• صارفین کی تعداد :
  • 2776
  • 7/2/2010
  • تاريخ :

ظھور كی خاص علامتیں

امام مہدی (عج)

یہ ایك حقیقت  ہے ك جب بھی كسی معاشرے میں انقلاب كے لئے زمین ھموار ھوتی  ہے تو غلط افوا  ہیں  پھیلانے والوں، فریب كاروں، حیلہ گروں اور جھوٹے دعوے داروں كی تعداد بڑھ جاتی  ہے۔ یہی لوگ ظالم اور فاسد نظام كے محافظ ھوتے  ہیں  ان كی كوشش یہ ھوتی  ہے كہ عوام كے جذبات، احساسات اور ان كے افكار سے غلط فائدہ اٹھایا جائے۔

یہ لوگ انقلاب كو بدنام كرنے كے لئے خود بھی بظاھر انقلابی بن جاتے  ہیں  اور انقلابی نعرے لگانے لگتے  ہیں  ایسے ھی لوگ انقلاب كی راہ میں سب سے بڑی ركاوٹ  ہیں ۔

یہ وہ دجال  ہیں  جن سے ھوشیار رھنے كے بارے میں ھر نبی نے اپنی امت سے نصیحت كی  ہے۔

حضرت مھدی (عج) كا انقلاب صحیح معنوں میں عالمی انقلاب ھوگا۔ اس عالمی انقلاب كے لیے عوام میں جس قدر آمادگی بڑھتی جائے گی جتنا وہ فكری طور س آمادہ ھوتے جائیں گے ویسے ویس دجّالوں كی سرگرمیاں بھی تیز ھوتی جائیں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔ تاكہ انقلاب كی راہ میں روڑے اٹكا سكیں۔

ھوسكتا  ہے كہ ان تمام دجالوں كی سربراھی ایك بڑے دجّال كے ھات ہوں میں ھو، اور اس دجال كی جو صفات بیان كی گئی  ہیں  وہ علامتی صفات  ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ علامہ مجلسی (رح) نے بحار الانوار میں ایك روایت امیر المومنین علیہ السلام سے نقل فرمائی  ہے جس میں دجال كی صفات كا ذكر  ہے وہ صفات یہ  ہیں :

1) اس كے صرف ایك آنكھ  ہے، یہ آنكھ پیشانی پر ستارۂ صبح كی طرح چمك رھی  ہے۔ یہ آنكھ اس قدر خون آلود  ہے گویا خون ھی سے بنی  ہے۔

2) اس كا خچر (سواری) سفید اور تیزرو  ہے، اس كا ایك قدم ایك میل كے برابر  ہے۔ وہ بہت تیز رفتاری سے زمین كا سفر طے كرے گا۔

3) وہ خدائی كا دعویٰ كرے گا۔ جس وقت اپنے دوستوں كو آواز دے گا تو ساری دنیا میں اس كی آواز سنی جائے گی۔

4) وہ دریاؤں میں ڈوب جائے گا۔ وہ سورج كے ساتھ سفر كرے گا، اس كے سامنے دھنویں كا پہاڑ ھوگا اور اس كی پشت پر سفید پہاڑ ھوگا۔ لوگ اسے غذائیں مواد تصور كریں گے۔

5) وہ جس وقت ظاھر ھوگا اس وقت لوگ قحط میں اور غذائی مواد كی قلت میں مبتلا  ہوں گے۔ 1

یہ بات اپنی جگہ صحیح  ہے كہ ھمیں یہ حق حاصل نہیں  ہے كہ ھم قرآن اور احادیث میں بیان شدہ مطالب كو "علامتی عنوان" قرار دیں كیونكہ یہ كام ایك طرح كی تفسیر بالرائے  ہے جس كی شدّت سے مخالفت كی گئی  ہے۔ لیكن یہ بھی صحیح نہیں  ہے كہ عقلی اور نقلی قرینوں كی موجودگی میں لفظ كے ظاھری مفھوم سے چپكے ر ہیں ۔

آخری زمانے كے بارے میں جو روایتیں وارد ھوئی  ہیں  ان میں "علامتی عنوان" بكثرت موجود  ہیں ۔

مثلا ایك روایت میں  ہے كہ اس وقت مغرب سے آفتاب آئے گا۔ اگر اس حدیث كے ظاھری معنی مراد لئے جائیں تو اس كی دو صورتیں  ہیں ۔ ایك یہ كہ آفتاب ایكا ایكی مغرب سے طلوع كرے تو اس صورت میں منظومہ شمسی كی حركت بالكل معكوس ھوجائے گی جس كے نتیجہ میں نظام كائنات درھم برھم ھوجائے گا۔ دوسرے یہ كہ آفتاب رفتہ رفتہ مغرب سے طلوع كرے۔ تو اس صورت میں رات دن اس قدت طولانی ھوجائیں گے جس سے نظام زندگی میں درھمی پیدا ھوجائے گی واضح ر ہے كہ یہ دونوں ھی معنی حدیث سے مراد نہیں  ہیں ۔ كیونكہ نظام درھم برھم ھونے كا تعلق سے  ہے آخری زمانے سے نہیں، جیسا كہ صعصعہ بن صوحان كی روایت كے آخری فقرے سے استفادہ ھوتا  ہے كہ یہ حدیث ایك علامتی عنوان  ہے امام زمانہ كے بارے میں۔

