• صارفین کی تعداد :
  • 2163
  • 9/28/2010
  • تاريخ :

سید ابن طاؤوس اور اشک ابو جعفر (مسنتصر)

بسم الله الرحمن الرحیم

محمد بن احمد بن علقمی مسنتصر کا وزیر اپنے دفتر میں بیٹھا تھا ہمیشہ کی طرح حکومت کے کاموں میں مشغول تھا کہ ابن طاؤوس و اسماعیل داخل ہوئے موید الدین فورا کھڑا ہوگیا ابن طاؤوس کا خاص احترام کیا اور پوچھا :” وہ مرد یہی ہے؟“

ابن طاؤوس نے جواب دیا:

”ہاں! اسماعیل بن حسن ہے کہا: اے اسماعیل ! یہ مرد جو سامنے کھڑا ہے میرا بھائی اورمیرا سب سے قریبی دوستی ہے۔“

وزیر جو صرف داستان سننے کا منتظر تھا اسماعیل سے درخواست کی کہ وہ داستان سنائے ہرقل کے جوان نے اپنی داستان سنادی۔

ابن العلقمی نے داستان سننے کے بعد فورا حکومت کے آدمیوں کو بغداد کے ماہر ڈاکٹروں کے پاس بھیجا سب کو اپنے یہاں جمع کیا سوال کیا:” تم سب لوگوں نے اس مرد کے زخم کامشاہدہ کیا ہے؟“

جواب دیا : ہاں!

پوچھا:اس کا علاج کیا ہے؟

جوا ب دیا : سوائے اس پھوڑے کے نکالنے کے او ر کوئی چا رہ نہیں ہے لیکن اس کے زندہ بچنے کا احتمال بہت کم ہے۔

وزیر نے پھرکہا: فرض کرو کہ اس کے زخم کا علاج کیا جائے اور یہ بچ جائے تو اس کے زخم کے ٹھیک ہونے میں کتنی مدت لگے گی؟

ایک شخص جو ڈاکٹروں کا استاد معلوم ہوتا تھا تھوڑا سا غور کرنے کے بعد جواب دیا: زخم کے ٹھیک ہونے میں کم از کم دو ماہ ضرور لگیں گے یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ زخم کی جگہ سفید نشان باقی رہے گا اور وہاں کبھی بھی بال نہیں اگیں گے۔

وزیر نے پوچھا : تم لوگوں نے رضی الدین ابوالقاسم علی بن موسیٰ کے گھر میں کتنے دن پہلے اس کے زخم کو یکھا تھا؟

جواب دیا : (۱۰) دس دن پہلے

اب وزیر نے سید ابن طاؤوس کے سامنے خوش نصیب ہرقلی کی ران سے کپڑا ہٹا کر ڈاکٹروں سے کہا کہ وہ دوبارہ زخم دیکھیں ڈاکٹروں نے تعجب کے عالم میں اسماعیل کا پیر دیکھا داہنے پیرسے بھی کپڑا ہٹایا کہ شاید زخم وہاں ہولیکن سوائے صحت و سلامتی کے انھیں کچھ نہ ملا ان طبیبوں میں ایک عیسائی تھا اس نے نعرہ بلند کر کے کہا :

خدا کی قسم یہ کام عیسیٰ بن مریم کا ہے۔

وزیرنے کہا میں جانتاہوں یہ معجزہ کس کا ہے۔

کچھ دن بعد یہ داستان مستنصر کو معلوم ہوئی اس نے وزیر کو طلب کیا وزیر اسماعیل کے ساتھ آیا مستنصر نے ہرقل سے پوری داستان سنی مستنصر نے خادم کو حکم دیا کہ ایک ہزار سونے کے سکے حاضر کئے جائیں سکے حاضرہوئے مستنصر نے کہا :” یہ ہزار سکے تمہارے ہیں اسے لے لو اور اپنی مادی مشکلات برطرف کرو۔“

اسماعیل نے جواب دیا:نہیں لے سکتا ۔

خلیفہ نے سوال کیا : ” کس کا ڈر ہے؟“

اسماعیل نے جواب دیا : اس کا جس نے مجھے بیماری سے نجات دی اس نے فرمایا تھا کہ ابو جعفر (مستنصر) سے کچھ نہ لینا ۔ مسنتصر سخت مضطرب ہوا اور آنکھوں سے اشک جاری ہوگئے۔

اسلام ان اردو  ڈاٹ  کام


متعلقہ تحریریں:

سید ابن طاؤوس 

سید ابن طاؤوس (علماء سے ارتباط)

سید بن طاؤوس(فقیہ آگاہ)

سید بن طاؤوس ( تحصیل نور)

سید بن طاؤوس (طائر قفس)

آیۃ اللّہ العظمی سید ابوالحسن اصفھانی کے اخلاقی فضائل

آیۃ اللّہ العظمی سید ابوالحسن اصفھانی کا علمی مقام

آیۃ اللّہ العظمی سید ابوالحسن اصفھانی، عراق میں

آیۃ اللّہ العظمی سید ابوالحسن اصفھانی

 شیخ شہید (فضل اللہ نوری)