• صارفین کی تعداد :
  • 2344
  • 9/8/2010
  • تاريخ :

فتح كا انداز (حصّہ پنجم)

یا قائم آل محمد

جس زمین پر ھم زندگی بسر كر رھے ھیں اس میں اتنی صلاحیت ھے كہ وہ موجودہ نسل اور آنے والی نسل كی كفالت كر سكے، لیكن بہت سے منابع كا ھمیں علم نہیں ھے اور تقسیم كا نظام بھی صحیح نہیں ھے۔  یہی وجہ ھے كہ آج غذا كی قلت كا احساس ھو رھا ھے اور ھر روز لوگ بھوك سے جان دے رھے ھیں۔ اس وقت دنیا پر جس اقتصادی نظام كی حكومت ھے وہ ایك استعماری نظام ھے جو اپنے زیر سایہ "قانونِ جنگل" كی پرورش كر رھا ھے۔ وہ لوگ جو زمین میں پوشیدہ ذخیروں كا پتہ لگاتے، انسانیت كی فلاح و بہبود كی كوشش كرتے ھیں وہ استعمار كی بارگاہ ظلم و استبداد میں "امن و امان" كی خاطر بھینٹ چڑھا دیے جاتے ھیں۔

لیكن جس وقت اس دنیا سے استعماری نظام كا خاتمہ ھوجائے گا اور اسی كے ساتھ ساتھ "قانون جنگل" بھی نابود ھوجائے گا، اس وقت زمین میں پوشیدہ خزانوں سے بھی استفادہ كیا جاسكے گا، اور نئے ذخیروں كی تلاش ھوسكے گی۔ علم و دانش بھی اقتصادیات كی بہتری میں سرگرم رھیں گے۔

حضرت مھدی سلام اللہ علیہ كے سلسلے میں جو روایات وارد ھوئی ھیں ان میں اقتصادیات كی بہتری كی طرف بھی اشارہ ملتا ھے۔ ذیل كی سطروں میں اس سلسلے كی چند حدیثیں ملاحظہ ھوں:

انہ یبلغ سلطانہ المشرق والمغرب، وتظھرلہ الكنوز ولا یبقیٰ فی الارض خراب الا یعمّرہ

آپ كی حكومت مشرق و مغرب كو احاطہ كیے ھوگی، زمین كے خزانے آپ كے لئے ظاھر ھوجائیں گے۔ زمین كا كوئی حصہ غیر آباد نہیں رھے گا"۔

غیر آباد زمینیں افراد، مال یا ذرائع كی كمی كی بنا پر نہیں ھیں بلكہ یہ زمینیں انسان كی ویران كردہ ھیں۔ ظھور كے بعد انسان تعمیر كرے گا تخریب نہیں۔

اس سلسلے كی ایك دوسری حدیث ملاحظہ ھو۔ یہ حدیث حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ھوئی ھے۔

اذا قام القائم، حكم بالعدل

وارتفع الجور فی ایامہ

وامنت بہ السبل

واخرجت الارض بركاتھا

ورد كل حق الی اھلہ

وحكم بین الناس بحكم داؤد و حكم محمد

فحینئذ تظھر الارض كنوزھا

ولا یجد الرجل منكم یومئذ موضعا لصدقتہ ولا لبرہ

لشمول الغنی جمیع المومنین

جس وقت ھمارے قائم كا ظھور ھوگا، عدل و انصاف كی بنیاد پر حكومت قائم كریں گے ان كے زمانے میں ظلم و جور نابود ھوجائیں گے۔

راستوں پر امن و امان ھوگا،

زمین اپنی بركتیں ظاھر كردے گی،

صاحبان حقوق كو ان كے حق مل جائیں گے۔

عوام كے درمیان جناب داؤد (ع) اور حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كی طرح فیصلہ كریں گے۔

اس موقع پر زمین اپنے خزانے ظاھر كردے گی۔

كسی كو صدقہ دینے یا مالی امداد كا كوئی موقع نہ ملے گا كیونكہ اس وقت تمام لوگ مستغنی ھوچكے ھوں گے۔"

زمین كا اپنی بركتوں كو اور خزانوں كو ظاھر كردینا بتا رھا ھے كہ اس وقت زراعت بھی عروج پر ھوگی، اور زمین میں پوشیدہ تمام منابع كا انكشاف ھوگا۔ عوام كی سالانہ آمدنی اتنی ھوگی كہ سماج میں كوئی فقیر نہ ھوگا، سب كے سب خود كفیل ھوچكے ھوں گے۔

