• صارفین کی تعداد :
  • 3505
  • 7/24/2010
  • تاريخ :

حضرت سید عارف حسین حسینی کی شہادت

علامہ سید عارف حسین حسینی

شھید سید عارف حسین حسینی 13 مرداد سن 1367 شمسی کو پارا چنار سے پشاور تشریف لاۓ اور رات " رسھ علمیھ دارلمعارف"میں بسر کی ۔ اگلی صبح 14 مرداد کو انہیں لاہور میں ایک نشریاتی ادارے کو انٹرویو دینا تھا اور اس کے بعد ایک بڑے اجتماع سے خطاب کے دوران ایک اہم مسئلے کو لوگوں کو بتانا چاہتے تھے ۔

اسی جمعہ کی صبح جب وہ نماز ادا کرنے کے بعد دوبارہ وضو کرنے کی غرض سے مدرسھ علمیھ دارلمعارف کی دوسری منزل کی طرف گۓ  وضو کرنے کے بعد جب وہ واپس سیڑھیاں اتر رہے تھے تو اسی دوران  نامعلوم دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بن گۓ ۔  گولی لگنے کے بعد جب وہ زمین پر گر رہے تھے تو ان کے منہ سے لا الھ الا اللہ کی فریاد بلند ہوئی ۔ ایک عینی شاھد کا کہنا ہے کہ :

" مجھے ابھی تک ان کے زمین پر گرنے کی وجہ معلوم نہ ہو پائی تھی ۔ میں دوڑ کر ان کے نزدیک ہوا تاکہ ان کو زمین سے اٹھاؤں لیکن جب میں نے انہیں زمین سے اٹھایا تو دیکھتا ہوں کہ ان کا سینہ اور منہ گولیوں کا نشانہ بن چکا ہے ۔ "

واقعہ کی اطلاع پر مدرسہ کے طالب علم موقع پر پہنچ گۓ ۔۔ شھید عارف حسین حسینی کے بیٹے سید علی اور سید محمد حسینی جو اسی رات کو اپنے والد کے ہمراہ پارا چنار سے پشاور آۓ تھے ، وہ بھی روتے ہوۓ اپنے والد کے خون  میں لت پت جسم کے قریب پہنچے ۔ انہیں فوری  طور پر طبی مرکز میں پہنچایا گیا مگر وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوۓ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔ بعد میں  میڈیکل تحقیقات سے پتہ چلا کہ ان پر چلائی جانے والی گولیاں زہریلی بھی تھی ۔ خدا انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرماۓ ۔ آمین !

 

پیشکش : شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان


متعلقہ تحریریں:

آیت اللہ العظمی مرعشی نجفی

آیة اللہ  شیخ ھادی معرفت