے قبول نہ کیا اس کے ارادے میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔ ابن طاؤس نے کہا:

”مبارک ہو میں تمہیں پندرہ سکے قبول کرنے پر مجبور نہیں کروں گا لیکن یہ (۶) سکے میرے خصوصی مال سے ہیں تم انہیں ضرور قبول کرلو۔“

عبدالمحسن نے پھر بھی قبول نہ کیا لیکن جب عارف کامل حلہ کا اصرار زیادہ بڑھا تو عبدالمحسن نے (۶) چھ سکے قبول کر لئے۔

دوپہر کا کھانا عبدالمحسن نے اپنے میزبان کے ساتھ کھایا پھر ابن طاؤوس نے جیسا کہ خواب دیکھا تھا مہمان کے آگے آگے بڑھے (بزرگوں کے احترام کرنے کا یہ ایک خاص طریقہ تھا اگرچہ ان کے ساتھ ایسے افرادہوں جو راستہ صاف کریں اور موانع رہ کر برطرف کریں۔) ابن طاؤوس نے مہمان سے التماس کیا کہ اس راز کو کسی سے بھی نقل نہ کرے مہمان خدا حافظی کر کے راہی سفر ہوا۔

اسلام ان اردو  ڈاٹ  کام


متعلقہ تحریریں:

اشک ابو جعفر (مسنتصر)

سید ابن طاؤوس  اور  گمراہوں کے لئے ہادی

سید ابن طاؤوس اور بیمار ہر قل

سید ابن طاؤوس اور ندیم ابلیس

سید ابن طاؤوس اور شہر پر فریب پایہ تخت شیطان

سید ابن طاؤوس (علماء سے ارتباط)

سید بن طاؤوس(فقیہ آگاہ)

سید بن طاؤوس ( تحصیل نور)

سید بن طاؤوس (طائر قفس)

سید عارف حسین کی سیاسی سرگرمیاں