• صارفین کی تعداد :
  • 2743
  • 7/28/2010
  • تاريخ :

غیبت كے زمانے میں وجود امام كی نامرئی شعاعیں مختلف اثرات ركھتی  ہیں

حضرت مھدی عجل اللہ فرجہ

1) اُمّید

میدان جنگ میں جاں نثار بہادر سپاھیوں كی كوشش یہ ھوتی ہے كہ كسی بھی صورت پرچم سرنگوں نہ ھونے پائے جبكہ دشمن كی پوری طاقت پرچم سرنگوں كرنے پر لگی رھتی  ہے كیونكہ جب تك پرچم لہراتا رھتا  ہے، سپاھیوں كی رگوں میں خون تازہ دوڑتا رھتا  ہے۔

اسی طرح مركز میں سردار لشكر كا وجود سردار خاموش ھی كیوں نہ ھو سپاھیوں كو نیا عزم اور حوصلہ عطا كرتا رھتا  ہے۔

اگر لشكر میں یہ خبر پھیل جائے كہ سردار قتل ھوگیا تو اچھا خاصا منظم لشكر متفرق ھو جاتا  ہے سپاھیوں كے حوصلے منجمد ھوجاتے  ہیں ۔

قوم شیعہ جس كا یہ عقیدہ  ہے كہ اس كے امام زندہ  ہیں، اگر چہ بظاھر امام نظر نہیں آتے ہیں، اس كے باوجود یہ قوم خود كو كبھی تنہا محسوس نہیں كرتی۔ اسے اس بات كا یقین كہ اس كا رھبر موجود  ہے جو ان كے امور سے واقف ہے ھر روز رھبر كی آمد كا انتظار رھتا ہے یہ انتظار قوم میں تعمیری جذبات كو بیدار ركھتا  ہے۔ ماھرین نفسیات اس حقیقت سے خوب واقف  ہیں  كہ انسان كے حق میں جس قدر "مایوسی" زھر ھلاھل  ہے اسی قدر "امید" تریاق، ہے۔

اگر رھبر كا كوئی خارجی وجود نہ ھو بلكہ لوگ اس كے تولد كا انتظار كر ر ہے  ہوں تو صورت حال كافی مختلف ھوجائے گی۔

اگر ایك بات كا اور اضافہ كردیا جائے تو بات كافی اھم ھوجائے گی اور وہ یہ كہ شیعہ روایات میں كافی مقدار میں اس بات كا تذكرہ ملتا  ہے كہ غیبت كے زمانے میں امام علیہ السلام اپنے ماننے والوں كی باقاعدہ حفاظت كرتے  ہیں ۔ ھر ھفتہ اُمّت كے سارے اعمال امام علیہ السلام كی خدمت میں پیش كردیے جاتے  ہیں ۔ 1

یہ عقیدہ ماننے والوں كو اس بات پر آمادہ كرتا  ہے كہ وہ ھمیشہ اپنے اعمال كا خیال ركهیں  كہ ان كا ھر عمل امام علیہ السلام كی نظر مبارك سے گزرے گا۔ لھٰذا اعمال ایسے  ہوں جو امام علیہ السلام كی بارگاہ اقدس كے لائق  ہوں جن سے امام خوش  ہوں۔ یہ طرز فكر كس قدر تعمیری  ہے اس سے كوئی بھی انكار نہیں كرسكتا۔

2) دین كی حفاظت

حضرت علی علیہ السلام نے ایك مختصر سے جملے میں امام كی ضرورت كو بیان فرمایا  ہے اور اس حقیقت كی طرف اشارہ كیا  ہے كہ زمین كسی بھی صورت میں الٰہی نمائندے سے خالی نہیں رہ سكتی  ہے۔ ارشاد فرماتے  ہیں :

اللھمّ بلیٰ لاتخلوا الارض من قائم للہ بحجّۃ اما ظاھراً مشھورا او خائفا مغمورا لئلا تبطل حجج اللہ وبیناتہ

ھاں واللہ زمین كبھی بھی الٰہی دلیل، قائم اور حجت خدا سے خالی نہیں رہ سكتی خواہ یہ حجت ظاھر و آشكارا ھو اور خواہ پوشیدہ و مخفی۔ تاكہ اللہ كی دلیلیں اور اس كی نشانیان ضائع نہ ھونے پائیں۔

ھر روز ھی شخصی نظریات كو مذھب كا رنگ دیا جا رھا  ہے خود غرض اور فتنہ پرداز افراد آسمانی تعلیمات كی حسب خواھش توضیح و تفسیر كر رہے  ہیں جس كی بنا پر اصلی اسلام میں اتنی خرافات شامل ھوگئی ہیں كہ ایك عام انسان كے لئے صحیح اسلام كی تلاش محال نہیں تو دشوار ضروری  ہے۔

