• صارفین کی تعداد :
  • 2461
  • 6/30/2010
  • تاريخ :

آیۃ اللّہ العظمی سید ابوالحسن اصفھانی کا علمی مقام

بسم الله الرحمن الرحیم

آیت اللہ اصفھانی شرعی مسائل اور دینی احكام كو درك كرنے اور استنباط كرنے میں بے انتھا فھم كے مالك تھے۔ ان كی یہ صفت علمی محفلوں میں علماء اور اھل دانش كے ورد زباں تھی كہ سید علمی مسائل میں نہایت دقیق اور عمیق ہیں ۔ ہر مسئلہ كے اطراف و جوانب میں ان كی گہری نظر اس بات كا باعث بنتی تھی كہ ایك موضوع میں مختلف نظریات پیش كریں اور فقہ كے پیچیدہ مسائل كی گھتیاں سلجھائیں ۔ ایك طولانی مدت تك ان كے درس میں چند ایك شاگرد حاضر ہوتے تھے لیكن میرزا محمد تقی شیرازی نے مرجعیت كا لقب دیا تو ان كا ہر طرف بول بالا ہوگیا اور دن بدن شاگردوں كی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا، یہاں تك كہ آیت للہ سید محمد كاظم یزدی (۱۳۳۷ق) كے انتقال كے بعد ان كا جلسہ درس اس زمانے كے لحاظ سے پر رونق ترین جلسہ ہوگیا ۔ 1

آیت اللہ میرزا محمد تقی شیرازی (۱۳۲۸ق) اور آیت اللہ شریعت اصفھانی ( ۱۳۳۹) كے انتقال كے بعد نجف كے بزرگ علماء میں سے تین افراد كو مرجع تقلید كے طور پر پیش كیا گیا: آیت اللہ كاشف الغطاء، آیت اللہ سید ابوالحسن اصفھانی اور آیت اللہ نائینی ۔ لیكن آیت اللہ كاشف الغطاء (۱۳۴۴ق) اور آیت اللہ نائینی كے سن (۱۳۵۵ق) میں رخصت ہونے كے بعد مقام مرجعیت آیت اللہ اصفھانی كے وجود تك منحصر ہوگیا اور دس سال تك یعنی زندگی كو الوداع كہتے دم تك اس مقام پر فائز  رہے ۔

قلمی آثار

آیت اللہ اصفھانی كی مشھور ترین كتاب فقہ كے موضوع میں (وسیلہ نجات) ہے۔ بہت سارے فقھاء اور مراجع كرام نے اس كتاب پر حاشیہ لگایا ہے اور اس كی شرحیں بھی لكھیں ہیں اور بعض فقھی كتابیں اسی كتاب كی سبك پر لكھی گئی ہیں منجملہ تحریر الوسیلہ ۔

آیت اللہ اصفھانی كی دوسری تالیفات :

1۔ شرح كفایۃ الاصول

2۔ ذخیرۃ الصالحین

3۔ انیس المقلدین ۔۔۔ 2

شاگرد

آیت اللہ اصفھانی كے درس میں بہت سارے علماء اور فضلاء شركت كرتے تھے جن میں سے بعض درج ذیل ہیں :

آیت اللہ سید محمود شاھرودی

آیت اللہ سید علی یثربی كاشانی

آیت اللہ محمد تقی آملی

آیت اللہ شیخ ھاشم آملی

آیت اللہ سید ابوالحسن شمس آبادی

آیت اللہ سید عبداللہ شیرازی

علامه محمد حسین طباطبائی تبریزی (صاحب تفسیر المیزان)

آیت اللہ میرزا مھدی آشتیانی

حوالہ جات:

1. علماء معاصرين ، خيابانى ، ص 193؛ اعيان الشيعة ، ج 2، ص 332.

2. مجله نور علم، همان ، ص 110.


متعلقہ تحریریں:

آیت اللہ علی صافی ـ حیات تا وصال

آیت اللہ فشارکی