نزال بن سیدہ جو اس حدیث كے راوی  ہیں ، ان ہوں نے صعصعہ بن صوحان سے دریافت كیا كہ امیر المومنین علیہ السلام نے دجال كے بارے میں بیان كرنے كے بعد یہ كیوں ارشاد فرمایا كہ مجھ سے ان واقعات كے بارے میں نہ دریافت كرو جو اس كے بعد رونما  ہوں گے۔"

صعصعہ بن صوحان نے فرمایا:۔

جس كے پیچ ہے جناب عیسیٰ (ع) نماز ادا كریں گے وہ اھل بیت علیہم السلام كی بارھویں فرد ھوگا اور امام حسین علیہ السلام كی صلب میں نواں ھوگا۔ یہ وہ آفتاب  ہے جو اپنے كو مغرب سے طلوع كرے گا۔

لہٰذا یہ بات بہت ممكن  ہے كہ دجال كی صفات "علامتی عنوان" كی حیثیت ركھتی  ہوں جن كا تعلق كسی خاص فرد سے نہ ھو بلكہ ھر وہ شخص دجال ھوسكتا  ہے جو ان صفات كا حامل ھو یہ صفات مادی دنیا كے سر برا ہوں كی طرف بھی اشارہ كر رھی  ہیں ، كیونكہ:

1) ان لوگوں كی صرف ایك آنكھ  ہے، اور وہ  ہے مادی و اقتصادی آنكھ ۔ یہ لوگ دنیا كے تمام مسائل كو صرف اسی نگاہ سے دیكھتے  ہیں ۔ مادی مقاصد كے حصول كی خاطر جائز و ناجائز كے فرق كو یكسر بھول جاتے  ہیں ۔

ان كی یہی مادی آنكھ بہت زیادہ چمكدار  ہے، كیونكہ ان لوگوں نے صنعتی میدان میں چشم گیر ترقی كی  ہے۔ زمین كی حدوں سے باھر نكل گئے  ہیں ۔

2) تیز رفتار سواریاں ان كے اختیار میں  ہیں ۔ مختصر سی مدّت میں ساری دنیا كا چكّر لگا لیتے  ہیں ۔

3) یہ لوگ خدائی كے دعوے دار  ہیں ۔ كمزور اور غیر ترقی یافتہ ممالك كی قسمت سے كھیلنا اپنا فرض سمجھتے  ہیں ۔

4) جدید ترین آبدوزوں كے ذریعہ سمندر كی تہوں میں سورج كے ساتھ سفر كرتے  ہیں ، ان كی نگا ہوں كے سامنے دیو پیكر كارخانے، دھویں كا پہاڑ، اور ان كے پیچ ہے غذائی مواد كا انبار سفید پہاڑ، (جس كی عوام غذائی اشیاء تصور كرتے  ہیں ، جب كہ وہ صرف پیٹ بھراؤ چیزیں  ہیں ، ان میں غذائیت نہیں  ہے)۔

5) قحط، خشك سالی، استعماریت، جنگ كے لئے سرمایہ گذاری، اسلحہ كے كمرشكن مصارف قتل و غارت گری … ان چیزوں كی بنا پر غذائی اشیاء میں شدید قلت پیدا ھوجاتی  ہے جس كی وجہ سے بعض لوگ بھكمری كا شكار ھوجاتے  ہیں ۔

یہ حالات دجال كے منصوبہ بند پروگرام كا نتیجہ  ہیں  جس سے وہ حسب منشاء استفادہ اٹھاتا  ہے۔ كمزوروں، غریبوں اور زحمت كشوں كی امداد كے بہانے اپنے اقتدار كو استحكام عطا كرتا  ہے۔

بعض روایتوں میں  ہے ك دجّال كی سواری كے ھر بال سے مخصوص قسم كا ساز سنائی دے گا یہ روایت آج كل كی دنیا پر كس قدر منطبق ھو رھی  ہے كہ دنیا كے گوشہ گوشہ میں موسیقی كا جال بچھا ھوا  ہے كوئی گھر سازو آواز سے خالی نہیں  ہے۔

خواہ دجال ایك مخصوص شخص كا نام ھو، خواہ دجال كی صفات "علامتی عنوان" كی حیثیت ركھتی  ہوں، بہر حال عالمی انقلاب كے منتظر افراد، اور حضرت مھدی (عج) كے جانبازوں كی ذمہ داری  ہے كہ وہ دجال صفت افراد سے مرعوب نہ  ہوں اور ان كے دام فریب میں گرفتار  ہوں۔ انقلاب كے لئے زمین ھموار كرنے كے لئے ھر ممكن كوشش كرتے ر ہیں ، اور كسی وقت بھی ناكامی اور سستی كے احساس كو اپنے قریب نہ آنے دیں۔

حوالہ جات:

1.بحار الانوار ج52 ص192 صعصعہ بن صفوان كی حدیث سے اقتباس۔


متعلقہ تحریریں:

منتظِر اور منتظَر

صحیفہ مہدیہ