وحی كے ذریعہ آسمان سے نازل شدہ آب حیات میں اجنبی نظریات كی آمیزش سے وہ تازگی اور بالیدگی نہ رھی جو صدر اسلام میں تھی۔ ایسی صورت میں ایك ایسے فرد كی موجودگی سخت ضروری ہے جس كے پاس آسمانی اسناد اپنی اصلی صورت میں  ہوں۔ اب كسی پر وحی تو نازل ھوگی نہیں۔ كیونكہ آنحضرت (ص) كی وفات كے بعد وحی كا سلسلہ منقطع ھوگیا لھٰذا اس زمانے میں بھی ایك معصوم فرد كا وجود لازمی  ہے جو اسلامی تعلیمات كا تحفظ كرسكے، جس كے پاس ھر طرح كی خرافات سے پاك صاف دین موجود ھو۔ اسی حقیقت كی طرف مولائے كائنات نے اشارہ فرمایا  ہے كہ "تاكہ اللہ كی دلیلیں اور نشانیاں ضائع نہ ھونے پائیں۔" اور اس طرح حقیقت كے متلاشی افراد حقیقت تك پہونچ سكیں اور ھدایت كے پیاسے سرچشمۂ ھدایت و حیات سے سیراب ھوسكیں۔

3) فداكاروں كی تربیت

بعض افراد كا خیال  ہے كہ غیبت كے زمانے میں امام (ع) كا كوئی تعلق عوام سے نہیں  ہے جبكہ حقیقت اس كے بالكل بر خلاف  ہے۔ اسلامی روایات میں اس حقیقت كی طرف اشارہ ملتا  ہے كہ غیبت كے زمانے میں بھی امام علیہ السلام سے ایك ایسے خاص گروہ كا رابطہ ضرور برقرار ر ہے گا جس كا ھر فرد عشق الٰہی سے سرشار، اخلاص كا پیكر، اعمال و اخلاق كی منھ بولتی تصویر اور دلوں میں عالم كی اصلاح كی تمنا لیے ھوئے  ہے اسی طریقے سے ان لوگوں كی رفتہ رفتہ تربیت ھو رھی  ہے، انقلابی امنگیں ان كی روح میں جذب ھوتی جا رھی  ہیں ۔

یہ لوگ اپنے علم و عمل اور تقویٰ و پرھیزگاری سے اتنی بلندی پر  ہیں  جہاں ان كے اور آفتابِ ھدایت كے درمیان كوئی حجاب نہیں  ہے حقیقت بھی یہی ہے اگر آفتاب بادلوں كی اوٹ میں چلا جائے تو اس كی زیارت كے لئے آفتاب كو نیچے كھینچا جا سكتا بلكہ خود بادلوں كو چیر كر اوپر نكلنا ھوگا تب آفتاب كا رخ دیكھ سكیں گے۔ گذشتہ صفحات میں ھم یہ حدیث نقل كر چكے ہیں  كہ پیغمبر اسلام (ص) نے غیبت كی مثال بادلوں میں چھپے ھوئے آفتاب سے دی  ہے۔

4) نامرئی تاثیر

ھم سب جانتے  ہیں  كہ سورج كی شعاعیں دو طرح كی ہیں، ایك وہ شعاعیں جو دكھائی دیتی ہیں اور دوسرے وہ جو دكھائی نہیں دیتی  ہیں ۔ اسی طرح آسمانی رھبر اور الٰہی نمائندے دو طرح عوام كی تربیت كرتے  ہیں ایك اپنے قول اور عمل كے ذریعے اور دوسرے اپنے روحانی اثرات كے ذریعے۔ اصطلاحی طور پر پہلے طریقے كو "تربیت تشعریعی" اور دوسرے طرز كو "تربیت تكوینی" كہا جاسكتا  ہے۔ دوسری صورت میں الفاظ و حروف نہیں ھوتے بلكہ جاذبیت اور كشش ھوتی ہے۔ ایك نگاہ اثر انداز سے روح و جسم میں انقلاب برپا ھو جاتا ہے۔ اس طرح كی تربیت كی بے شمار مثالیں اسلامی تاریخ كے صفحات پر جابجا نظر آتی  ہیں ۔ شاھد كے طور پر جناب زھرقین، جناب حر، جناب ابو بصیر كے پڑوسی (حكومت بنی امیہ كا سابق كارندہ)، قیدخانہ بغداد میں ھارون كی فرستادہ مغنیّہ …

5) مقصد تخلیق

كوئی بھی عقلمند بے مقصد قدم نہیں اٹھاتا  ہے۔ ھر وہ سفر جو علم و عقل كی روشنی میں طے كیا جائے اس كا ایك مقصد ضرور ھوگا۔ فرق صرف یہ  ہے كہ جب انسان كوئی با مقصد كام انجام دیتا ہے تو اس كا مقصد اپنی ضروریات پورا كرنا ھوتا  ہے لیكن جب خدا كوئی كام انجام دیتا  ہے تو اس میں بندوں كا فائدہ پوشیدہ ھوتا  ہے كیونكر خدا ھر چیز سے بے نیاز  ہے۔

اب ذرا اس مثال پر توجہ فرمائیے:

