• صارفین کی تعداد :
  • 850
  • 8/4/2010
  • تاريخ :

لبنان پر اسرائیلی حملے کی مذمت 

رامین مہمان پرست
اسلامی جمہوریۂ ایران کی وزارت خارجہ نے لبنان پر صیہونی جارحیت کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے ۔

ایران کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں لبنان پر اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران ان واقعات اور اسکے نتائج پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے ۔

وزارت خارجہ کے بیان میں مزید آیا ہے کہ غاصب اسرائیل نے ایک ایسے وقت میں غزہ اور لبنان پر حملہ کیا ہے کہ اس کی طرف سے غزہ جانے والے کاروائیوں کو روکنے کی وجہ سے وہ شدید عوامی دباؤ میں ہے لہذا وہ اس دباؤ کو کم کرنے اور رائے عامہ کی توجہ بنانے کے لئے اس طرح کے اقدامات کر رہا ہے ۔

روزنامہ جنگ پاکستان کی رپورٹ کے مطابق سرائیل اور لبنانی فوج کے درمیان جھڑپوں میں لبنانی صحافی سمیت پانچ افراد ہلاک ہو چکے ہیں ۔ منگل کو اسرائیلی اور لبنانی فوج کے درمیان جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب اسرائیلی فوجی ایک درخت گرانے کے لیے لبنانی سرحد کے اندر داخل ہو گئے۔ لبنانی فوجی ذرائع کے مطابق اس درخت سے اسرائیلی فوج کو سرحدی گاؤں ادیسے پر نظر رکھنے میں مشکل ہو رہی تھی۔ لبنانی فوجی ذرائع کے مطابق لبنان کی فوج نے خبردار کر نے کیلئے اس وقت فائر کیا تھا جب اسرائیلی فوج لبنان میں داخل ہوئی۔ جس کے جواب میں اسرائیل نے گولہ باری کی اور ہیلی کاپٹر سے شیلنگ کی ۔ تاہم آج بھی اسرائیلی فوجی دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر درخت ہٹانے کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں،جس کیلئے اسرائیلی ریڈیو کے مطابق فوجی اہلکار اور بکتر بند گاڑیاں سرحد پر جمع کی جا رہی ہیں۔ ۔دونوں ممالک کے درمیان2006 میں اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان ہونے والی جنگ کے بعد پہلی جھڑپ ہے۔ دوسری طرف حزب اللہ کے رہنما شیخ حسن نصر اللہ نے کہا اگر اسرائیلی فوج دوبارہ لبنان میں داخل ہوئی تو وہ خاموش نہیں رہیں گے۔

ادھر غزہ میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ایک فلسطینی شہید اور ایک زخمی ہو گیا۔ فلسطینی طبی ذرائع کے مطابق غزہ کی پٹی میں اسرائیلی شیلنگ سے ایک فلسطینی شہید اور ایک زخمی ہو گیا ۔شیلنگ کا واقعہ جنوبی غزہ کے قریبی قصبہ خان یونس میں پیش آیا ۔اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہے ۔ فلسطینی طبی عملہ کے مطابق ایمبولنس علاقہ میں مزید زخمیوں کو تلاش کر رہی ہیں۔