جس وقت عدل و انصاف كی بنیاد پر حكومت قائم ھوگی اور ھر شخص كی استعداد سے بھرپور استفادہ كیا جائے گا جس وقت تمام انسانی طاقتیں زراعت اور منابع كے انكشاف میں لگ جائیں گی تو روزانہ نئے خزانے كا انكشاف ھوگا اور ھر روز زراعت میں ترقی ھوگی۔ غذائی اشیاء كی قلتیں، بھوك، پریشانی وغیرہ كی وجہ غیر منصفانہ طرز تقسیم ھے۔ یہ تقسیم كا نقص ھے كہ كہیں سرمایہ كی بہتات ھے اور كہیں دو لقمہ كو كوئی ترس رھا ھے۔

حضرت مھدی سلام اللہ علیہ كے دوران حكومت صرف زراعت میں ترقی اور زمین میں پوشیدہ خزانوں ھی كا انكشاف نہ ھوگا بلكہ اس دور میں شھر اس وقت سے زیادہ آباد ھوں گے، چوڑی چوڑی سڑكیں ھوں گی۔ عین سادگی كے ساتھ وسیع مسجدیں ھوں گی۔ گھروں كی تعمیر اس طرح ھوگی كہ كسی دوسرے كو اس سے كوئی تكلیف نہیں پہونچے گی۔ اس سلسلے میں چند روایتیں ملاحظہ ھوں:۔

1) حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ھے:

و یبنیٰ فی ظھر الكوفہ مسجدا لہ الف باب و یتصل بیوت الكوفہ بنھر كربلا وبالحیرة

"كوفہ كی پشت پر ایك ایسی مسجد تعمیر كریں گے جس كے ھزار دروازے ھوں گے اور كوفہ كے مكانات كربلا كی نہر اور حیرہ سے مل جائیں گے"۔

سب جانتے ھیں كہ اس وقت كوفہ سے كربلا كا فاصلہ 90 كلومیٹر ھے۔

2) حضرت امام محمد باقر علیہ السلام كا ارشاد ھے كہ:

اذا قام القائم یكون المساجد كلھا جمالا شرف فیھا كما كان علی عھد رسول اللہ (ص) و یوسع الطریق الاعظم فیصیر ستین ذراعھا ویھدم كل مسجد علی الطریق ویسد كل كوة الی الطریق وكل جناح و كنیف ومیزاب الی الطریق

"جس وقت حضرت قائم كا ظھور ھوگا اس وقت مسجدوں كی چھوٹی چھوٹی دیواریں ھوں گی، مینار نہیں ھوں گے، اس وقت مسجدوں كی وھی شكل ھوگی جو رسول اللہ كے زمانے میں تھی۔ شاھراھیں وسیع كی جائیں گی یہاں تك كہ ان كی چوڑائی ساٹھ گز ھوجائے گی۔ وہ تمام مسجدیں منھدم كردی جائیں گی جو راستوں پر ھوں گی (جس سے آنے جانے والوں كو زحمت ھوتی ھوگی)

وہ كھڑكیاں اور جنگلے بھی بند كردیے جائیں گے جو راستوں كی طرف كھلتے ھوں گے۔

وہ چھجے، پر نالے اور گھروں كا گندہ پانی جس سے راستہ چلنے والوں كو تكلیف ھوگی وہ ختم كردیے جائیں گے۔

3) حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایك طولانی حدیث میں وارد ھوا ھے كہ:

… ولیصیرن الكوفہ اربعۃ وخمسین میلا ولیجارون قصورھا كربلا ولیصیرن اللہ كربلا معقلا ومقاما ……"

"وہ كوفہ كی مسافت 54 میل كردیں گے، كوفہ كے مكانات كربلا تك پہونچ جائیں گے، اور خدا كربلا كو سرگرمیوں كا مركز قرار دے گا۔"

زراعت، تعمیرات، آبادكاری وغیرہ كے سلسلے میں كافی مقدار میں روایتیں وارد ھوئی ھیں۔ مزید روایتوں كے لئے "منتخب الاثر" كا مطالعہ كیا جا سكتا ھے۔


متعلقہ تحریریں:

فتح كا انداز (حصّہ چهارم)

غیبت كے زمانے میں وجود امام كی نامرئی شعاعیں مختلف اثرات ركھتی  ہیں