ایك زرخیز زمین میں ایك باغ لگایا جاتا  ہے جس میں طرح طرح كے پھل دار درخت اور رنگ برنگ كے خوشنما اور خوشبودار پھول  ہیں ، ان درختوں كے درمیان كچھ بیكار قسم كی گھاس بھی اُگی ھوئی  ہے۔ لیكن اس باغ كی آبیاری كی جائے گی تو گھاس كو بھی فائدہ پہونچے گا۔

ہاں دو مقصد سامنے آتے  ہیں :

اصلی مقصد: پھل دار درختوں كی اور پھولوں كی آبیاری،

ثانوی مقصد: گھاس كی آبیاری،

بغیر كسی شك و تردید كے یہ بات كہی جاسكتی  ہے كہ آبیاری كا سبب اصلی مقصد  ہے ثانوی مقصد نہیں۔

اگر اس باغ میں صرف ایك پھل دار درخت باقی رہ جائے جس سے تمام مقاصد پورے ھو رہے  ہوں، تب بھی آبیاری ھوتی رہے گی اور اس بنا پر كوئی عقل مند آبیاری سے دستبردار نہیں ھوگا كہ ایك درخت كی خاطر كتنی بیكار چیزیں سیراب ھو رھی  ہیں ۔ البتہ اگر باغ میں ایك درخت بھی نہ رہ جائے تو اس صورت میں آبیاری ایك بے مقصد كام ھوگا۔

یہ وسیع و عریض كائنات بھی ایك سر سبز و شاداب باغ كی مانند  ہے۔ انسان اس باغ كے درخت  ہیں ۔ وہ لوگ جو راہ راست پر گامزن  ہیں  اور روحانی و اخلاقی ارتقاء كی منزلیں طے كر رہے  ہیں، وہ اس باغ كے پھل دار درخت ہیں اور خوشبو دار پھول ہیں ۔ لیكن وہ افراد جو راہ راست سے منحرف ھوگئے اور جنهوں نے گناہ كی راہ اختیار كی، ارتقاء كے بجائے پستیوں میں گرتے چلے گئے، یہ لوگ اس باغ كی گھاس و غیرہ كہے جا سكتے  ہیں ۔

یہ چمكتا ھوا آفتاب، یہ نسیم جانفزا، یہ آسمان و زمین كی پے پناہ بركتیں، گناھگاروں اور ایك دوسرے سے دست و گریباں افراد كے لیے پیدا نہیں كی گئی  ہیں، بلكہ یہ ساری كائنات اور اس كی تمام نعمتیں خدا كے نیكو كار بندوں كے لئے پیدا كی گئی  ہیں  اور وہ دن ضرور آئے گا جب یہ كائنات ظالموں كے ھاتھ سے نكل كر صالحین كے اختیار میں ھوگی۔

ان الارض یرثھا عبادی الصالحون

یقیناً میرے صالح بندے اس زمین كے وارث  ہوں گے۔"

یہ صحیح  ہے كہ دنیا میں ھر طرف گناھگاروں اور خدا ناشناس افراد كی اكثریت  ہے لیكن كائنات كا حسنِ نظام بتا رھا  ہے كہ كوئی ایسی فرد ضرور موجود  ہے جس كی خاطر یہ دنیا سجی ھوئی  ہے۔ حدیث میں اس بات كی طرف ان الفاظ میں اشارہ كیا گیا  ہے:

بیمنہ رزق الوریٰ و بوجودہ ثبتت الارض والسماء

ان كی (حجت خدا كی) بركت سے لوگوں كو رزق ملتا  ہے اور ان كے وجود كی بنا پر زمین و آسمان قائم  ہیں ۔"

اسی بات كو خداوند عالم نے حدیث قدسی میں پیغمبر اسلام (ص) كو مخاطب كركے بیان فرمایا  ہے:

لولاك لما خلقت الافلاك

اگر آپ نہ ھوتے تو میں آسمانوں كو نہ پیدا كرتا۔"

زمانۂ غیبت میں وجود امام علیہ السلام كا ایك فائدہ اس كائنات ھستی كی بقاء بھی  ہے۔

وہ لوگ جو حقائق سے بہت دور  ہیں  وہ زمانۂ غیبت میں وجود امام (ع) كے لئے صرف شخصی فائدے كے قائل  ہیں  اور اس عقیدے كے سلسلے میں شیعوں پر طرح طرح كے اعتراضات كیا كرتے  ہیں  جبكہ وہ اس بات سے بالكل غافل  ہیں  كہ خود ان كا وجود امام علیہ السلام كے وجود كی بنا پر  ہے۔ یہ كائنات اس لئے قائم  ہے كہ امامِ قائم (عج) پردۂ غیبت میں موجود  ہیں  اگر امام نہ ھوتے تو نہ یہ دنیا ھوتی اور نہ اس دنیا كے بسنے والے

حوالہ جات :

1. یہ روایت تفسیر "برھان" میں اس آیہ كریمہ كے ذیل میں نقل ھوئی  ہے: وقل اعملوا فسیری اللہ عملكم ورسولہ والمومنون (سورۂ توبہ آیۃ 105).


متعلقہ تحریریں:

حضرت امام مہدی (ع) كے ظھور پر زندہ دلیلیں

انتظار اور فطرت