• صارفین کی تعداد :
  • 929
  • 8/4/2010
  • تاريخ :

صیہونی حکومت کا فریب 

صیہونی حکومت
صیہونی حکومت مسلسل اپنے فریبی پروپیگنڈوں سے یہ ظاہر کرنکی کوشش کر رہی ہے کہ اس نےگذشتہ چند مہینوں سےغرب اردن میں کالونیوں کی تعمیر بند کر دی ہے۔ اور اس نے یہ حکمت عملی تمام فلسطینی علاقوں میں اختیار کر رکھی ہے۔

اس سلسلےمیں صیہونی حکومت کےوزیر خارجہ اویگدورلیبرمین نے کہا ہے کہ اسرائیل نےغرب اردن میں ستمبر کے آخر تک کالونیوں کی تعیمر دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جبکہ صیہونی حلقوں کی جانب سے پیش کئےجانے والے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ صیہونی حکام کے دعؤں کے برخلاف نہ صرف کالونیوں کی تعمیر کی پالیسی ایک لمحےکے لئے رکی نہیں ہے بلکہ عملی طور پر اس کا سلسلہ جاری ہے اور اس میں تیزی بھی آئی ہے۔

اس سلسلےمیں پیس ٹوڈے نامی اسرائیلی ادارے نےاعلان کیا ہے کہ دوسرےتمام فلسطینی علاقوں کی مانند غرب اردن میں بھی وسیع پیمانے پر صیہونی کالونیاں تعمیرکی جا رہی ہیں۔

اس صیہونی ادارے نے اعلان کیا ہے کہ کالونیوں کی تعمیر روکنے کے صیہونی وعدوں کے باوجود اس نے گذشتہ مہینوں میں چار سو باسٹھ رہائشی کامپلکس تعمیر کئے ہيں۔

مذکورہ مسائل سےپتہ چلتا ہے کہ صیہونی حکومت نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں عالمی معاہدوں ، عالمی قوانین اور عالمی امن منصوبوں کی پابند نہيں ہےبلکہ اس نے کبھی بھی ان وعدوں اور معاہدوں پرعمل نہيں کیا جس پرخود اس نے دستخط کئےہيں۔

غرب اردن میں کالونیوں کی تعمیر روکنے کے بارے میں صیہونی حکومت کے پروپیگنڈوں کا مقصد، گذشتہ مہینوں سے فلسطینی علاقوں میں اپنی تسط پسندانہ پالیسیوں میں شدت کی جانب سے رائےعامہ کی توجہ موڑنا ہے۔

غرب اردن میں کالونیوں کی تعمیر روکنے کے پروپیگنڈے کا دوسرا مقصد توسیع پسندانہ پالیسیوں کو عملی طور پر قانونی حیثیت دینا اور اقوام متحدہ کی قررادادوں اور عالمی کنونشنوں میں دراندازی ہے جس میں اس حکومت کو فلسطینی علاقوں کےجغرافیا اور آبادی کے تانے بانے کو درہم برہم کرنےسے روکا گیا ہے ۔

اقوام متحدہ کی قراردادوں اور چوتھےجینوا کنونشن کے مطابق، فلسطینی علاقوں میں تمام صیہونی کالونیاں کو ختم ہونا چاہئے۔

غرب اردن میں صیہونی کالونیوں کی توسیع ایسے عالم میں جاری ہے کہ صیہونی حکومت اس علاقے میں کالونیوں کی تعمیر روک دیئےجانےکی مدعی ہے اور اس سے یہ حقیقت آشکار ہو جاتی ہے کہ صیہونی حکومت جھوٹ ، عیاری ، تلسط پسندی اورغصب کی بنیاد پر قائم ہوئی ہے۔

 

بشکریہ اردو ریڈیو تہران