• صارفین کی تعداد :
  • 832
  • 8/10/2010
  • تاريخ :

لبنان میں اسرائیلی جاسوسوں کی دقیق تفصیلات

سید حسن نصراللہ
حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے کل رات لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل میں اسرائیل کے ملوث ہونے کے بارے میں ٹھوس شواہد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل لبنان میں داخلی جنگ چھیڑنے اور مذہبی و قومی فتنے برپا کرنےکے منصوبوں پر عمل کر رہا ہے ۔

مہر خبررساں ایجنسی نے المنار کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے کل رات ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ میں نے وعدہ کیا تھا کہ میں آئندہ پریس کانفرنس میں ایسے شواہد پیش کروں گا جن کی بنا پر رفیق حریری کے قتل کیس میں پائے جانے والے ابہامات دور ہوجائیں گے سید حسن نصر اللہ نے لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل میں اسرائیلی مداخلت کے ٹھوس شواہد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل لبنان میں داخلی جنگ چھیڑنے اور مذہبی و قومی فتنے برپا کرنےکے منصوبوں پر عمل کررہا ہے ۔انھوں نے ان جاسوسوں کے نام لئے جو لبنان میں رہ کر اسرائیل کے لئے کام کرتے تھے اور ان  جاسوسوں نے رفیق حریری کے سکیورٹی اداروں میں نفوذ پیدا کرکے انھیں غلط اطلاعات فراہم کرتے تھے سید حسن نصر اللہ نے سب سے پہلے  جاسوس کا نام افشا کرتے ہوئے کہا کہ یہ شخص لبنانی تھا اور اس کا نام احمد نصر اللہ تھا جو اسرائيل کے لئے جاسوسی کرتا تھا یہ شخص لبنان کے اہم علاقوں ، لبنانی شخصیات کے گھروں اور جنوب لبنان سے اطلاعات جمع کرکے اسرائیل کو فراہم کرتا تھا حزب اللہ کے سربراہ نے پریس کانفرنس میں اس شخص کے اعتراف پر مبنی ویڈيو بھی دکھائی انھوں نے کہا کہ اسرائیلی جاسوسوں کا رفیق حریری سکیورٹی اداروں میں اس قدر نفوذ تھا کہ وہ رفیق حریری کی گاڑی کو جس راستہ سے چاہتے تھے لے جاتے تھے اور انھیں یہ کہتے تھے کہ فلاں راستہ سے مت جاؤ کیونکہ ادھر حزب اللہ سے خطرہ ہے اور ممکن ہے وہ آپ کی گاڑی کو بم سے اڑا دیں ، سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ 2005 میں جس دن رفیق حریری قتل ہوئے اسرائيل نے اسی دن حزب اللہ پر الزام عائد کرنا شروع کردیئے کہ رفیق حریری کو حزب اللہ نے قتل کیا ہے سید حسن نصر اللہ نے حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی الزامات کی ایک مختصر رپورٹ بھی پیش کی جس میں رفیق حریری قتل کا حزب اللہ پر الزام عائد کیا گیا ہے، سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ جن افراد کو اسرائیل نے لبنان میں قتل کیا ہے ان کی فہرست بڑی طولانی ہے۔ انھوں نے کہا کہ رفیق حریری قتل میں اسرائیل کے مفادات تھے کیونکہ وہ اپنے اس اقدام کے ذریعہ لبنان میں داخلی جنگ چھیڑنا چاہتا تھا اور دوسری طرف حزب اللہ کو اس میں ملوث ثابت کرکے حزب اللہ کی بیخ کنی کرنا چاہتا تھا حزب اللہ اور تمام اسلامی تنظیموں اور مقاومت کے ساتھ اسرائیل کی دشمنی سب پر عیاں ہے انھوں نے کہا کہ اسرائیل آج بھی لبنان میں جاسوسی کررہا ہے اور اس سلسلے میں حزب اللہ نےاسرائیل کے کئی جاسوسوں کو گرفتار بھی کیا ہے اور اسرائیل کے گرفتار شدہ جاسوسوں کی اطلاعات کی بنا پر رفیق حریری کو اسرائیل نے قتل کیا ہے اور اس قتل کا ایک مقصد لبنان سے  شامی فوجوں کا انخلاء بھی  تھا اور دوسری طرف لبنان میں داخلی جنگ چھیڑ کر لبنان کو کمزور بنانا تھا انھوں نے کہا کہ اسرائیل لبنان میں زمینی اور فضائی دونوں طریقہ سے جاسوسی کررہا ہے سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ اسرائیل کے پکڑے گئے جاسوسوں کی اطلاعات اور دیگر شواہد سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ رفیق حریری قتل میں اسرائیل اور اس کے خفیہ ادارے ملوث ہیں انھوں نے کہا کہ حماس کے رہنما محمود المبحوح کا دبئی میں قتل اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسرائیل یورپی ممالک کے جعلی پاسپورٹ استعمال کرکے بھی قتل کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے  انھوں نے کہا کہ لبنانی حکومت اسرائیلی جاسوسوں کے اعترافات کے سلسلے میں ایک کمیٹی تشکیل دے جس میں اسرائيل سے لاحق خطرات پر تبادلہ خیال کیا جائے انھوں نے کہا کہ عالمی عدالت  کے کمیشن نے بھی امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ  رفیق حریری کے قتل میں پہلے شام پھر لبنان کے بعض افسروں اور پھر حزب اللہ کو ملوث کرنے کی کوشش کی اس کمیشن کے تمام افراد کو برطانیہ اور امریکہ نے منتخب کیا ہے اور جس کمیشن کے افراد کو امریکہ اور برطانیہ منتخب کریں وہ حزب اللہ پر الزام عائد نہیں کریں گےتو پھر کیا وہ اسرائیل پر الزام عائد کریں گے؟ انھوں نے کہا کہ لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل میں اسرائيل ملوث ہے اور یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