• صارفین کی تعداد :
  • 1089
  • 7/21/2010
  • تاريخ :

افغان مسئلے کا حل

منوچہر متکی
  ایران کے وزیر خارجہ نے کابل کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں غیر ملکی فوجیوں کی موجودگي سے نہ صرف اس ملک کی مشکلات ختم نہیں ہوئیں بلکہ اس میں مزید اضافہ ہوا ہے ۔ منوچہر متکی نے اس کانفرنس میں کہا ہے کہ افغانستان میں غیرملکی فوجیوں کی وجہ سے بدامنی اور منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے ۔

منوچہر متکی نے غربت و افلاس ،عوام کی ابتر صورتحال وسیع پیمانے پر افغان شہریوں کی مہاجرت کو بیرونی افواج کی موجودگی کا نتیجہ قرار دیا ہے ۔

افغانستان کے اقتصادی اور سلامتی کے مسائل کے حل کے لئے ایک کانفرنس آج کل کابل میں منعقد ہو رہی ہے جس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون سمیت دسیوں ممالک کے وزرائے خارجہ اور اہم حکام شرکت کر رہے ہیں ۔

ایران کے وزیر خارجہ نے اس اجلاس میں یہ بات زور دیکر کہی ہے کہ افغانستان کے سلامتی کے امور افغان باشندوں کے سپرد کئے جانے چاہیں اور افغانستان کے مسائل کو علاقائی تناظر میں حل کرنے کی ضرورت ہے ۔ منوچہر متکی کے مطابق افغانستان کے مسئلے کا حل جنگ اور فوجی ذریعے سے ممکن نہیں ہے ۔

افغانستان کے حوالے سے جو بات سب سے زيادہ اہم ہے وہ یہ ہے کہ افغانستان کے تاریخی ، سماجی اور ثقافتی پس منظر نیز اقتصادی صورتحال کے تناظر میں اس جنگ زدہ ملک کے مسائل کے حل کے لئے منصوبہ بندی کی جائے ۔امریکہ اور اسکے حواری گزشتہ نو سالوں سے افغانستان میں موجود ہیں ان کی فوجی موجودگي نے نہ صرف یہ کہ اس ملک میں سیاسی استحکام پیدا نہیں کیا بلکہ ان کی موجودگي کی وجہ سے افغانستان اور اردگرد کےممالک میں بھی دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے ۔

امریکہ اور نیٹو کی حمایت کی وجہ سے اس خطے میں قومی اور مذہبی اختلافات میں بھی اضافہ ہوا ہے اور اس وقت صرف افغانستان اور پاکستان ہی نہیں خطے کے دوسرے ممالک بھی امریکہ کی غلط پالیسیوں کے نتائج بھگت رہے ہیں ۔

یہی وجہ ہے کہ ایران شروع ہی سے افغانستان میں غیر ملکی افواج کی موجودگي کا مخالف تھا اور وہ افغان حکومت کی سیاسی، فوجی اور اقتصادی امداد کو افغان مسئلے کے حل میں ممد و معاون سمجھتا تھا ۔

بہرحال اسلامی جمہوریۂ ایران افغانستان کی تعمیر و ترقی کا خواہشمند ہے اور ایران کا یہ موقف ان ملکوں کو ہرگز پسند نہیں آئے گا جو افغانستان میں اپنے اہداف حاصل کرنے کےلئے سرگرم عمل ہیں ۔