• صارفین کی تعداد :
  • 2746
  • 7/12/2010
  • تاريخ :

فارسی زبان سے ہمارا رشتہ

فارسی

فارسی  ایک شیرین اور زندہ زبان ہے ۔ دوسری زبانوں کی طرح یہ زبان بھی سلسلھ ارتقاء کی تمام کڑیوں سے گزری ہے اور تاریخی، سیاسی ، جغرافیائی اور علمی اثرات قبول کرکے دنیا کی سرمایہ دار زبانوں کی صف میں شمار ہوتی ہے ۔ اس کا تدریجی ارتقاء بالکل ایک طبیعی اور فطری امر ہے، نیز ہر قسم کے بےجا تصرّف اور تصنع سے پاک ہے ۔ فارسی کے نۓ الفاظ ، محاورات و اصلاحات کو دیکھ کر یہ کہنا کہ ایران میں فارسی زبان بالکل بدل چکی ہے کسی حد تک مبالغہ آمیز ہے ۔ البتہ یہ درست ہے کہ گذشتہ پچاس ساٹھ سال کے عرصے میں فارسی زبان کے ذخیرہ الفاظ میں اضافہ ہوا ہے۔ نۓ خیالات نے نۓ اسالیب بیان تلاش کیۓ ہیں ۔ پرانے الفاظ کی حسب ضرورت کاٹ چھانٹ کی گئی ہے ۔ بعض ثقیل عربی الفاظ کا استعمال کم کر دیا گیا ہے اور جدید علمی تحقیقات اور مغربی علوم کی مختلف کتابوں کے تراجم کے لیۓ بے شمار نئی اصلاحات وضع کی گئی ہیں ۔

ایرانیوں کی سیاسی بیداری اور انقلاب، مغربی ممالک سے ایرانی طلباء، اساتذہ، فضلاء اور تجّار کے روابط اور بیرونی سیاست اور سیاسی تحریکات کے اثر و نفوذ  کا یہ لازمی نتیجہ تھا کہ خیالات میں جدّت، افکار میں وسعت اور طرز بیان میں تنوع  پیدا ہو ۔ فارسی ادب میں جو تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں ان سے متعلق ہماری معلومات کم اور ہمارا مطالعہ اور نصاب تعلیم چند ایک قدیم ادبی  کتابوں تک محدود رہا ہے ۔ اس کی اہم وجہ یہ تھی کہ ہمارا ربط و تماس گذشتہ صدی میں ایرانی ادباء سے بہت ہی کم رہا نیز غیر شعوری طور پر برصغیر میں فارسی کو سنسکرت جیسی شکل اور مردہ زبان کی طرح پڑھایا جانے لگا ۔ سلطنت مغلیہ کے زوال اور استعمار خارجی کی وجہ سے فارسی زبان کی اہمیت ہندوستان میں ختم ہو گئی ۔ دفتری زبان کی جگہ فارسی کی بجاۓ انگریزی نے لے لی ۔ اھل زبان سے دو سو سالہ عدم تماس کے سبب ایرانی محاورہ اور روزمرہ سے ناآشنائی اور بعد کی ایک وسیع خلیج حائل ہو گئی ۔ بالآخر جب برصغیر کے دو ٹکڑے ہوۓ اور ایک مسلمان ریاست کا قیام عمل میں آیا تو ایک بار پھر سے ادبی اور ثقافتی لحاظ سے دو برادر ملکوں یعنی ایران اور پاکستان کے درمیان فاصلے کم ہو گۓ ۔ گذشتہ روابط کی تجدید ہوئی ۔ ھم نژاد ، ھم خون ، ھم کیش اور ھم جواد بھائی ایک دوسرے کے نزدیک آ گۓ ۔ چنانچہ  اب اس سیاسی انقلاب ، قرب اور تجدید روابط کا اثر ہمارے طرز تدریس اور فارسی نصاب پر ناگزیر ہے ۔

پیشکش : سید اسد ارسلان


متعلقہ تحریریں:

فارسی کا  ارتقاء

فارسی زبان کا گھر