• صارفین کی تعداد :
  • 959
  • 8/3/2010
  • تاريخ :

تہران، عالم مشرق کا جنیوا 

ایران کا دارلحکومت تہران

اسی (80) کے عشرے میں جب ساری دنیا دو بلاکوں میں بٹی ہوئی تھی،ایران میں اسلامی انقلاب کی شکل میں ایک تیسرا بلاک سامنے آیا جس نے اقوام عالم پر مسلط ان دونوں بلاکوں کی نفی کرتے ہوئے ایک نیا نظام متعارف کرایا۔اس نئے نظام کو اس وقت کے دو بلاکوں کی چکی میں پسے عوام کی جانب سے جو پذیرائی ملی اس کے نتیجے میں ایک بلاک تو ڈھیر ہو گیا اور دوسرے بلاک کا اب شیرازہ بکھرنے جا رہا ہے ۔چنانچہ اسلامی جمہوریہ ایران کی صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد کے بیانات پر اگر سرسری نظر ڈالی جائے تو یہی نتیجہ ہاتھ آتا ہے کہ سابق سویت یونین کی طرح امریکی امپریلزم بتدریج اپنی ساکھ گنوا رہا ہے اور اس کے مدمقابل اگر کوئی طاقت موجود ہے تو ایران ہے کہ جس کے عوام اور قیادت اقوام عالم کی نجات اور رہائی کی نوید دے رہی ہے اور ملت ایران کے ساتھ امریکہ اور مغرب کی لڑائی کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے ۔ صدر ڈاکٹر احمدی نژاد کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران سے بڑی طاقتوں کی دشمنی انتظام عالم کے مسئلے پر ہے۔آج تہران میں، بیرون ملک مقیم ایرانی شہریوں کے ایک اجتماع خطاب میں ایران کے پرامن ایٹمی پرگرام کے بہانے ایران کےخلاف مغربی ملکوں کی پروپگينڈا جنگ پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر جناب احمدی نژاد نے کہا کہ دشمنی کا سبب ایٹمی پروگرام نہیں ہے بلکہ انتظام عالم ہے۔ انہوں نے ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کےخلاف دوہری پالیسیوں کی مذمت کی اور کہا کہ امریکہ نے حال ہی میں پانچ ہزار سے زائد ایٹم بم رکھنے کا اعتراف کیا اور وہ تمام ممالک جو ایران کی مخالفت کرتے ہیں ان کے پاس بھی مجموعی طور پر 20 ہزار ایٹم بم موجود ہیں صدر نے کہا کہ ایران کسی جغرافیائي علاقے، قومیت یا سیاسی خطے میں محدود نہیں ہے بلکہ ایران کا نام اس وجہ سے باقی بچا ہوا ہے کہ اس نے ہمیشہ آفاقی اور انسانی اقدار کے مطابق سوچا ہے اور عمل کیا ہے۔ صدر جناب احمدی نژاد نے کہا کہ ملت ایران بھرپور صلاحیتوں کی مالک ہے جو علمی، ثقافتی،تہذیبی اور انسانی تحریک شروع کر سکتی ہے اور یہ تحریک بہت جلد ساری دنیا کو فتح کر لے گي ۔ رواں سال کے اوائل میں جب ایران نے اپنا ایک سیٹلائیٹ خلا میں روانہ کیا تھا اس وقت اپنے خطاب میں صدر احمدی نژاد نے کہا تھا کہ ایرانی سائنسداں آسمانوں پر بھی کمند ڈال سکتے ہيں ۔انھوں نے کہا کہ ہم تسلط پسند طاقتوں کو شکست دیں گے ۔ ڈاکٹر احمدی نژاد نے3 فروری(2010) کو ایران میں فضا و خلاء کے قومی دن کی مناسبت سے، طلوع ، مصباح 2 اور نوید علم وصنعت سٹلائٹ اور سمیرغ راکٹ لانچر کے انجن کی تقریب رونمائی میں اپنے خطاب کے دوران اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ گذشتہ برسوں کے دوران گوناگوں میدانوں میں ایرانی سائنسدانوں کی پیشرفت حیران کن رہی ہے کہا کہ اگر ایرانیوں نے گذشتہ برس پہلی بار خلامیں راکٹ بھیجاتھا تو اس سال زندہ مخلوقات خلا میں بھیج رہے ہيں ۔صدر مملکت نے کہا کہ ہمارے دین وثقافت میں کوئی بھی عمل ثقافتی پہلو سے الگ نہیں ہے اور تمام اعمال واقدامات انسانیت کے کمال سعادت کےلئےانجام پاتے ہيں۔ بہر حال ملت ایران کی ترقی و پیشرفت جہاں تسلط پسند طاقتوں نیندیں حرام کر رکھی ہیں وہیں محروم اور کچلی ہوئی اقوام کے حوصلوں کو بلند کرنے کا باعث ہے اور وہ دن دور نہیں جب تہران اقبال کے خوابوں کی تعبیر بن کر سامنے آئے گا اور عالم مشرق کا جنیوا بن جائیگا  ۔

 

آئی آر آئی بی