• صارفین کی تعداد :
  • 2299
  • 9/28/2010
  • تاريخ :

سید ابن طاؤوس اور عرفات کا تحفہ

بسم الله الرحمن الرحیم

عرفات کا تحفہ

حلہ کا مرد مجاہد ابن طاؤوس صرف ایک بار عراق کی سر زمین سے باہر نکلا اگرچہ تاریخ نے ابن طاؤوس کے زیادہ طولانی سفر کو بیان نہیں کیا ہے لیکن بہت سے مدارک و اسنادسے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ یہ سفر ۶۲۷ھ میں حج کی غرض سے مکہ کی جانب ہوا تھا۔ پندرہ سال عراق رہنے کی مدت میں یہ طولانی سفر تھا۔

عراق کے عارف کامل کا یہ ملکوتی سفر جس میں بہت سے ابہام دور ہوئے تھے لیکن کسی بھی کتاب میں اس کی تفصیل موجود نہیں ہے اس سفر میں آپ بہت زیادہ خوش تھے عرفات میں قیام کے دن سے آخری مدت تک اپنے کفن کو ایک خاص طریقہ سے ہاتھوں پر بلند کیا پھر اس کفن کو حجرا سود و قبرنبی و دوسرے ائمہ صریح اقدس پر رکھ کر اسے متبرک کیا اس سفر کا سب سے قیمتی تحفہ یہی تھا جو آپ لائے تھے۔

بہترین یادیں

لوگوں کی بہت بڑی تعداد آپ سے معنوی فائدہ اٹھانے کے لئے ملاقات کو آئی تھی یاد خود آپ کو اپنے یہاں لوگ مدعو کرتے تھے ان مواقع پر دوست او ر دشمن کی شناخت بہت مشکل ہوتی تھی اس وقت آپ کا سہارا قرآن ہوتا تھا جس سے آپ سیاست دانوں کے چنگل سے محفوظ رہتے تھے ابن طاؤوس کی ایک تحریر جو اس سلسلہ میں ہے ممکن ہے مفید ثابت ہو۔

”جس وقت میں بغداد کے مغرب میں رہتا تھا ایک صاحب منصب نے مجھے دعوت دی میں نے استخارہ دیکھا تو لا تفعل (انجام نہ دو) آیا لہٰذا میں وہاں نہیں گیا مجھے بعد میں معلوم ہوگیا کہ اس ملاقات میں میرے لئے بہتری نہیں تھی۔“

سید ابن طاؤوس سے علمی استفادہ کے لئی محققین و سیاسی دشمنوں کے علاوہ آپ سے ملاقات اور وعظ و نصیحت کی غرض سے نادان قسم کے دوست بھی عراق آئے تھے جیساکہ ایک دن ایک دوست نے آپ سے مخاطب ہو کر کہا :

”ائمہ معصومین  نے اپنے دور کے خلفاء و سلاطین سے ربط رکھا لہٰذا ہمارا ارتباط بھی خلفاء سے غیر مناسب نہیں ہے ۔“

ابن طاؤوس نے جواب دیا:

”ہماری ائمہ  ان سے ربط رکھتے تھے لیکن ان کے دل میں سلاطین کے لئے ویسی ہی نفرت تھی جیسی خداوند عالم چاہتا ہے لیکن کیا آپ بھی ویسے ہی ہیں ؟ خصوصا اس وقت جب بادشاہ وقت آپ کی ضرورتوں کو پورا کرے آپ کو اپنا خاص قرار دے، آپ کے ساتھ نیکیاں کرے تو کیا آپ خلیفہ وقت سے روگردان اور ناراض رہیں گے؟“

دوست نے جواب دیا:

”آپ صحیح فرماتے ہیں محتاجوں اور نا توانوں کا بادشاہوں کے پاس حاضر ہونا اور اہل کمال و معرفت کا بادشاہوں کے پاس حاضر ہونا ہرگز برابر نہیں ہے۔“

اسلام ان اردو  ڈاٹ  کام


متعلقہ تحریریں:

سید ابن طاؤوس 

سید ابن طاؤوس (علماء سے ارتباط)

سید بن طاؤوس(فقیہ آگاہ)

سید بن طاؤوس ( تحصیل نور)

سید بن طاؤوس (طائر قفس)

آیۃ اللّہ العظمی سید ابوالحسن اصفھانی کے اخلاقی فضائل

آیۃ اللّہ العظمی سید ابوالحسن اصفھانی کا علمی مقام

آیۃ اللّہ العظمی سید ابوالحسن اصفھانی، عراق میں

آیۃ اللّہ العظمی سید ابوالحسن اصفھانی

 شیخ شہید (فضل اللہ نوری)