• صارفین کی تعداد :
  • 3852
  • 6/27/2010
  • تاريخ :

بچوں کی نگہداشت کیسے کی جائے؟

بچیاں

بچے کی غذائی ضروریات کا خیال رکھنا ماں کا اولین فریضہ ہے۔ عام طور پر بچہ رو کر اپنی بھوک کا اظہار کرتا ہے اور اسے کسی مخصوص ٹائم ٹیبل کے مطابق غذا نہیں دی جا سکتی لہٰذا اس بارے میں ہر وقت محتاط رہیں۔ نومولود کی صفائی ستھرائی کا بھی خیال رکھیں کیونکہ صاف ستھرا بچہ ہی صحت مند رہتا ہے، بیمار ہونے کی صورت میں ڈاکٹر سے فوری مشورہ کریں تاہم پہلے کسی بزرگ سے بات کریں کیونکہ نانی یا دادی کے پاس اس حوالے سے مفید ٹوٹکے ہوتے ہیں۔

٭ ماں کی بھر پور توجہ بچے کیلئے از حد ضروری ہے، ماں دیکھ بھال کرنے والی ہو گی تو وہ بچے کی ضروریات کا ہمہ وقت خیال رکھے گی۔ زیادہ بہتر یہ ہے کہ ماں بچے کو اپنا دودھ پلائے اور کسی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہو تو ڈبے یا گائے اور بھینس کا دودھ استعمال کراتے ہوئے صفائی کا بہت زیادہ خیال رکھیں کہ فیڈر مناسب انداز سے گرم پانی میں ابال کر جراثیم سے پاک کریں اور دودھ پلانے کے فوری بعد فیڈر کو اچھی طرح دھو کر رکھے اور اس میں دودھ بچ گیا ہو تو اسے کسی برتن میں نکال لیا جائے۔ فیڈر کے نپل کو زیادہ پرانا نہ ہونے دیں اور اس میں چپچپاہٹ محسوس ہونے سے پہلے ہی تبدیل کردیں اور مکھیاں قطعی نہ لگنے دیں۔

٭ نومولود کی نگہداشت کیلئے ضروری ہے کہ ماں کو بچے کی چھوٹی چھوٹی تکلیف کا اچھی طرح علم ہو۔ چھوٹے بچوں میں پیٹ کا درد، اپھارہ اور دستوں کی بیماریاں عام ہیں جو کہ بے احتیاطی یا صفائی کے فقدان کے باعث ہو سکتی ہیں۔ پیٹ کے درد کی صورت میں چنے کے برابر جائفل پیس کر شہد میں ملائیں اور بچے کو چٹا دیں۔ سینہ جکڑنے کی صورت میں بھی یہی عمل دو سے تین مرتبہ دہرائیں۔ اگر پیٹ میں درد کا سبب دست ہیں تو جائفل کی بجائے سفید زیرہ بھون کر پیس لیں اور شہد کے ساتھ استعمال کرائیں۔ پہلی سردیاں بچوں کیلئے خاصی خطرناک ہوتی ہیں۔ لہٰذا ان سے بچاﺅ کیلئے دیسی انڈے کی زردی پھینٹ لیں۔ اور ایک چائے کا چمچ بھر کر پانچ اونس دودھ میں ملائیں۔ تین دن تک نہار منہ استعمال سے ٹھنڈ کا اثر نہیں ہو گا لیکن بچے کی عمر تین ماہ سے زائد ہو کیونکہ اس سے کم عمر بچے کیلئے انڈہ نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

٭چھوٹے بچوں کو جہاں تک ممکن ہو چوٹ سے بچائیں کیونکہ نوزائیدہ کیلئے ہلکی سی چوٹ بھی مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔ زیادہ بہتر ہو گا کہ بچہ پالنے یا جھولے میں آرام کرے جہاں سے گرنے کا اندیشہ نہیں ہوتا ہے۔ تاہم عام بستر پر لٹائیں تو دونوں اطراف تکیہ رکھ کر رکاوٹ لگا دیں تاکہ لڑھک کر نیچے گرنے کا احتمال نہ ہو۔ چھوٹے بچوں کو گود میں نہ دیں جو کہ اسے سنبھال نہ سکیں۔

بشکریہ آن لائن اردو ڈاٹ کام


متعلقہ تحریریں:

مردوں كے فرائض

شوہر داري يعنى شوہر كى نگہداشت اور ديكھ بھال